باندھ لیں ہاتھ پہ __ سینے پہ سجا لیں تم کو جی میں آتا ہے کہ __ تعویذ بنا لیں تم کو
کتاب آنکھیں، فسانہ چہرہ، غزل نگاہیں، حسین مکھڑا
ردیف رنگت ، قوافی زلفیں، ہنسی سفینہ، نگین مکھڑا
رباب بندش، بدن قصیدہ، گریز جوبن، بہار فتنہ
شباب مصرعہ، جمال مطلع، قتال مقطع، متین مکھڑا
کمال لہجہ، نفیس باتیں، وقار فقرے، بلند آہنگ
سلگتی قربت، پگھلتا نخرہ، ادائیں قاتل، معین مکھڑا
فصیح ابرو، بلیغ پلکیں، سلاسی زلفیں، ثقیل جُوڑا
ذقن لطیفی ،نظر رموزی، حسن رباعی، فطین مکھڑا
بیاں شگفتہ، خیال سادہ، مزاج منطق، سلیس جملے
سراپا سخنی ، لطیف جسمی، وجود نظمی ، سبین مکھڑا
جمیل مکھڑا، نظیر مکھڑا، عقیق مکھڑا، عتیق مکھڑا
نسیم مکھڑا، رفیق مکھڑا، عظیم مکھڑا، مبین مکھڑا
آفتاب شاہ

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو
کسے زندگی ہے عزیز اب کسے آرزوئے شب طرب
مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو
کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو
یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو
یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو
سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدو تو فرازؔ تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو
احمد فراز

باندھ لیں ہاتھ پہ __ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ __ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں __ تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں __ چنبیلی سا لگا لیں تم کو
جیسے بالوں میں کوئی __ پھول چنا کرتا ہے
گھر کے گلدان میں __ پھولوں سا سجا لیں تم کو
کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں _ ہمارے دل میں
کر کے منا سا __ ہواؤں میں اچھالیں تم کو
اس قدر ٹوٹ کے __ تم پہ ہمیں پیار آتا ہے
اپنی بانہوں میں بھریں __ مار ہی ڈالیں تم کو
کبھی خوابوں کی طرح _ آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح __ دل میں بلا لیں تم کو
ہے تمہارے لیے کچھ __ ایسی عقیدت دل میں
اپنے ہاتھوں میں __ دعاؤں سا اٹھا لیں تم کو
جان دینے کی اجازت بھی __ نہیں دیتے ہو
ورنہ مر جائیں ابھی __ مر کے منا لیں تم کو
جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور
اپنے تاریک مکانوں میں ___ سجا لیں تم کو
اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم
ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ __ ہم سنبھالیں تم کو
Comments
Post a Comment