زندان میں ہی خوش رہو ، آباد تم رہو جاری ہوا ہے وقت کا فرماں ابھی ابھی

کچھ یوں کرو کہ آئے وہ مہماں ابھی ابھی
یا یہ کرو کہ جائے مری جاں ابھی ابھی

جھیلا ہے تجھ کو زندگی کچھ اِس یقین سے
ہونے لگی ہے جیسے تو آساں ابھی ابھی
Published from Blogger Prime Android App
پھر اُس کی یاد آئی بجھانے کے واسطے
ہم نے کیا تھا دل میں چراغاں ابھی ابھی

جانے مرے فراق پہ کیوں خوش ہے یہ جہاں
دیکھا ہے ہم نے غم کو بھی رقصاں ابھی ابھی

زندان میں ہی خوش رہو ، آباد تم رہو
جاری ہوا ہے وقت کا فرماں ابھی ابھی
                                                                                
اب حال ہم سے اس کا بھلا پوچھتے ہو کیا
پہلو کو جس نے دیکھا ہے ویراں ابھی ابھی

پوچھا جو اک خیال نے گر لوٹ آوں میں
بے ساختہ جواب تھا جاناں ابھی ابھی

اس کو ڈرا رہا ہے خزاں سے بھلا تو کیا
گلشن جو کر کے بیٹھا، بیاباں ابھی ابھی

جس میں قصیدے اس کے ، اسی کا بیان تھا
ابرک جلا دیا ہے وہ دیواں ابھی ابھی

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا