اجڑ  اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام  نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام 

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام 
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام 

یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری 
کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام 
Published from Blogger Prime Android App
اجاڑ گھر میں کوئی چاند کب اترتا ہے 
سوال مجھ سے یہ کرتی ہے تیرے ہجر کی شام 

مرے سفر میں اک ایسا بھی موڑ آتا ہے 
جب اپنے آپ سے ڈرتی ہے تیرے ہجر کی شام 

بہت عزیز ہیں دل کو یہ زخم زخم رتیں 
انہی رتوں میں نکھرتی ہے تیرے ہجر کی شام 

یہ میرا دل یہ سراسر نگارخانۂ غم 
سدا اسی میں اترتی ہے تیرے ہجر کی شام 

جہاں جہاں بھی ملیں تیری قربتوں کے نشاں 
وہاں وہاں سے ابھرتی ہے تیرے ہجر کی شام 

یہ حادثہ تجھے شاید اداس کر دے گا 
کہ میرے ساتھ ہی مرتی ہے تیرے ہجر کی شام 

محسن نقوی

انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ہے
دُهواں سا دل سے اُٹھے بھی تو کون دیکھتا ہے

مرے لیے کبھی مٹی پہ سردیوں کی ہٙوا
تمہارا نام لکھے بھی تو کون دیکھتا ہے

اُجاڑ گھر کے کسی بے صدا دریچے میں
کوئی چراغ جلے بھی تو کون دیکھتا ہے

ہُجومِ شہر سے ہٹ کر حدودِ شہر کے بعد
وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ہے

جس آنکھ میں کوئی چہرا نہ کوئی عکسِ طلب
وہ آنکھ جل کے بُجھے بھی تو کون دیکھتا ہے

ہجومِ درد میں کیا مسکرائیے کہ یہاں
خزاں میں پُھول کِھلے بھی تو کون دیکھتا ہے

ملے بغیر جو مجھ سے بچھڑ گیا محسن
وہ راستے میں رُکے بھی تو کون دیکھتا ہے

محسن نقوی 

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا