بادشاہوں یا فقیروں کا مکاں دیکھے گی کیا محبت بھی فلاں ابنِ فلاں دیکھے گی

بادشاہوں یا فقیروں کا مکاں دیکھے گی
کیا محبت بھی فلاں ابنِ فلاں دیکھے گی

دستِ شفقت نہ رہے باپ کا جس کے سر پر
اس کی جانب بھری دنیا بھی کہاں دیکھے گی

کتنے دن اور خموشی سے سنیں دنیا کی
ہم جو بولے تو ہماری بھی زباں دیکھے گی

مسکرانے کی اداکاری ہے لوگوں کے لیۓ
مری تنہائی مری آہ و فغاں دیکھے گی

میں وہ ضدی کہ لڑائی نہ لڑی جاتی تو
ڈٹ کے کہتی تھی تجھے اب مری ماں دیکھے گی

اے مری عمرِ رواں دل پہ نہ لے وقت کا غم
جس نے دیکھی ہیں بہاریں وہ خزاں دیکھے گی

زوہا زکاء
Published from Blogger Prime Android App
جب گُلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں 
یاد  بُھولے  ھُوئے  یاروں  کے کرم آتے ہیں

لوگ جس بزم سے آتے ہیں سِتارے لے کر
ھم  اُسی  بزم  سے  بادیدۂ  نَم  آتے  ہیں  

اب  ملاقات  میں  وہ  گرمئ جذبات کہاں
اب تو رکھنے  وہ محبت کا  بھرم آتے ہیں 

قُربِ ساقی کی وضاحت  تو بڑی مشکل ھے
ایسے لمحے تھے  جو تقدیر سے کم آتے ہیں  

چشمِ ساغرؔ!  ھے  عبادت کے تصّور میں سَدا
دِل کے کعبے میں  خیالوں کے صنم  آتے ہیں​

ساغر صدیقی

معراج کی رتیا دھوم یہ تھی اک راج دلارا آوت ہے 
لولاک کا سہرا سر سوہت وہ احمد پیارا آوت ہے

حوروں نے کہا جب بسم اللہ، غلمان نے پکارا الا اللہ 
خود رب نے کہا ماشاءاللہ محبوب ہمارا آوت ہے

جبرئیل امین یہ کہتے چلے اے عرشیو! تمرے بھاگ جگے 
تعظیم کو سب ہو جاؤ کھڑے سردار تمہارا آوت ہے

یاسین کی چمک داتن میں طہ کا کرشمہ آنکھن میں 
والفجر کا جلوہ گالن میں وہ عرش کا تارا آوت ہے

ما زاغ کا کجلہ نین بھرے والشمس کا بٹنہ مکھ پہ ملے 
ہے میم کا گھونگھٹ سہرے تلے وہ رب کا سنوارا آوت ہے

دھرتی سے اٹھا آفاق چڑھا ممتاز یہ غل تھا چاروں طرف 
لو حق سے ملنے صل علی سردار ہمارا آوت ہے.

کرکے ایک سلیقے سے طرفین برابر 
اک غم بیٹھ گیا ہے دل کے عین برابر 

جھیلیں، دریا، جگ کے سارے اجلے منظر 
ہوکیسے سکتے ہیں اس کے نین برابر 

زین شکیل

کرکے ایک سلیقے سے طرفین برابر 
اک غم بیٹھ گیا ہے دل کے عین برابر 

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا