یہ وہ محلہ ہے جہاں میں پلا بڑھا - بچوں کے ساتھ جرابوں کی بال بنا کر دھوبی گھاٹ پہ کپڑے دھونے والے ڈنڈے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا

یہ وہ محلہ ہے جہاں میں پلا بڑھا - بچوں کے ساتھ جرابوں کی بال بنا کر 
Published from Blogger Prime Android App
دھوبی گھاٹ پہ کپڑے دھونے والے ڈنڈے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا (شاید اس لیے میری بیک لفٹ اونچی تھی) -
 پہلی بار کرکٹ کلب میں داخلہ اس شرط پہ ملا کہ میں سب سے پہلے آ کر وکٹ اور گراؤنڈ میں جھاڑو لگایا کروں گا -
 اس کے علاوہ سینئر پلیئرز کے لیے نیٹ نصب کرنے کی ذمےداری بھی میری ہی تھی -
 یہ جو بھائی اس تصویر میں نظر آ رہے ہیں ان کا نام ظہیر ہے -
 یہ وہ شخص ہے جو ہمارے کلب کا کپتان تھا -
 ظہیر نے کلب انتظامیہ سے لڑ کر مجھے ٹیم میں کھلانے کی کوشش کی تھی -
 جب کلب انتظامیہ مجھے کھلانے پہ آمادہ نا ہوئی تو ظہیر نے خود کو ڈراپ کر لیا اور اپنی جگہ مجھے چانس دے دیا -
 یہی نہیں بلکہ ظہیر نے میچ کے لیے مجھے اپنی کٹ بھی دے دی - میں نے اس دن ریلوے کالونی کی درزی کی اس دکان سے چھٹی کر لی تھی جہاں میں کام سیکھنے جایا کرتا تھا -
 اللہ پاک نے اس  میچ میں میری اور ظہیر کی لاج رکھی اور میں نے سنچری اسکور کی اور اس دن کے بعد سے کلب انتظامیہ نے کبھی مجھے میچ سے ڈراپ نہیں کیا -
 ظہیر کچھ عرصہ پہلے کینسر کے شکار ہو گیا تھا مگر اب الحمدلللہ صحتیاب ہو کر واپس آ چکا ہے - ظہیر نے صحت یاب ہونے کے بعد مجھے فون کر کے خوش خبری دی تو میں ظہیر سے ملنے چلا آیا - ظہیر کہتا ہے کہ یوسف تو نے میرے علاج پہ لاکھوں روپے خرچ کر دئیے میرے بچے بھی تیرے غلام رہیں گے -
 میں نے صرف اتنا جواب دیا
 ظہیر بھائی میں آپ جتنا امیر آج تک نہیں بن سکا کیوں کہ آپ نے میری مدد اس وقت کی جب آپ کے پاس کچھ نہیں تھا
 جبکہ میں نے آپ کی مدد اس وقت کی جب میرے پاس سب کچھ تھا '
 (کرکٹر محمد یوسف کے پیج سے منقول)

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا