عالم نے اداسی کی چادر اوڑھ لی منظر بے بسی پر نوحہ کناں تھے آسمان نے ماتھے پہ سیاہ بادلوں کی

تیری جدائی کی خبر سنی تو__!!،

عالم نے اداسی کی چادر اوڑھ لی
منظر بے بسی پر نوحہ کناں تھے
آسمان نے ماتھے پہ سیاہ بادلوں کی
پٹیاں باندھ لیں
پیڑ مرجھا گئے
کوئل کی کوک میں
رنج و الم کے قصیدے گونجنے لگے
راہ میں پڑے
پتوں کی سرسراہٹ نے
ہائے ہائے کا ماتم کیا

تو سوچو جاناں__!!
مجھ پہ کیا قیامت بیتی ہو گی۔۔

Published from Blogger Prime Android App
چَلو اَب لَوٹ آؤ تُم
سُنو تُم نے کَہا تھا نا۔۔۔!
مُجھے جَذبہ مُحَبّت سے کَبھی جَو تُم پُکارَو گے
میں اُس دِن لَوٹ آؤں گا✨
تَو دَیکَھو نا
کَئی لَمحُوں
کَئی سالُوں
کئی صَدِیُوں
سے تَیرا رَستہ تَکتی
یہ مَیری مُنتظِر آنکَھیں😢
مَیرے دِل کی یہ دَھڑکَن اَور سانسَیں
بَس تُمہارا نام لَیتی ہیں❤️
وَہی اِک وِرد کَرتی ہیں
مَیری آنکُھوں کے ساحِل پَر
تَیری خَواہِش کی مَوجُوں نے
بَڑی ہَلچَل مَچائی ہے
تَیری تَصوِیر،سُوکھے پُھول اَور تحفے
تَیری چاہَت کی خُوشبُو میں
اَبھی تَک سانس لَیتے ہیں🥀
وہ سَب رَستے کہ جِن پَر تُم ہَمارے ساتھ چَلتے تھے
وہ سَب رَستے جَہاں تَیری ہَنسی کے پُھول کِھلتے تھے
جَہاں پَیڑُوں کی شاخُوں پَر
ہَم اَپنا نام لِکھتے تھے🖤
اُداسی سے بَھرے مَنظَر
تُمہارے لَوٹ کَر آنے کی اُمِیدَیں دِلاتے ہیں
سُنو کُچھ بھی نَہیں بَدلا
تُمہارے پاؤں کی آواز سُننے کی
مَیرے کَمرے کی بے تَرتِیب چِیزَیں مُنتظِر ہیں
سُنو !
تَکمِیل پاتی چاہتُوں کَو یُوں اَدھُورا تَو نَہیں چَھوڑَو
مُجھے مَت آزماؤ تمُ
چَلو اَب لَوٹ آؤ تُم

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا