کوئی بیٹھـے میـرے پہـلو میں میـرے ہـاتھ پہ اپنا ہاتھ دھرے اور پونچھ کے آنسو آنکھوں سے وہ دھیــــرے سـے یـہ بـات کہــے

جب گُلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں 
یاد  بُھولے  ھُوئے  یاروں  کے کرم آتے ہیں

لوگ جس بزم سے آتے ہیں سِتارے لے کر
ھم  اُسی  بزم  سے  بادیدۂ  نَم  آتے  ہیں  

اب  ملاقات  میں  وہ  گرمئ جذبات کہاں
اب تو رکھنے  وہ محبت کا  بھرم آتے ہیں 

قُربِ ساقی کی وضاحت  تو بڑی مشکل ھے
ایسے لمحے تھے  جو تقدیر سے کم آتے ہیں  

چشمِ ساغرؔ!  ھے  عبادت کے تصّور میں سَدا
دِل کے کعبے میں  خیالوں کے صنم  آتے ہیں​

ساغر صدیقی

کـچھ ایسـا ہـو یـہ شــام ڈھلـے
کوئی لے کے مجھکو ساتھ چلے

کوئی بیٹھـے میـرے پہـلو میں
میـرے ہـاتھ پہ اپنا ہاتھ دھرے

اور پونچھ کے آنسو آنکھوں سے
وہ دھیــــرے سـے یـہ بـات کہــے

یـــوں تنہـــا چلنــا ٹھیــک نہیــں 
چلو ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں....
Published from Blogger Prime Android App



سُوئے میکدہ نہ جاتے، تو کُچھ اور بات ہوتی
وہ نِگاہ سے پِلاتے، تو کُچھ اور بات ہوتی

گو ہَوائے گُلسِتاں نےمِرے دِل کی لاج رکھ لی
وہ نقاب خود اُٹھاتے،تو کُچھ اور بات ہوتی

یہ بَجا، کلی نے کِھل کر کیا گُلسِتاں مُعَطّر !
اگر آپ مُسکراتے، تو کُچھ اور بات ہوتی

یہ کُھلے کُھلے سے گِیسو، اِنھیں لاکھ تُو سنوارے
مِرے ہاتھ سے سنورتے،تو کُچھ اور بات ہوتی

گو حَرَم کے راستے سے، وہ پہنچ گئے خُدا تک
تِری رہگُزر سے جاتے،تو کُچھ اور بات ہوتی

آغا حشر کاشمیری

دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
 خود کو ہلاک کر لیا خود کو فدا نہیں کیا

 جانے تیری نہیں کے ساتھ کتنے ہی جبر تھے کہ تھے
 میں نے تیرے لحاظ میں تیرا کہا نہیں کیا

 کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے واسطہ کوئی
 تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

 تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالبا
 میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا

 جو بھی ہو تم پہ معترض اس کو یہی جواب دو
 آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا

خیرہ سران شوق کا کوئی نہیں ہے جنبہ دار
 شہر میں اس گروہ نے کس کو خفا نہیں کیا

 جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکم خدا دیا قرار
 ہم نے نہیں کیا وہ کام ہاں بخدا نہیں کیا

 نسبت علم ہے بہت حاکم وقت کو عزیز
 اس نے تو  کار جہل بھی بے علما نہیں کیا

 مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو میرے بازوؤں میں ہے
 یعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا

 ہاں وہ نگاہ ناز بھی اب نہیں ماجرا طلب
 ہم نے بھی اب کی فصل میں شور بپا نہیں کی

جون ایلیاء

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا