پرانے زمانے میں ایک گاؤں تھا جہاں کے کنویں پر ایک دن ایک عجیب سا واقعہ رونما ہوا۔

*🌹 سبق آموز تحریر 🌹*

*✨ خون کے رشتے!*

```پرانے زمانے میں ایک گاؤں تھا جہاں کے کنویں پر ایک دن ایک عجیب سا واقعہ رونما ہوا۔ ماجرا کچھ یوں تھا کہ جو ڈول بھی کنوئیں میں ڈالا جاتا پانی نکالنے کیلئے تو ڈول واپس نہ آتا تھا اور صرف رسی واپس آجاتی. 
Published from Blogger Prime Android App
گاؤں کے سارے لوگ پریشان اور خوفزدہ تھے کہ اخر یہ ہو کیا رہا ہے اندر کوئی جن جنات ضرور ہے جو ایسا کر رہے ہیں. بالآخر یہ اعلان کیا گیا کہ جو بھی اس راز کا پتہ لگائے گا کہ یہ پانی کی ڈول واپس کیوں نہیں آتی تو اس شخص کو اس کام کا بھرپور انعام دیا جائے گا۔

ایک نوجوان نے کہا کہ مجھے انعام کی کوئی لالچ نہیں میں یہ کام گاؤں کے لوگوں کو اس مصیبت سے نکالنے کیلئے کر رہا ہوں اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس راز کا پتہ لگاوں گا مگر میری ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ میں کنوئیں میں اسی صورت اتروں گا جب رسا پکڑنے والوں میں میرا بھائی بھی شامل ہو۔

گاؤں والوں نے اس کے بھائی کو جلدی جلدی بلا لیا. ڈول کو ایک بار پھر رسی سے باندھ دیا گیا اور اس نوجوان کو اس ڈول میں بٹھا کر ڈول کو کنوئیں میں اتارا گیا۔

جب وہ نوجوان کنوئیں میں اتر گیا تو اس نے دیکھا کہ کنوئیں میں ایک بہت شرارتی قسم کا بندر بیٹھا ہوا ہے جو ڈول سے رسی کھول دیتا ہے۔ اس نوجوان نے اپنی جیب کو چیک کیا تو اس کو گڑ مل گیا اس نے جلدی سے وہ گڑ بندر کو دیا یوں بندر اس نوجوان سے مانوس ہوگیا۔ 

نوجوان نے اس بندر کو کندھے پر بیٹھایا اور نیچے سے زور زور رسے کو ہلا تاکہ اوپر کے لوگ رسا کھینچ کر اس نوجوان کو اوپر لے آئے۔

گاؤں والوں نے رسا کھینچنا شروع کیا اور جونہی ڈول اندھیرے سے روشنی میں آیا تو گاؤں کے لوگ بندر کو دیکھ کر جو نوجوان کے کندھے پر بیٹھا تھا بہت خوفزدہ ہوگئے کہ یہ کوئی عفریت ہے جس نے اس نوجوان کو کھا لیا ہے اور اب اوپر چڑھ کر سب گاؤں والوں کو بھی کھا لیں گے. 

سب لوگ رسا چھوڑ کر سرپٹ اپنے آپ کو بچانے کے لئے بھاگے مگر اس نوجوان کا بھائی رسے کو مضبوطی سے تھامے اوپر کھینچنے کی کوشش کرتا رہا اور آخر کار اس نے اپنے بھائی کو کنوئیں سے بحفاظت نکال دیا۔

اس نوجوان نے لوگوں کو اس بندر کی شرارت کے بارے میں بتایا. پھر کہا کہ میں نے اسی لئے اپنے بھائی کی شرط رکھی تھی کہ اگر میرے ساتھ کنوئیں میں کوئی ان ہونی ہوگئی تو تم لوگ سب بھاگ نکلو گے جبکہ میرا بھائی ایسا نہیں کرے گا اس کو خون کی محبت روکے رکھے گی۔

یاد رکھیں کوئی لاکھ اچھائی کرے مگر خونی رشتے آخر کار خون کے رشتے ہی ہوتے ہیں ان کی قدر کریں۔

آجکل کے لوگ اپنے سگے بھائی سے ملنا گوارا نہیں کرتے لیکن دوستوں کے بغیر ایک پل نہیں گزار سکتے۔

اپنے والد کا حکم نہیں مانتے لیکن دوستوں کی عرض بھی اُن کے لیے حکم ہوتی ہے۔

بیشک دوست بنائیں لیکن اپنے والدین اپنے بھائی اور اپنے خون کے رشتے دوستوں پر مقدم رکھیں۔```
🌹اچھی اچھی باتیں 🌹

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا