کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تیرے بھی دن گزر گئے ، میرے بھی دن گزر گئے
"پتھر"
ریت سے بُت نہ بنا، اَے مِرے اچّھے فَنکار
ایک لَمحے کو ٹھہر، میں تُجھے پتھر لا دوں
مَیں تِرے سامنے اَنبار لگا دوں_
لیکن
کون سے رَنگ کا پَتّھر تِرے کام آئے گا؟
سُرخ پَتّھر_؟ جِسے دِل کہتی ہے یہ بےدِل دنیا
یا وہ پَتّھرائی ہُوئی آنکھ کا نِیلا پَتّھر
جِس میں صَدیوں سے تَحیُّر کے پڑے ہوں ڈورے؟
کَیا تُجھے رُوح کے پَتّھر کی ضَرُورَت ہوگی؟
جِس پہ حق بات بھی پَتّھر کی طَرح گِرتی ہے
ایک وہ پَتّھر ہے، جِسے کہتے ہیں تہذِیبِ سفید
اُس کے مَرمَر میں سِیاہ خُون جَھلَک جاتا ہے
ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مَگَر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تَو وہ ہاتھ آتا ہے
جِتنے معیار ہیں اِس دَور کے سب پَتّھر ہیں
جِتنے اَفکار ہیں اِس دَور کے سب پَتّھر ہیں
شعر بھی، رَقص بھی، تَصوِیر و غِنا بھی پَتّھر
میرا اِلہام، تِرا ذہنِ رَسا بھی پَتّھر
اِس زَمانے میں تَو ہر فَن کا نِشاں پَتّھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تِرے، میری زباں پَتّھر ہے
ریت سے بُت نہ بنا، اَے مِرے اَچھّے فَنکار۔۔۔!
احمدندیمؔ قاسمی

کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے ، میرے بھی دن گزر گئے
تو بھی کچھ اور اور ہے ، میں بھی کچھ اور اور ہوں
جانے وہ تو ___کہاں گیا ، جانے وہ____ ہم کدھر گئے
تو بھی غبار راہ تھا ، ہم بھی غبارِ راہ تھے 🥀
تو بھی کہیں بکھر گیا ، ہم بھی کہیں بکھر گئے
دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
تصویر کا جمال ابھرتا چلا گیا
غم کی لکیر تھی کہ خوشی کا اداس رنگ
ہر نقش آئینے میں ابھرتا چلا گیا
دو ہی تو کام تھے دلِ ناداں کو اے عدمؔ
جِیتا چلا گیا کبھی مرتا چلا گیا
____________
عبدالحمید عدمؔ⁷
تُمہیں مُحبت سِکھاتا ہوں، یہاں بیٹھو...!!
کُچھ غزلیں سُناتا ہوں، یہاں بیٹھو...!!
اچھا!! کیا کہا وہ چاند پسند ہے تُم کو...؟؟
اچھا!! اُتار کہ لاتا ہوں، یہاں بیٹھو...!!
اچھا!! تو ڈر کیوں رہی ہو، میں ہوں ناں...!!
اچھا!! سینے سے لگاتا ہوں یہاں بیٹھو...🙂
Comments
Post a Comment