وہ شخص اچھا لگا اُس سے صاف کہہ ڈالا یہ دل کی بات تھی ہم سے منافقت نہ ہوئی

وہ شخص اچھا لگا اُس سے صاف کہہ ڈالا
یہ دل کی بات تھی ہم سے منافقت نہ ہوئی

زباں سے کہنا پڑا جو نہ کہنا چاہا تھا
وفا کی بات اشاروں کی معرفت نہ ہوئی

دہلیز پہ پہنچوں گا تو در بات کرے گا
خاموش فضا ہو گی تو گھر بات کرے گا

موسم کے حوادث سے تناور نہیں لیکن
کچھ روز میں آندھی سے شجر بات کرے گا

اسوقت بدن پر ہے تو قیمت نہیں اس کی
اترے گا مرے تن سے تو سر بات کرے گا

اب مجھ میں وضاحت کی ذرا تاب نہیں ہے
اب تجھ سے مرا دیدہ تر بات کرے گا

وہ ہونٹ جو مل جائیں تو پھر دیکھنا راشد
نس نس میں محبت کا اثر بات کرے گا

Published from Blogger Prime Android App
 خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے 
ہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکے 

ہو کر خراب مے ترے غم تو بھلا دیے 
لیکن غم حیات کا درماں نہ کر سکے 

ٹوٹا طلسم عہد محبت کچھ اس طرح 
پھر آرزو کی شمع فروزاں نہ کر سکے 

ہر شے قریب آ کے کشش اپنی کھو گئی 
وہ بھی علاج شوق گریزاں نہ کر سکے 

کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے 
ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے 

مایوسیوں نے چھین لیے دل کے ولولے 
وہ بھی نشاط روح کا ساماں نہ کر سکے

ساحر لدھیانوی
 دل پاک کدورت سے، اداکار نہیں ہوں
اخلاص ہے خوبی، میں ریاکار نہیں ہوں

نادان مجھے کہتے ہیں یہ دنیا والے
اچھا چلو مانا، کہ سمجھدار نہیں ہوں
 آج کرتے نہیں اک پل بھی گوارا ہم کو
وہ جو رکھتے تھے کبھی جان سے پیارا ہم کو

ڈھونڈ پھر لیجئے اک بار خدارا ہم کو
آپ ہوتے ہیں تو ہوتا ہے سہارا ہم کو

ہر غلط کام پہ خود دل نے ابھارا ہم کو
اس پہ الزام بھی دیتا ہے یہ سارا ہم کو 

دل یہی چاہے کہ اُن سب کی بلائیں لے لوں
آج بھی لوگ جو کہتے ہیں تمہارا ہم کو

احتیاطاً ہی ترا نام بتا دیتے ہیں
اس سے پہلے کہ کرے کوئی اشارہ ہم کو

ایک کشتی کے مسافر تھے مگر طوفاں نے
تم کو اُس پار تو اِس پار اتارا ہم کو

تجھ سے شرمندہ ہیں اے زیست ، تری ہمت ہے
تو نے تا عمر کٹہرے میں گزارا ہم کو

سب سے پہلے وہی کرتے ہیں کنارہ ابرک
ڈوبتے وقت جو کہتے ہیں کنارہ ہم کو 

آئینہ دیکھ کے بے ساختہ دل چیخ اٹھا
شکریہ ہجر ترا خوب نکھارا ہم کو

گو محبت ہے غلط، پھر سے غلط کر لوں گا
زندگی گر کہیں مل جائے دوبارہ ہم کو

اب تمنا ہی نہیں کوئی نہ آنکھوں کو طلب
اور ملتا ہے نیا روز نظارہ ہم
 تمہاری ایک جھلک دیکھنے کے واسطے
ہمیں رقیب منانا پڑے گا ۔۔۔۔۔ حیرت ہے.              

