امام ابو عبدُ اللہ محمد بن ادریس شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  دوسری صدی ہجری کے عظیم امام اور عالی شان مجتہد تھے،

📝 طاہر ظفر جامعہ المدینہ فیضان بخاری کھارادر کراچی
26/1/2023
 4 رجب المرجب یوم عرس امام شافعی رحمہ اللہ علیہ 


*{امام شافعی کا تعارف}*
امام ابو عبدُ اللہ محمد بن ادریس شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  دوسری صدی ہجری کے عظیم امام اور عالی شان مجتہد تھے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کا نسب مبارک عبدِ مناف پر جا کر نبیِ کریم رؤفٌ رَّحیم ﷺ کے نسب مُبارک سے جا ملتا ہے۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  150 ہجری میں فلسطین کے ایک قصبے (Village) میں پیداہوئے۔
*( کتاب الثقات لابن حبان، باب المیم،الرقم۲۹۹۷ محمد بن ادریس الشافعی، ج۵،ص۴۰۶)*
Published from Blogger Prime Android App

*{والدہ کا خواب}*

امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کی ولادت سے پہلے اُن کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ عبدُ اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْھَا نے خواب دیکھا کہ اُن کے جسم سے مُشْتَری نامی مشہور ستارہ نکلا اور مصر میں جاکر گرا پھر ہر شہر میں اس کے ٹکڑے منتشر ہوگئے، ماہرینِ تعبیر نے اس خواب کی یہ تعبیر بیان کی کہ آپ کے بطن سے ایک ایسا عظیم الشان عالِم پیدا ہوگا جس کا علم مصر میں عام ہوگا اور وہاں سے عالمِ اسلام میں پھیلے گا۔
*(تاریخ بغداد،ذکر من اسمہ محمد…الخ،محمد بن ادریس،  ۲/۵۷)*


*{ابتدائی تعلیم}*

حضرت سَیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کی عمرجب دوسال ہوئی تو آپ کے والدِ محترم انتقال فرماگئے۔ والدۂ ماجدہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کو مکۂ مکرمہ لے آئیں وہیں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  نے پرورش پائی اور تعلیم و تربیت بھی حاصل کی۔ 
*(کتاب الثقات لابن حبان،باب المیم،الرقم:۲۹۹۷محمد بن ادریس، ج۵،ص۴۰۶)*

ابتدائی طور پر امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کا رجحان علمِ لغت اور عرب کے اشعار کی طرف تھا ،بعد میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ علمِ حدیث اور علمِ فقہ سیکھنےمیں مشغول ہوئے علمِ لغت اور اشعار کو چھوڑ کر حدیث و فقہ کی طرف رجحان پیدا ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ خود فرماتے ہیں:
ایک دن میں ذوق و شوق کے ساتھ عرب کے لبید نامی شاعر کے اشعار پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک نصیحت آمیز غیبی آواز آئی :اشعار میں پڑ کر اپنا وقت کیوں ضائع  (Waste)کرتے ہو ؟جاؤ فقہ کا علم حاصل کرو۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میرے دل پر اس غیبی آواز  کا بہت اثر ہوا اور میں نے مکۂ مکرمہ میں حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  کی بارگاہ سے علم حاصل کیا ،ان کے بعد حضرت مسلم بن خالد زنجی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  سے علم کا فیضان حاصل کیا اور پھر مدینہ منورہ میں امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔
*(حلیۃ الاولیاء ،امام شافعی ،۹/۸۳، حدیث: ۱۳۱۹۱ ملخصاً)*

*{شوقِ علمِ دین اور بہترین قوتِ حافظہ}*

اللہ پاک نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کو بہترین قوتِ حافظہ اور اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں سے نوازا تھا ،جو کچھ پڑھتے ذہن میں محفوظ ہوجاتا۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  نے کم عمر ی میں ہی نہ صرف قرآنِ کریم حفظ کرلیا تھا بلکہ حدیث کی مشہور کتاب مؤطا امام مالک بھی زبانی یاد کرلی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے قرآنِ کریم ختم کرلیا تو مسجد جانے لگا اور علمائے کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہم   کے پاس بیٹھ کر احادیثِ مبارکہ اور شرعی مسائل سیکھنا اور یاد کرنا شروع کردیئے۔مکہ مکرمہ میں ہمارا گھر وادیِ خیف میں تھا میں کوئی چمکدار ہڈی دیکھتا تو اُس پرحدیث اور مسئلہ لکھ لیتا تھا، حتی کہ اُن ہڈیوں سے ہمارے گھر کا کنواں بھرگیا
*(حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی،۹/۸۲ ،حدیث:۱۳۱۸۶)*

حضرت سیِّدُنا محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:میں نے بچپن ہی میں علم کی تلاش شروع کر دی تھی جبکہ میرے پاس کچھ  مال نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ میں مکتب جاتا اور تیر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لے کر ان پر احادیثِ مبارکہ لکھ لیا کرتاتھا۔
*(حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی،۹/۸۵ حدیث: ۱۳۱۹۵)*


*{فتویٰ دینے کی اجازت}*

اللہ پاک نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  پرعلم کا ایسا دروازہ کھولا جس کی مثال نہیں ملتی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کی قابلیت اور علمی شان و شوکت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کی عمر مبارک صرف پندرہ (15)برس ہوئی تو کامل اعتماد اور بھرپور اطمینان کی وجہ سے آپ کے  اُستادِ محترم اور مکۂ مکرمہ کے مفتیِ اعظم حضرت سیِّدُنا مُسلِم بن خالد زنجی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کو فتویٰ نویسی کی اجازت عطا فرمادی۔ 
*(کتاب الثقات لابن حبان،محمد بن ادریس الشافعی،باب المیم، الرقم:۲۹۹۷،۵/۴۰۶)*


*{امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے اوصاف}*

   پیارے بھائیوں! علمی مَقام اور قدر ومنزلت میں تو امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بے مثل و بے مثال تھے ہی اس کے ساتھ ساتھ تقویٰ وپرہیزگاری، خوفِ خدا، کثرتِ عبادت، جذبَۂ اصلاحِ امت،فکرِ آخرت، حُسنِ اخلاق، زہدو تقویٰ، عاجزی و انکساری، اتباعِ شریعت،  عفو و درگزر، صبر و شکر، محبتِ الٰہی ، محاسَبۂ نفس اور مخالفتِ شیطان سمیت کئی اوصافِ حمیدہ کے پیکر تھے۔ آئیے آپ کی عبادت اور شب بیداری کی تین(3) روایات سنتں  ہیں:

*1* حضرت سیِّدُنا ہارون بن سعید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:میں نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ جیسا کوئی نہ دیکھا۔ آپ مصر میں ہمارے پاس تشریف لائے تو لوگوں نے کہا:ایک قریشی فقیہہ ہمارے پاس آئے ہیں۔ پس ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ سے زیادہ خوبصورت چہرے والا اور آپ سے اچھی نماز پڑھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ہم انتظار کرتے رہے جب آپ نے نماز ادا کر لی تو گفتگو کا آغاز فرمایا۔ ہم نے آپ سے اچھا کلام کرنے والا بھی کوئی نہ دیکھا۔
*(الروض الفائق فی المواعظ والرقاق،المجلس الثامن والثلاثون، ص۲۱۰)*

*2* امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ  رات کے تىن حصے کِیا کرتےتھے، پہلے حصے مىں تصنیف و تالیف کا کام کرتے ، دوسرے مىں نوافل پڑھتے اور تىسرے حصہ مىں آرام کىا کرتے تھے۔ حضرت سَیِّدُنا ربىع بن سلىمان رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ  فرماتے ہىں کہ امام شافعى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  روزانہ ایک قرآنِ عظیم اور رمضان کے نوافل مىں ساٹھ مرتبہ قرآنِ کریم ختم کرتے تھے۔
*(الروض الفائق فی المواعظ والرقاق،المجلس الثامن والثلاثون، ص۲۰۷)*     

*3* حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے کئی بار حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کی مَعِیَّت میں رات گزاری۔ میں نے دیکھا کہ آپ ایک تہائی رات نماز پڑھتے اور کبھی پچاس(50) آیات سے زیادہ تلاوت نہ کرتے، اگر کبھی زیادہ پڑھتے تو بھی سو (100)آیات تک پہنچتے۔ جب کسی آیتِ رحمت کی تلاوت کرتے تو بارگاہِ الٰہی میں اپنے لئے اور تمام مؤمنین کے لئے اطاعت پر قائم رہنے کی دعا کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے تو اس سے پناہ طلب کرتے اور اللہ پاک سے اپنے لئے اور تمام اہلِ ایمان کے لئے نجات کی دعا کرتے۔
*(تاریخ بغداد،الرقم۴۵۴، محمد بن ادریس الشافعی، ج۲، ص۶۱)*

دیگر نیک اوصاف کی طرح امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سخاوت اور دریادلی میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ خوب خوب مال خرچ کرتے تھے، سخاوت کرنا اور مستحقین میں مال بانٹنا آپ کی عادت میں شامل ہوگیا تھا۔ آئیے! امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی سخاوت کے چار (4) واقعات سنتے ہیں:

*1)* حضرت سیِّدُنا حمیدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ اپنے کسی کام کے سلسلے میں یمن تشریف لے گئے۔ جب واپس مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً آئے تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے پاس دس ہزار درہم تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے مکہ شریف سے باہر ہی خیمہ (Tent) نصب کرلیا۔ لوگ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کے پاس آتے رہے۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ خیمے سے باہر نکلے تو سارا مال ر اہِ خدا میں تقسیم کر چکے تھے ۔
*(الروض الفائق،باب  فی النزیہ و ذکرالصالحین،ص ۲۰۸)*

*2)* حضرت سیِّدُنا ربیع رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب میرا نکاح ہوا تو حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے دریافت فرمایا:تو نے کتنا مہر مقرَّر کیا؟ عرض کی :تیس (30 ) دینار ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے پھر پوچھا: اپنی اہلیہ کو کتنی رقم دی؟ میں نے عرض کی:چھ دینار۔ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے مجھے ایک تھیلی بھجوائی جس میں چوبیس (24)دینار تھے اور 201 سنِ ہجری مجھے جامع مسجد میں مؤذن لگوادیا۔
*(شعب الایمان للبیھقی،باب فی الجود والسخاء۷/۴۵۲،لحدیث۱۰۹۶۲)*

*3)* ایک دن حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سواری پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے کہ آپ کے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ ایک شخص نے اُٹھا کر پیش کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے اسے پچاس دینار عطا فرمائے۔ *(الروض الفائق،باب  فی النزیہ و ذکر الصالحین،ص ۲۰۸)*

*4)*  ایک دفعہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ حمام سے باہر نکلے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے پاس بہت سا مال تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے سارا مال حمامی کو دے دیا۔
*(الروض الفائق،باب  فی النزیہ و ذکر الصالحین،ص ۲۰۸)*


*{امام شافعی کی ذہانت اور خدمتِ حدیث}*

اللہ پاک نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کو بہت اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں علمِ دین کی بلندیوں سے نوازا تھا۔
حضرت ابو عبید رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: مَا رَاَیْتُ اَحَدًا اَعْقَلَ مِنَ الشَّافِعِی یعنی میں نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے زیادہ عقلمند  نہیں دیکھا۔
*(حلیۃ الاولیاء ۹/۱۰۱، الامام الشافعی، حدیث:۱۳۲۱۷)*

امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کے فضل و کمال کا اندازہ  اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حضورِ اکرم نورِ مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا :عَالِمُ قُرَیْشٍ یَمْلَاُ طَبَاقَ الْاَرْضِ عِلْمًا یعنی قریش کا ایک عالِم دنیا کو علم سے بھر دے گا۔بہت سے علمائے کرام نے فرمایا کہ اس حدیثِ پاک میں امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  کی طرف اشارہ ہے۔
علامہ عبدُ الرؤف مناوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک میں قریش کے جس عالم کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ ہیں۔
*(فیض القدیر، ۲/۱۳۴، تحت الحدیث: ۱۴۶۰)*    

امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ جس طرح حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدُ العزیز پہلی صدی کے مجدد تھے اسی طرح امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  دوسری صدی کے مجدد ہیں۔
*(حلیۃ الاولیاء ۹/۱۰۵، الامام الشافعی ،حدیث:۱۳۲۳۶)*

 مزید فرماتے ہیں کہ تیس سال میں میری کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں میں نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  کے لئے دعا نہ کی ہو۔
*(حلیۃ الاولیاء ۹/۱۰۵، الامام الشافعی ،حدیث:۱۳۲۳۷)*

امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ زندگی بھر حدیثِ نبوی کی خدمت کرتے رہے جب امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  عراق میں تشریف لائے تو وہاں کے علمائے کرام نے انہیں ناصرُ الحدیث کے لقب سے سرفراز کیا۔
*(حلیۃ الاولیاء ۹/۱۱۴، الامام الشافعی ،حدیث:۱۳۲۷۷)*

امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  فرماتے ہیں :میں نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  سے زیادہ کسی کو حدیث کی اتباع کرنے والا نہیں دیکھا ۔
*(حلیۃ الاولیاء ۹/۱۱۴، الامام الشافعی ،حدیث:۱۳۲۷۶)*


*{امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اساتذہ کرام}*

امام شافعى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کو اپنے زمانے  کے بہترىن علما و مشائخ سے فیض حاصل کرنے کا شرف حاصِل ہوا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  نے مالکیوں کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے بھی بہت استفادہ کیا۔ یوں تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کے اساتذہ کی تعداد بہت زىادہ ہے لىکن جس شخصىت کا رنگ  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ مىں سب سے زىادہ نظر آتا ہے وہ امام اعظم ابوحنىفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ  کے شاگرد رَشَىْد امام محمد بن حسن شىبانى رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ ہىں۔ حضرت سَیِّدُنا محمد بن شجاع رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے اِنتِہائی مشکل  مسئلے کا حل پیش کیا جو خود ان کے نزدیک بھی حیرت انگیز تھا تو ارشاد فرمایا:یہ ہمارے استادِ محترم  امام محمد بن حسن شیبانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کا فیض ہے ۔
*(مقاماتِ امامِ اعظم، ص ۵۲۵)*

 امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں میں بیس سال امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کی خدمت میں رہا ہوں اور میں نے ان سے جس قدر استفادہ کیا ہے اگر اسے تحریری شکل دی جائے تو اسے اٹھانے کیلئے ایک اونٹ درکار ہو۔ بلاشبہ اگر امام محمد نہ ہوتے تو مجھے فقاہت(دین کی سمجھ)  نصیب نہ ہوتی ۔
*(مقاماتِ امامِ اعظم، ص  ۵۳۱ ملتقطاً)*

امام مالک  اور امام محمد  رَحْمَۃُ اللّٰہِ  عَلَیْہِمَا  جیسے صاحبانِ علم و فضل علماء کے فیضان نے امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  کو علم کا سمندر بنا دیا تھا ،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  نہ صرف حافِظُ الحدیث (یعنی ایک لاکھ احادیث کے حافظ) تھے بلکہ حدیث کے معانی و مطالب ، راویوں کے حالات اور حدیث کی صحت وغیرہ پرکھنے میں بھی زبردست مہارت رکھتے تھے

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا