هوا کا جھونکا نہ کوئی آہٹ کسی طرف سے میں خُوش گُمانی میں مُبتلا تھا تری طرف سے
ہَوا کا جھونکا نہ کوئی آہٹ کسی طرف سے
میں خُوش گُمانی میں مُبتلا تھا تری طرف سے
تُجھے پتہ ہے؟ صَدائیں آتی ہیں مُجھکو شب بھر
تو جِس جگہ پر جُدا ﮨُوا تھا ، اُسی طرف سے
فیصل محمود

اپنے نشان دل سے مٹا کر نہیں گیا
جاتے ہوئے مجھے وہ بتا کر نہیں گیا
یہ جھوٹ تھا کہ میری طبعیت خراب ہے
دفتر کسی کی باتوں میں آ کر نہیں گیا
یہ کس خوشی میں دل سے دعائیں نکلتی ہیں
اپنا وہ کوئی وعدہ نبھا کر نہیں گیا
میں چاہتا تھا مجھ پہ وہ پوری طرح کھلے
تالا دراز کو میں لگا کر نہیں گیا
اپنے کیے پہ اِتنی ندامت ہوئی اُسے
اپنا غرور بھی وہ اُٹھا کر نہیں گیا
محبوب کیا ہوا ہے جو آئے نہیں ابھی
میں تھوڑی دیر پہلے بلا کر نہیں گیا۔۔
خالد محبوب
تازہ غزل
سر پھوڑنا مزاج میں تقدیر سے سہی
دیوار گر گئی ہے تو تصویر سے سہی
جاؤں گا اسکے پاس میں سینہ شگافتہ
بھرپائی ہونی چاہیے دلگیر سے سہی
کیوں وقت چاہیے تجھے انکار کے لئے؟
ہونا تو انہدام ہے ، تعمیر سے سہی
محبوب اگر قریب نہیں ہے تو کیا ہوا ؟
مایوس ہی تو ہونا ہے تاخیر سے سہی
ادراکِ حکم و حاکم و محکوم شرط ہے
تیری شکست سے نہ ہو ، تسخیر سے سہی
جاری رہے روایتِ عشق و ملال و ہجر
رانجھا رہے رہے نہ رہے ہیر سے سہی
کچھ سیکھنا تو ہے کسی استاد سے تمھیں
مژدم نہیں تو میر تقی میر سے سہی
مژدم خان
Comments
Post a Comment