آج کل آم کے پودوں کی چھتری کے نیچے زمین کا لیول کچھ اُونچا کر کے پودوں کو صحت مند رکھا جانے کا رجحان اپنے عروج پر ہے۔

#آم_کے_پودوں_کے_ریز_بیڈز_بارے_بنیادی_معلومات
آج کل آم کے پودوں کی چھتری کے نیچے زمین کا لیول کچھ اُونچا کر کے پودوں کو صحت مند رکھا جانے کا رجحان اپنے عروج پر ہے۔ یہ ایک بہت ہی کارآمد طریقہ کار ہے۔ اس سے نہ صرف پودے صحت مند رہتے ہیں بلکہ بہت تیزی سے پروان چڑھتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے متعلق بہت سے دوستوں کو بنیادی معلومات درکار تھیں اور ذہن میں بہت سے سوالات بھی گردش کرتے ہیں جن کا جواب دینے کی کوشش اس پوسٹ میں کی گئی ہے۔ 
Published from Blogger Prime Android App
#ریز_بیڈز_سے_پودے_کیسے_خوشحال_رہ_پاتے_ہیں؟
ہم سب لوگوں نے اس بات کو نوٹ کیا ہوگا کہ وہ مٹی جو زمین پر ڈھیر کی شکل میں ہو  ساتھ والی مٹی سے جو زمین کے لیول کے برابر ہو قدرے بھُربھری اور نرم ہوتی ہے۔ (بشرطیکہ بہت بڑا ڈھیر نہ ہو) اسی طرح جب ہم آم کے پودوں کے نیچے زمین کا لیول کچھ اونچا کرتے ہیں 

وہ جگہ بھی نرم اور ہوا دار بن جاتی ہے۔ 
دوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ پودے اپنی خوراک اور پانی زمین سے اُسی وقت لے پاتے ہیں جب زمین وتر حالت میں ہو۔ 
جب ایسے باغ میں ہم آبپاشی کرتے ہیں جہاں پودوں کی چھتری کے نیچے زمین کا لیول نیچے ہو(ہمارے آم کے باغات میں عام طور پر ایسا ہی ہے) تو  زمین نہ صرف سخت ہوتی جاتی ہے بلکہ وتر حالت میں بھی بہت وقت گزرنے کے بعد آتی ہے۔ زمین کا سخت ہونا اور زیادہ وقت تَروتر میں رہنا جڑوں کے گلنے سڑنے کا باعث بنتا ہے۔ جیسے جیسے جڑیں گلتی رہتی 

ہیں ویسے ویسے پودا بیمار و کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ 
جب پودوں کی چھتری کی نیچے جگہ کو اونچا کیا جاتا ہے تب آبپاشی کرنے سے پانی رس رس کر جڑوں والی جگہ ملتا ہے جس سے زمین نہ صرف جلد وتر حالت میں آتی ہے بلکہ نرم بھی رہتی ہے جس میں جڑیں مضبوط، صحت مند رہتی ہیں۔ صحت مند جڑیں ہی زمین سے خوراک اور پانی کو اٹھا کر پودوں کو مہیا کر سکتی ہیں۔ جس سے پودا صحت مند رہتا ہے۔ ایک صحت مند پودا ہی نہ صرف بیماریوں کا اچھا مقابلہ کرتا ہے بلکہ بھرپور اچھی کوالٹی کی پیداوار دے پاتا ہے۔
#ریز_بیڈز_کب_کس_موسم_بنائے_جائیں؟

آم کے پودوں کے نیچے ریز بیڈز کسی بھی مہینے میں بنائے جا سکتے ہیں موسم/سیزن کی اس میں کوئی قید نہیں۔
#ریز_بیڈز_کی_چوڑائی_اور_اُونچائی_کتنی_رکھی_جائے؟
اس چیز کا انحصار زمین کی ساخت اور پودوں کی عمر پر ہے کہ ریز بیڈز کتنی چوڑائی کے ہوں۔ بیڈ کا پھیلاؤ اتنا رکھا جاتا ہے کہ جڑوں کا کٹاؤ نہ ہو اور جب بھی ہم آبپاشی کریں نمی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پکے وَٹ (سخت زمینوں) میں آم کے پودوں کی جڑیں تنے اور جہاں تک چھتری کا پھیلاؤ ہوتا ہے کہ درمیان تک ہوتی ہے۔ مطلب اگر تنے سے لیکر جہاں تک چھتری پھیلی ہے تک کا فاصلہ 8 فٹ ہے تب تنے سے 4 فٹ 
Published from Blogger Prime Android App
رداس بیڈ کا پھیلاؤ دائرہ کی شکل میں رکھا جائے گا۔ 
اگر زمین نرم ہیں تب چھتری جہاں تک پھیلی ہے وہاں تک ریز بیڈ بنایا جائے گا۔ 
پودے اگر چھوٹے ہیں 3 سال سے 6 سال تک کے تب پودوں کی لائنوں کے دونوں طرف ڈیڑھ فٹ گہری اور اتنی ہی چوڑائی کی نالیاں زمین کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے (سخت زمین میں چھتری کے درمیان اور نرم زمین میں جہاں چھتری کا اختتام ہے وہاں) نکال دیتے ہیں۔ 
#آبپاشی_کب_کریں؟
شروع میں جب نئے نئے ریز بیڈز بناتے ہیں یا پودوں کی لائنوں کے دونوں طرف نالیاں بناتے ہیں آبپاشی کا وقفہ بہت کم رکھا جاتاہے۔ خصوصاً جب پودوں کے دونوں طرف نالیاں بنائی جاتی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نالیوں میں جب پانی لگاتے ہیں پانی رس رس کر اس جگہ کو نمدار کرتا ہے۔ شروع میں نمی صرف سِروں سے تھوڑا ہی آگے تک پہنچتی ہے۔ کم وقفے سے دوبارہ پانی لگا کر مزید آگے بڑھا سکتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہو تو نمی جڑوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ ایک بار یہ نمی بیڈز کے درمیان تک پہنچ جائے اس کے بعد جب پودے کے نیچے دو تہائی زمین خشک وتر میں 

آجائے تب پانی لگائیں۔ 
#بیڈز_پر_ملچ_کرنا_ضروری_ہے؟؟؟
گرمیوں میں اپریل سے ستمبر تک بیڈز پر ملچ لازمی بچھائیں۔ اس سے نہ صرف نمی محفوظ رہتی ہے بلکہ کارآمد چھوٹے جاندار زمین کو زرخیز بناتے ہیں۔ مزید برآں نمی سٹور ہونے سے آبپاشی کا وقفہ بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔
#ریز_بیڈ_والے_پودوں_کو_کھاد_کس_جگہ_دیں
ایسے پودوں کو جب بھی کھاد دی جائے بیڈز بیرونی کناروں پر دیں گے۔ 
#کیا_تمام_پودوں_کو_ریز_بیڈز_پر_منتقل_کرنا_ضروری_ہے؟
کمزور اور چھوٹے پودوں کو لازمی منتقل کریں تاکہ پودے اپنی صحت بحال کریں اور تیز بڑھوتری کریں۔ البتہ بڑے صحت مند پودوں ریز بیڈز پر منتقل نہ کریں۔ تاہم ایسے پودوں کو مستقبل میں کمزور یا بیمار ہونے سے بچانے کے لیے اس طریقہ کار میں تھوڑی سی تبدیلی اس طرح کر لیں کہ بیڈز تنے سے آگے ڈھلوان نما ہوکر بتدریج اونچائی کم کرتے جائیں اور چھتری سے کافی اندر زمین کے لیول کے برابر ہو جائیں۔ 
#ریز_بیڈز_پر_پودوں_کو_منتقل_کرنے_کے_بعد_کیا_مسائل_درپیش_ہو_سکتے_ہیں؟
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک سیزن گزرنے کے بعد چوہے کافی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل باقاعدگی سے وزٹ کریں آور جہاں بھی کوئی بل نظر آئے المونیم فاسفیٹ کی گولیاں ان میں رکھ کر گھاس سے بل کا منہ بند کریں اور اچھی طرح جما کر مٹی لگا دیں۔ 
اسی طرح پھول نکلنے کے مرحلے پر مینگو میج (mango midge) کا کنٹرول کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم ملچز کو اس مرحلہ پر ہٹا کر ہلکی گوڈی اور کیڑے مار ادویات کے سپرے سے اسے بھی کنٹرول کیا جا سکتا 

ہے۔ 
#کیا_ریز_بیڈز_مسقل_رکھنا_ہوگے_یا_پودے_کے_صحت_مند_پر_ختم_کر_دینا_ہوگا؟
عام طور پر ان کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ڈیڑھ دو سال میں یہ مٹی بٹھتی جاتی۔ دوسرے کافی ساری جڑیں ان بیڈز میں بن جاتی جو کہ مٹی ہٹانے کی صورت میں کٹاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اسی جو نالیاں بنائی جاتی ہیں وہ بھی بتدریج مٹی سے بھرتی جاتی ہیں انکو  ختم کر سکتے ہیں۔ 
البتہ چھوٹے پودوں کے ریز بیڈز یا نالیاں جو بھی بنائی پودے کے نیچے اس ریز بیڈ کی چوڑائی کو لازمی بڑھائیں کیونکہ جیسے جیسے پودا بڑا ہوگا اس کی جڑیں بھی پھیلتی ہیں۔ 
#ریز_بیڈز_بنانے_سے_میرا_پودا_مزید_کمزور_ہوگیا_ہے_اور_سوکھتا_جا_رہا_ہے_اس_کی_کیا_وجہ_ہے؟
بیڈز کی چوڑائی پر نظر ثانی کریں ممکن ہے کہ اس کی چوڑائی اتنی زیادہ ہے کہ نمی جڑوں تک نہ پہنچ پا رہی ہو۔۔

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا