ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں لکھا ہوا تھا "" انڈونیشیا میں زلزلے کے جھٹکوں سے نماز چھوڑ کر بھاگ گئے
ابھی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں لکھا ہوا تھا "" انڈونیشیا میں زلزلے کے جھٹکوں سے نماز چھوڑ کر بھاگ گئے ،، افسوس ہے ایسے مسلمانوں پر""۔۔۔۔۔

حالانکہ حقیقت تو یہ ہے افسوس انڈونیشیا والوں پر نہیں افسوس تو اس جاہل پہ ہے جس نے ایسے لکھا ،، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے زیادہ لائکس ہیں اس ویڈیو پر اور 1400 سے زیادہ لوگوں نے اسے شئیر کیا ہے۔۔۔۔۔اور جن لوگوں کو مسئلے کا پتا نہیں ہوگا وہ تو واقعی کہیں گے کہ انڈونیشیا والوں نے غلط کیا انہیں نماز نہیں توڑنی چاہیے تھی بلکہ جان دے دینی چاہیے تھی۔۔۔۔۔
اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کب نماز توڑی جاسکتی ہے ؟؟؟
بلا عذر نماز توڑنا حرام ہے لیکن اگر جان کا خطرہ ہو کہ اگر نماز نہ توڑی تو جان جاسکتی ہے تب نماز توڑنا واجب ہے ،، برابر ہے یہ خطرہ اپنی جان کو ہو یا کسی دوسرے کی جان کو ،، مثلا اگر کوئی شخص ڈوب رہا ہے تو اس کو بچانے کے لیے نماز توڑنا واجب ہے۔۔۔۔۔
اگر سانپ یا بچھو کے کاٹنے کا خطرہ ہے کہ اگر نماز توڑ کر ان کو نہ مارا تو یہ کاٹ سکتے ہیں تو نماز توڑنے کی اجازت ہے ،، جانور جنگل کی طرف بھاگ جائے تو اس کو پکڑنے کے لیے ،، اگر یہ خوف ہو کہ بکریوں کو بھیڑیا کھا جائے گا تب بھی نماز توڑنے کی اجازت ہے ،، خلاصۃ یہ کہ اگر اپنے یا کسی دوسرے کے ایک درھم کے بھی ضائع ہونے کا خوف ہے تب بھی نماز توڑی جاسکتی ہے مثلا روٹی کے جل جانے کا خوف ہو ،، دودھ ابلنے لگ جائے تب بھی نماز توڑنے کی اجازت ہے (( لیکن اگر یہ چیزیں ایک درھم سے کم قیمت کی ہیں تب نماز نہ توڑے )) اگر ایک درھم کی کوئی چیز چور لے کر بھاگ گیا تب بھی نماز توڑنے کی اجازت ہے۔۔۔۔۔۔ان کے علاوہ اور بھی ایسی کئی صورتیں ہیں جن میں نماز توڑنے کی اجازت ہے۔۔۔۔
ویڈیو میں انڈونیشیا والوں نے جو کیا بلکل درست کیا ،، کیونکہ جان بچانے کے لیے نماز توڑنا واجب ہے۔۔۔۔۔اور برائے مہربانی خیال کرنا چاہیے کہ ایسی باتیں لکھ کر ویڈیوز اپلوڈ نہ کی جائیں۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment