کیسی تقسیم تھی ،سب ایک ہی گھر کے نکلے تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے

غزل

کیسی تقسیم تھی ،سب ایک ہی گھر کے نکلے
تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے

جن کی دستار کو میں چوم لیا کرتا تھا
وقت بدلا تو وہ دشمن مرے سر کے نکلے

ہم کو درکار تھی چھاؤں سو عطا کی اس نے
بعد میں لاکھ بھلے شجرے شجر کے نکلے

بکھری زلفوں سے چھپاتے ہوۓ چہروں کے نقوش
گدڑیوں والے حسیں چاند نگر کے نکلے

بد دعا دیتے ہوۓ اشک بہاتا تھا بہت
ہم ترے شہر کے مجذوب سے ڈر کے نکلے

ہاۓ وہ لوگ کفن کا جنہیں ٹکڑا نہ ملا
ہاۓ وہ لوگ جو زندان سے مر کے نکلے

راکب مختار
تخلیہ
Published from Blogger Prime Android App
ارشاد عرؔشی ملک

معاملاتِ مکر و فن کےشاہکارو، تخلیہ
حُکم ہے درویش کا، اے تاجدارو ، تخلیہ

خواہشِ نام آوری نے باؤلا تم کو کیا
خود ستائی سے بھرے ،ہلکے غبارو ، تخلیہ

ہم کو آتی ہے تمہارے کوڑھ باطن سے بساند
دِین کے جُبے میں لپِٹے وضعدارو ، تخلیہ

سادہ و ناداں سہی پر بے حِس و غاصب نہیں
تم پہ رونا ہے ہمیں ،اے ہوشیارو ، تخلیہ

ہم کو ملنا ہے خزاں رُت کے سُلگتے کرب سے
آج دل حاضر نہیں ،مہکی بہارو ، تخلیہ

آج ہم شب بھر پئیں گے عشق ِ مولا کی شراب
اے امامو،  ناصحو،  پرہیز گارو  ، تخلیہ

ہم کو اپنی بے بسی، بے اختیاری ہے عزیز
تم سے کچھ حاجت نہیں ،با اختیارو ، تخلیہ

آج عرشی کا قلم اِک وجد کے عالم میں ہے
بے تکلف تم سے کہتے ہیں کہ پیارو ، تخلیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#غزل
💜حرفِ رنجش پہ کوئی بات بھی ہو سکتی ہے
عین مُمکن ہے،  مُلاقات بھی ہو سکتی ہے

زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہے!
زندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہے

ہم نے یہ سوچ کے رکھّا ہے قدم گُلشن میں !
لالہ و گُل میں تِری ذات بھی ہوسکتی ہے

چال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصول !
بُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہے

ایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔن
اُس پہ یہ خوف ، کہ برسات بھی ہو سکتی ہے
(محسن نقوی)

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا