زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاھوں گا
یوں تو میں ضبط کا قائل ہو مگر دُکھ ہے بڑا
میں نے اِس ہجر میں رونا نہیں مر جانا ہے
اور اس قدر بوجھ ہے نیندوں کا میری آنکھوں پر
میں نے تھک ہار کر سونا نہیں مر جانا ہے
: ہم اخری سانس تک یار تیرے ہی ہیں
دل پر سارے اختیار تیرے ہی ہیں ...

تم آؤ تو نیند نہیں آتی ہے
نیند آجائے تو سارے خواب تیرے ہی ہیں !!!🖤🥀
زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ھیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاھوں گا
تو ملا ھے تو یہ احساس ھوا ھے مجھ کو
یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ھے
اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ھے جس پر
میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ھے
تجھ پہ ھو جاؤں گا قربان تجھے چاھوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاھوں گا
اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لئے
میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ھے تجھے
میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں
میں نے قسمت کی لکیروںسے چرایا ھے تجھے
پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاھوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاھوں گا
تیری ھر چاپ سے جلتے ھیں خیالوں میں چراغ
جب بھی تُو آئے جگاتا ھوا جادو آئے
تجھ کو چُھو لوں تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو
دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے
تو بہاروں کا ھے عُنوان تجھے چاھوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاھوں گا
زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاھوں گا !
قتیل شفائی
گُل فروشا، بڑے دن بعد دی آواز ہمیں
لے کے آئے ہو وہی گُل؟ وہ پرانے والے؟
ہنستے جاتے ہو معافی کی طلب کرتے ہوئے
ایسا کرتے ہیں بھلا یار! منانے والے؟
جس بت پہ فدا ہو گئے جاں جس پہ لٹا دی
اس نے بھی بچھڑتے ہوئے جینے کی دعا دی
آغوش میں جب آیا تو زلفوں کو جھٹک کر
خوشبو کو وہیں پاس بھٹکنے کی سزا دی
تنہائی میں چونکے جو کبھی، خود کو پکارا
خاموشی سے گھبرائے تو زنجیر ہلا دی
صحرا، کہ وہی ریت کا بے انت سمندر
اور حضرت وحشی درودیوار کے عادی
اپنی ہی کسی دھن میں تھا الجھا ہوا وہ شخص
سو ہم نے کہانی بھی کوئی اور سنادی
عباس قمر
کیا تماشہ ہے کہ دنیا میں حقارت سے رہو
خواہش دل یہ کہے سارے محبت سے رہو
میرے مرنے پہ یوں رونے کا تماشہ نہ کرو
میں نکل آیا ہوں اب سارے سہولت سے رہو
عُمر گزری ہے محبت کی اِطاعت کرتے
اب محبت کا امر ہے کہ اذیت سے رہو
اپنے منصب کی دیواروں کو نہ یوں میلا کرو
تم پہ لازم ہے صداقت، سو صداقت سے رہو
جانے کس لمحے وہ دیدار عطا کر دیں
پاک دامن کو رکھو یکساں طہارت سے رہو
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی
اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا
آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی
کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو
اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی
شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی
یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں
کب تری یہ کج خیالی جائے گی
- اکبر الہ آبادی
عشق گر ہاتھ چھڑائے تو چھڑانے دینا
کار وحشت پہ مگر آنچ نہ آنے دینا
یوں بھی آغاز میں ہر کام بھلا لگتا ہے
اول اول ہے ، اسے ہجر منانے دینا
اپنے بچے کو نہ نفرت کا پڑھا دینا سبق
ہاتھ دشمن سے ملائے تو ملانے دینا
یہ بھی کم ظرف محبت کا وطیرہ ہے میاں
جب نئے زخم کی خواہش ہو ، پرانے دینا
جس نے دامن مرا دکھ درد سے بھر ڈالاہے
میرے مولا اسے خوشیوں کے خزانے دینا
عزت نفس سے بڑھ کر تو کوئی چیز نہیں
جو تمہیں چھوڑ کے جائے اسے جانے دینا
کومل جوئیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment