مسلسل وار کرنے پر بھی ذرہ بھر نہیں ٹوٹا میں پتھر ہو گیا لیکن ترا خنجر نہیں ٹوٹا
مسلسل وار کرنے پر بھی ذرہ بھر نہیں ٹوٹا
میں پتھر ہو گیا لیکن ترا خنجر نہیں ٹوٹا
ترے ٹکرے مری کھڑکی کے شیشوں سے زیادہ ہیں
نصیب اچھا ہے میرا تو مرے اندر نہیں ٹوٹا
مجھے برباد کرنے تک ہی اُس کے آستاں ٹوٹے
مرا دل ٹوٹنے کے بعد اُس کا گھر نہیں ٹوٹا
طلسم ِ یار میں جب بھی کمی آئی، نمی آئی
اُن آنکھوں میں جنہیں لگتا تھا جادوگر نہیں ٹوٹا
سروں پر آسماں ہاتھوں سے آئینے نظر سے دل
بہت کچھ ٹوٹ سکتا تھا بہت کچھ پر نہیں ٹوٹا
ہم اُس کا غم بھلا قسمت پہ کیسے ٹال سکتے ہیں
ہمارے ہاتھ میں ٹوٹا ہے وہ گر کر نہیں ٹوٹا
تیرے بھیجے ہوئے تیشوں کی دھاریں تیز تھیں حافی
مگر ان سے یہ کوہ ِ غم زیادہ تر نہیں ٹوٹا
.تہذیب حافی
نہیں تھا اپنا مگر پھر بھی اپنا اپنا لگا
کسی سے مل کر بہت دیر بعد اچھا لگا
تمہیں لگا تھا میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر
بتاؤ پھر تمہیں میرا مزاق کیسا لگا
تجوریوں پے نظر اور لوگ رکھتے ہیں
میں آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا
مسلسل وار کرنے پر بھی ذرا بھر نہیں ٹوٹا
میں پتھر ہو گیا ہوں پھر بھی تیرا خنجر نہیں ٹوٹا
تیرے ٹکڑے میری کھڑکی کے شیشوں سے زیادہ ہیں
خدا کا شکر ہے کے تُو میرے اندر نہیں ٹوٹا
تہذیب حافی ۔
Comments
Post a Comment