میں ٹھیک کیوں نہیں ہو پا رہا دواؤں سے.     
تمہیں بھی یار بتانا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔ حیرت ہے
جب گُلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں 
یاد  بُھولے  ھُوئے  یاروں  کے کرم آتے ہیں

لوگ جس بزم سے آتے ہیں سِتارے لے کر
ھم  اُسی  بزم  سے  بادیدۂ  نَم  آتے  ہیں 

میں وہ اِک رِندِ خرابات ھُوں میخانے میں
میرے سجدے کے  لئے  ساغرِ جُم آتے ہیں 

اب  ملاقات  میں  وہ  گرمئ جذبات کہاں
اب تو رکھنے  وہ محبت کا  بھرم آتے ہیں 

قُربِ ساقی کی وضاحت  تو بڑی مشکل ھے
ایسے لمحے تھے  جو تقدیر سے کم آتے ہیں 

میں بھی جنت سے نکالا ھُوا ایک بت ہی تو ھُوں
ذوقِ   تخلیق   تجھے   کیسے   سِتم    آتے    ہیں 

چشمِ ساغرؔ!  ھے  عبادت کے تصّور میں سَدا
دِل کے کعبے میں  خیالوں کے صنم  آتے ہیں​

ساغر صدیقی💔💔
‏بڑے جتن سے کمائی ہوئی ہے تنہائی
دلِ  تباہ  دھڑک  کر  اسے تباہ نہ  کر

یہ شاعری نہیں دل کے زخم ہیں سارے
تُو  میرا  درد سمجھ یار واہ واہ نہ کر
 ‏یہ لوحِ عشق پہ لکھا ھے تیرے شہر کے لوگ
وفا سے جیت بھی جائیں تو ھار جائیں گے
‏ہک وار سرائیکی بول تے ݙس 
کوئی ٻولی ایویں مٹھڑی اے ؟؟

میݙے لوک وی ایویں مٹھڑے ہن 
میݙی ٻولی جیویں مٹھڑی ا
‏تم سے تو خیر گھڑی بھر کی ملاقات رہی
لوگ صدیوں کی رفاقت کو بھلا دیتے ہیں

تابش دہلوی
ایں عشق اچ کہیں دا کیا ویندے
بس عاشق دا ہک ہاں ویندے🔥
دیتی نہیں اماں جو  زمیں ، آسماں  تو  ھے
کہنے کو اپنے دل سے کوئی داستاں  تو  ھے

یُوں تو ھے رنگ زرد ،  مگر  ھونٹ  لال  ہیں
صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ھے

اِک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ھےدُھوپ میں
گلیاں  اُجڑ  گئی  ہیں ، مگر  پاسباں  تو  ھے

آواز دے کے دیکھ لو، شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر  بھر  کا  سفر ، رائیگاں  تو ھے

مجھ سےبہت قریب هےتو پھر بھی اے منیرؔ
پردہ سا کوئی ، میرے تیرے درمیاں تو ھے

*( منیر نیازی )*
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں 
سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں 

جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں 
ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں 

نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد 
میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں 

دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں 
کہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں 

کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت 
پھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں 

رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں 
ترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں 

جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات 
تجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں 

نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال 
نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں 

کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں 
ظفرؔ میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں
شرافتوں میں وہ یوسف مزاج ہوتے ہیں،
تمہیں مِلاؤنگا کبھی غربت زدہ حسینوں سے!

میں سیدھی بات کا عادی ہوں، سانپ کیوں بولوں؟
میں  اپنے  یار  نکالوں  گا  آستینوں  سے!
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں 
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں 

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں 
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں 

کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں 
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں 

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ 
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں 

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے 
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دے اُسے خواب کر

ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا!
جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر

مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دو پہر پہ یہ ابر کیوں؟
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر

کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
کبھی دل کو تھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر

یہ ہُجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی،
مری حسرتوں کو سُخن سُنا مری خواہشوں سے خطاب کر

یہ جُلوسِ فصلِ بہار ہے تہی دست، یار، سجا اِسے
کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر

#محسن_نقوی

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا