شوق کا رنگ بُجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے کیا میری فصل ہو چُکی کیا میرے دن گُزر گئے
شوق کا رنگ بُجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے
کیا میری فصل ہو چُکی کیا میرے دن گُزر گئے
راہگُزرِ خیال میں دوش بدوش تھے جو لوگ
وقت کے گردباد میں جانے کہاں بکھر گئے
شام ہے کتنی بے تپاک شہر ہے کتنا سہم ناک
ہم نفسو کہاں ہو تم جانے یہ سب کدھر گئے
پاس حیات کا خیال ہم کو بہت برا لگا
پس بہ ہجوم معرکہ جان کے بے سپر گئے
میں تو صفوں کے درمیان کب سے پڑا ہوں نیم جاں
میرے تمام جاں نثار میرے لئے تو مر گئے
شاہد روز واقعہ صورت ماجرا ہے کیا
کتنے جتھے بکھر گئے، کتنے ہجوم مر گئے
رونقِ بزمِ زندگی طُرفہ ہیں تیرے لوگ بھی
اک تو کبھی نہ آئے تھے، گئے تو رُوٹھ کر گئے
خوش نفسانِ بےنوا، بے خبرانِ خوش ادا
تِیرہ نصیب تھے مگر شہر میں نام کر گئے
آپ بھی جون ایلیا سوچئے اب دھرا ہے کیا
آپ بھی اب سدھاریئے آپ کے چارہ گر گئے
آج کی شام ہے عجیب کوئی نہیں میرے قریب
آج سب اپنے گھر رہے آج سب اپنے گھر گئے
خواب طلائی خیال، دل کا زیاں تھا اور ملال
ہوش کے باوجود ہم خواب و خیال پر گئے
سمت زمردینِ دل، خود سے ہے کیا بہت خجل
ہم جو گمان زرد میں گھر سے گئے نہ گھر گئے
تھا جو نفس نفس کارن اس میں تھی شورش بزن
زخم بغیر واں سے ہم خون میں تر بہ تر گئے
جون ایلیا

بند باہر سے مری ذات کا دَر ہے مجھ میں
میں نہیں خود میں، یہ اِک عام خبر ہے مجھ میں
اک عجب آمد و شُد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ، برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
ہے مری عمر جو حیران تماشائی ہے
اور اک لمحہ ہے جو زیر و زبر ہے مجھ میں
کیا ترستا ہوں کہ باہر کے کسی کام آئے
وہ اک انبوہ کہ بس خاک بسر ہے مجھ میں
ڈوبنے والوں کے دریا مجھے پایاب ملے
اس میں اب ڈوب رہا ہوں جو بھنور ہے مجھ میں
در و دیوار تو باہر کے ہیں ڈھینے والے
چاہے رہتا نہیں میں، پر مرا گھر ہے مجھ میں
میں جو پیکار میں اندر کی ہوں بے تیغ و زِرہ
آخرش کون ہے جو سینہ سِپر ہے مجھ میں
معرکہ گرم ہے بے طور سا کوئی ہر دم
نہ کوئی تیغ سلامت، نہ سپر ہے مجھ میں
زخم ہا زخم ہوں اور کوئی نہیں خوں کا نشاں
کون ہے وہ جو مرے خون میں تر ہے مجھ میں
جون ایلیا
Comments
Post a Comment