تھیں رونقیں کبھی جو شبوں کی وہ اب کہاں خوابیدہ گردِ شہرِ نگاراں چلے گئے

رونق گرانِ کوچۂ جاناں چلے گئے
سامانیانِ بے سروساماں چلے گئے
 Published from Blogger Prime Android App
تھیں رونقیں کبھی جو شبوں کی وہ اب کہاں
خوابیدہ گردِ شہرِ نگاراں چلے گئے
 
کر تہنیت قبول، ترے آستانے سے
دشوار تر تھے جو، بہت آساں چلے گئے
 
لب جُنبشی کی اور ہی صورت ہو اب کوئی
بزمِ نوا کے پردہ شناساں چلے گئے
 
اب آپ صبح و شام مسیحائی کیجیے
وہ چارہ نا پذیر میاں جاں چلے گئے
 
اب دیر باوروں کا کیا کیجیے سُراغ
وہ زُود باورانِ اداب داں چلے گئے
 
اے سمتِ عنبرینِ شبِ انتظارِ یار
وہ انتظاریانِ صد ارماں چلے گئے
 
اس کا بدن عجب ہَوس انگیز ہے کہ ہے
ہم تو میاں چلے بھی گئے، ہاں چلے گئے
 
اُس ہندنی نے ایسی جفائیں کریں کہ بس
ہندو تھے ہم، سو ہو کے مسلماں چلے گئے
 
تھا جونؔ اس کا ناف پیالہ کہ مے کدہ
بس لڑکھڑا کے تشنہ لباناں چلے گئے

جون ایلیا

ہے عجب تمہارا موسم دل و دیدہ رایگاناں
نہ وصالِ جان و جاناں، نہ فراقِ جان و جاناں
 
دمِ نیم شب سے پہلے نہ بکھر رہے یہ محفل
ہیں فروغِ شب کہاں گم وہ دراز داستاناں
 
نہیں جُز غبار کچھ بھی ترے دامنِ فضا میں
ہوئے گم کہاں بیاباں وہ غبار کارواناں
 
وہ پسِ دریچہ کب سے ہے اس آرزو میں یارو
کہ جمے ذرا گلی میں صفِ طعنہ برزباناں
 
رہے جس کی جیبِ سایہ بھی تہی نہ روشنی سے
وہی زندگی کریں گے ترے شعلہ آشیاناں
 
مری جان تجھ سے اب بھی نہیں بے معاملہ میں
میں گِلہ کناں ہوں کب سے، ہیں کہاں گلہ رساناں
 
 جون ایلیا
شمشیر میری، میری سِپر کس کے پاس ہے
دو میرا خود، پر، مِرا سر کس کے پاس ہے
 
درپیش ایک کام ہے ہمت کا ساتھیو!
کسنا ہے مجھ کو، میری کمر کس کے پاس ہے
 
طاری ہو مجھ پہ کون سی حالت مجھے بتاؤ
میرا حسابِ نفع و ضرر کس کے پاس ہے
 
اے اہلِ شہر میں تو دُعا گوئے شہر ہوں
لب پر مرے دعا ہے، اثر کس کے پاس ہے
 
داد و سِتد کے شہر میں ہونے کو آئی شام
خواہش ہے میرے پاس، خبر کس کے پاس ہے
 
پُر حال ہوں، پہ صورتِ اَحوال کچھ نہیں
حیرت ہے میرے پاس، نظر کس کے پاس ہے
 
اِک آفتاب ہے مری جیبِ نگاہ میں
پہنائی نمودِ سحر کس کے پاس ہے
 
قصہ کشور کا نہیں کوشک کا ہے کہ ہے
دروازہ سب کے پاس ہے، گھر کس کے پاس ہے

مہمانِ قصر ہیں ہمیں کچھ رمز چاہئیں
یہ پوچھ کر بتاؤ کھنڈر کس کے پاس ہے
 
اُتھلا سا ناف پیالہ ہماری نہیں تلاش
اے لڑکیو! بتاؤ بھنور کس کے پاس ہے
 
ناخن بڑھے ہوئے ہیں میرے، مجھ سے کر حَذر
یہ جا کے دیکھ نیل کٹر کس کے پاس ہے
 
یارا اجراا مزارۂ شہر حرامیاں
اس شہر کی کُلیدِ ہنر کس کے پاس ہے

جون ایلیا

اُٹھ سمادھی سے دھیان کی، اُٹھ چل
اس گلی سے گمان کی، اُٹھ چل
 
مانگتے ہوں جہاں لہو بھی اُدھار
تو نے واں کیوں دکان کی، اُٹھ چل
 
بیٹھ مت ایک آستاں پہ ابھی
عمر ہے یہ اُٹھان کی، اُٹھ چل
 
کسی بستی کا ہو نہ پابستہ
سیر کر اِس جہان کی، اٹھ چل
 
دل ہے جس غم ہمیشگی کا اسیر
ہے وہ بس ایک آن ہی، اُٹھ چل
 
جسم میں پاؤں ہیں ابھی موجود
جنگ کرنا ہے جان کی، اُٹھ چل
 
تو ہے بے حال اور یہاں سازش
ہے کسی امتحان کی، اُٹھ چل
 
کیا ہے پردیس کو جو دیس کہا
تھی وہ لکنت زبان کی، اُٹھ چل
 
ہیں سیارے ابھی مداروں میں
یہ گھڑی ہے اَمان کی اُٹھ چل

ہر کنارہ خرامِ موج تجھے
یاد کرتی ہے بان کی، اُٹھ چل

جون ایلیا

دنیا کی الجھنوں سے پریشان یہ بشر!!
نکلیں گے ایک روز خُدا کی تلاش میں!!

بچے کو بھوک کھا گئ کل ماں کہ سامنے!!
اک باپ زندہ مر گیا فکرِ معاش میں!!

ہم اک سپاہی بھیج رہے ہیں خُدا کی اور!!
کچھ خط چھپاۓ جا رہے ہیں اُس کی لاش میں!!

جن کو کبھی بھی کوئ نہیں کھیلتا کہیں!!
ہم وہ اضافی پتّے ہیں حاکم کی تاش میں!!

ہر لفظ میں خُدا نے کئ کچھ رکھا ہے دیکھ!!
کتنے بھرم رکھے ہوۓ ہیں لفظ کاش میں!!

اُسامہ فراق
ترے عشقیہ جذبات سے خوشبو آتی ہے
ترے ہونٹ ہلتے بات سے خوشبو آتی ہے

 کبھی رات جاناں خوابوں میں ملنے آتی ہو
مجھے  وصلِ شب کی رات سے خوشبو آتی ہے

آنکھوں میں ستارے تو کئی شام سے اترے
پر دل کی اداسی ، نہ در و بام سے اترے

کچھ رنگ تو ابھرے تری گل پیرہنی کا
کچھ زنگ ، تو آئینہ ایام سے اترے۔

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا