_*شوہر بھی بیوی کی توجہ چاہتا ہے*_  *🌹غصہ مرد کی فطرت میں شامل ہے۔۔* *شوہر بھی بیوی کی توجہ چاہتا ہے اسکا بھی دل کرتا ہے کہ جب میں کام سے آؤں تو میری بیوی تیار هو.



_*شوہر بھی بیوی کی توجہ چاہتا ہے*_ 

غصہ مرد کی فطرت میں شامل ہے۔۔*
*شوہر بھی بیوی کی توجہ چاہتا ہے اسکا بھی دل کرتا ہے کہ جب میں کام سے آؤں تو میری بیوی تیار ہوئے چہرے پر مسکان سجائے میرا انتظار کر رہی ہو میں اسے دیکھوں اور میری تھکن اتر جائے میرے چہرے پر مسکراہٹ آجائے لیکن ہمارے معاشرے کے اکثر گھروں میں معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے شوہر دن بھر کام سے تھکا ہارا گھر پہنچتا ہے.
Published from Blogger Prime Android App
تو بیوی صبح والا منہ بکھرے بال بوسیدہ لباس پہنے شوہر کے سامنے چلی جاتی ہے وہ شوہر کی مسکراہٹ والی امید مایوسی میں بدل جاتی ہے پھر بیوی شوہر کے سامنے پورے دن کے چٹھے کہانیاں کھول کر بیٹھ جاتی ہے کہ آج آپ کی امی نے یہ کہا آپ کی بہن نے ایسا کیا مجھے فلاں چیز کی ضرورت ہے مجھے فلاں جگہ جانا ہے.

 موٹر خراب ہوگئی استری جل گئی وغیرہ وغیرہ یعنی شوہر کے آتے ہی شکایتی یا فرمائشی پروگرام شروع ہوجاتے ہیں اور بیوی کے اسی رویہ کو دیکھ کر شوہر آہستہ آہستہ بدظن ہونا شروع ہوجاتا ہے۔۔۔
*اب چند خواتین کے ذہن میں آئے گا کہ شاید میں غلط بات کر رہی ہوں۔

*
 *آخر بیوی اپنی شکایات شوہر سے نا کرے تو پھر کس سے کرے؟۔۔*
*بالکل شوہر سے اپنے متعلق باتیں کرنی چاہیے شوہر کو اپنی پریشانیاں بتانی چاہیے لیکن جب شوہر مکمل آرام و سکون میں آجائے تو اس وقت اپنی شکایات و پریشانیاں شوہر سے ذکر کی جائیں شوہر کے گھر میں آتے ہی یہاں وہاں کی لیکر بیٹھ جانا شوہر کے لیے نہایت تکلیف کا باعث بنتا ہے بیوی کو چاہیے وہ شوہر کے آنے سے پہلے خود کو سنوار لے شوہر گھر 

آجائے تو اس کے لیے پانی پیش کرے اسکے پاس بیٹھے تھوڑی دل لگی کی باتیں کرے اس سے شوہر ایک دم فریش ہوجاتا ہے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے دن بھر کی تھکن ختم ہوجاتی ہے گویا ایک بار شوہر سکون میں آجائے تو پھر ہزار دل کی باتیں کی جائیں ہر بات دل سے سنی جائے گی اور جواب بھی دل سے دیا جائے گا۔۔*
*شوہر کماتا ہی اپنے بیوی بچوں کے لیے ہے اب شوہر آفس میں پورا دن یہ کام وہ کام اِسکی باتیں اُسکی باتیں یعنی شوہر ذہنی و جسمانی اعتبار سے تھک جاتا ہے اور ایسے میں سکون کے لیے گھر آئے اور بیوی الگ شروع ہوجائے تو شدید مایوسی ہوتی ہے .

اگر کوئی بیوی شوہر کی مایوسی کا ذریعہ بنتی ہے تو نا صرف شوہر کی ناراضگی بلکہ گناہ کبیرہ کی بھی مرتکب ہوتی ہے اگر کوئی بیوی اپنے شوہر کے سکون لیے جتن کرتی ہے تو نا صرف شوہر خوش ہوتا ہے بلکہ ایسی بیوی کے لیے بے حد اجر و ثواب بھی لکھا جاتا ہے۔۔*
*اسی طرح اگر کوئی شوہر رات اپنی بیوی کو پکارتا ہے تو بیوی کے اوپر فرض ہے کہ اپنے خاوند کی پکار پر لبیک کہے۔۔
*ایسا نا ہو کہ آج تھکی ہوئی ہوں نیند زیادہ آرہی ہے صبح جلدی اٹھنا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔*
*ایک حدیث نبویﷺ میں تو یہاں تک آیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ اگر تمہارا شوہر تمہیں پکارتا ہے تو تم اسکے پاس چلی جاؤ چاہے تم روٹی بنا رہی ہو۔۔*
*اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد نبویﷺ ہے جس کا مفہوم ہے  کہ اگر کسی بیوی کا شوہر اس سے ناراض ہو اور وہ بیوی پوری رات ذکر و اذکار و عبادات میں گزار دے تو اسکا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا۔۔*
*لہٰذا بیوی کو شوہر کی پکار پر لبیک کہنا چاہیے .

اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو گناہ کبیرہ مرتکب ٹھہرے گی لیکن یہاں مرد کو بھی تھوڑا ذمہ دار ہونا چاہیے کہ بیوی کے حال کو سامنے رکھے اگر بیوی بہت زیادہ تھکی ہوئی ہے نیند کا غلبہ ہے سر میں درد یا کسی بھی حوالے سے طبعیت ناساز ہے تو بیوی کے آرام کو ترجیح دی جائے ایسی صورت 

میں بیوی سے خواہش کا سوال کرنا درست نہیں ہے۔۔*
*ایک سب سے اہم بات کہ آج کل اکثر و بیشتر خواتین شوہر کے غصے کو برداشت نہیں کرتی شوہر کسی بات پر غصہ ہوجائے تو فوراً منہ پر جواب دیتی ہے بدتمیزی پر اتر آتی ہے جس سے معاملات بہت زیادہ خراب ہوجاتے ہیں۔۔*
*مرد غصہ بازار سے نہیں خریدتا مرد کے اندر غصہ قدرتی ہوتا ہے غصہ مرد کی فطرت میں شامل ہے ایک بیوی لاکھ کوشش کرلے وہ شوہر کے غصے کو ختم نہیں کرسکتی البتہ کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے لہٰذا اگر شوہر کسی بات پر غصہ ہوجائے .

تو مکمل خاموشی اختیار کی جائے چاہے بیوی غلطی پر تھی یا نہیں تھی اگر غلطی پر تھی تو معافی مانگ لی جائے اور اگر غلطی نہیں تھی تو بعد میں شوہر کو تفصیلی بات سے آگاہ کردیا جائے یہ ایک خوب سیرت بیوی کی علامت ہے غصے کے وقت مکمل خاموشی شوہر کے دل میں عزت بڑھائے گا اور اس بیوی کے لیے بے حد اجر و ثواب کا باعث بنے گا۔۔*
*یہ چند ایک باتیں تھیں کہ جن پر عمل کرکے ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے بہت سے مسائل کو ختم کیا جاسکتا ہے۔۔*

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا