کھبی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی
کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا
ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا
شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری
کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا
وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا
پیر سید نصیر الدین نصیر

تیز ہوا اور شب بھر بارش
اندر چپ اور باہر بارش
اُس سُر تال کا اور مزا تھا
کچے گھر کی چھت پر بارش
جھُوم رہے ہیں بھیگ رہے ہیں
پیڑ، پرندے ،منظر بارش
یاد بہت آتے ہیں جاناںؔ
ہاتھ میں ہاتھ اور سر پر بارش
جاناں ملک
گر محبت ہو تو ایسا نہیں کرتے جاناں
بیچ رستے میں تو چھوڑا نہیں کرتے جاناں
تم کسی خواب کی صورت ہو مری آنکھوں میں
خواب آنکھوں کو تو نوچا نہیں کرتے جاناں
جاں سے پیاروں پہ بہت مان ہوا کرتا ہے
یوں کسی مان کو توڑا نہیں کرتے جاناں
یاد رکھنے کہ جو قابل ہوں انھی لوگوں کو
اس قدر جلد تو بھولا نہیں کرتے جاناں
عشق میں جھکنے سے توقیر نہیں گھٹتی ہے
خود پرستی کو لبادہ نہیں کرتے جاناں
راہِ پر خار پہ ہوتا ہے کٹھن چلنا مگر
ساتھ دینا ہو تو سوچا نہیں کرتے جاناں
ظرف والے ہیں اسی واسطے چپ ہیں اتنے
غم کو سہتے ہیں تماشا نہیں کرتے جاناں
تم جو کہتے ہو کہ جی پاٶ گے میرے بن بھی
خود پہ اتنا بھی بھروسا نہیں کرتے جاناں
سامنے والا ہی ہر بار مناٸے گا ہمیں
ایسی امید پہ روٹھا نہیں کرتے جاناں
عاصمہ فراز
یہ کار عشق مرے بس کا کام تھوڑی ہے!
جو دسترس میں نہیں ہوں وہ کام، کیا کرنا
جو جان بوجھ کے دیتے نہیں جواب ہمیں
سو ایسے لوگوں کو انزل سلام، کیا کرنا!
انزل حسین انزل
یا رب ! غمِ ہجراں میں ، اتنا تو کِیا ھوتا
جو ہاتھ جگر پر ھے ، وہ دستِ دُعا ھوتا
اِک عشّق کا غم آفت اور اس پہ یَہ دِل آفت
یا غم نہ دیا ھوتا ، یا دل نہ دیا ھوتا
ناکامِ تمنا دل ، اس سوچ میں رھتا ھے
یوں ھوتا تو کیا ھوتا، یوں ھوتا تو کیا ھوتا
اُمید تو بندھ جاتی ، تسکین تو ھو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے ، وعدہ تو کِیا ھوتا
غیروں سےکہا تم نے، غیروں سےسُنا تم نے
کچھ ہم سےکہا ھوتا، کچھ ہم سےسُنا ھوتا
*( چراغ حسن حسرت )*
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں
حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں
تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں
صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں
میرے ویرانۂ جاں میں تری یادوں کے طفیل
پھول کھلتے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھوں
وقت نے ذہن میں دھندلا دیئے تیرے خد و خال
یوں تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں
دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں
اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
احمد ندیم قاسمی
Comments
Post a Comment