آپ سب جانتے ہوں گے کہ کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام کی دعوت سے روکنے کے لیے کئی حربے آزمائے
سوال :::
آپ سب جانتے ہوں گے کہ کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام کی دعوت سے روکنے کے لیے کئی حربے آزمائے ،، ان میں سے ایک حربہ لالچ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مال ودولت ،، سرداری وغیرہ کی لالچ دی گئی ،، حالانکہ کفار بھی اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری لالچ میں نہیں آئیں گے تو پھر انہوں نے یہ مذاکرات کیوں کیے ؟؟؟

جواب :::
اللہ پاک نے اسلام کے دشمنوں کے شکوک وشبہات ختم کرنے کے لیے اپنے نبی کی زندگی کو اسرار و رموز سے بھر دیا ہے ،، اللہ پاک کا یہ ارادہ تھا کہ کفار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا کر لالچ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیں تاکہ قیامت تک آنے والے انسانوں میں سے کوئی یہ نہ کہ سکے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعوت کے ذریعے بادشاہت اور مال ودولت چاہتے تھے ،، اس لیے اللہ پاک کی یہی مرضی تھی کہ کفار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیں اور انہیں بادشاہت کا لالچ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی پیشکش کو ٹھکرا کر یہ واضح کردیں کہ میری دعوت کا مقصد دنیا یا بادشاہت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کوئی اسلام کا دشمن یہ بات نہیں کہ سکتا کہ مسلمانوں کے نبی کا مقصد معاذاللہ بادشاہت یا مال وغیرہ حاصل کرنا تھا ،، کیونکہ اگر بادشاہت مقصود ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفار کی پیشکش کو کبھی نہ ٹھکراتے۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment