*حارث بن عوف عرب کے سرداروں میں سے ایک سردار تھا ، یہ ایک دن ایک شخص کے ہاں رشتہ لیکر آیا ، اس کے گھر جا کر اس سے کہا کہ :*
*ایک عقل مند لڑکی کا حیرت انگیز واقعہ*
⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟

*حضرت اویس بن حارثہ سے مروی ہے کہ :*
*حارث بن عوف عرب کے سرداروں میں سے ایک سردار تھا ، یہ ایک دن ایک شخص کے ہاں رشتہ لیکر آیا ، اس کے گھر جا کر اس سے کہا کہ :*
*تمہاری بڑی بیٹی کو میرے بارے میں بتاؤ ۔*
*اس نے اپنی بیٹی کو بلا کر کہا کہ یہ سادات عرب سے ہے اور رشتہ لیکر آیا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ تمہارا نکاح اس سے کر دیں ، تم کیا کہتی ہو ؟*
*لڑکی نے کہا : میرا رشتہ نہ کریں ۔*
*اس نے پوچھا : کیوں ؟*
*لڑکی بولی : اس لئے کہ میرے اخلاق میں بدتمیزی اور زبان میں حد ہے اور میں کوئی اس کی چچازاد نہیں ہوں ، جو یہ مجھ پر رحم کرے گا اور نہ ہی یہ ہمارے شہر کا باسی ہے ، جو آپ سے شرمائے گا ، مجھے ڈر ہے کہ یہ مجھ سے کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے گا ، تو طلاق دیدے گا اور پھر یہ ( طلاق ) میرے لئے گالی بن کر رہ جائے گی ۔*
*یہ سن کے باپ نے کہا کہ اچھا تم جاؤ اللہ برکت دے ۔*
*پھر اس نے اپنی دوسری بیٹی کو بلایا اور بڑی بیٹی کی طرح اس سے بھی پوچھا : اس نے بھی تقریبََا یہی جواب دیا ۔*
*پھر اس نے تیسری بینی کو بلایا ، یہ ان دونوں سے بہت چھوٹی تھی ، اس کے باپ نے اسے بھی یہی بتایا اور اس لڑکی سے کہا کہ میں نے اس کا رشتہ تیری دونوں بڑی بیٹیوں پر پیش کیا تھا ، مگر انہوں نے انکار کر دیا ۔*
*باپ نے انکار کی وجہ نہیں بتائی تو چھوٹی نے کہا : واللہ ! میں چہرے سے حسین ، اخلاق میں بلند اور رائے کی اچھی لڑکی ہوں ، اگر یہ مجھے طلاق بھی دیگا ، تو میں اللہ کے حکم کے خلاف ورزی نہیں کروں گی ۔*
*باپ نے کہا : اللہ تجھے برکت عطا فرمائے ۔*
*یہ کہہ کر وہ حارث بن عوف کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیٹی ھنیسہ کا نکاح تجھ سے کر دیا ۔*
*حارث نے کہا کہ میں نے قبول کیا ۔*
*اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہنیسہ کو تیار کرو اور اچھے کپڑے وغیرہ دو ۔*
*پھر اس نے ایک خالی کمرہ کرا کے اس میں اپنے داماد کو ٹھہرایا اور وہاں اپنی بیٹی کی رخصتی کردی ، جب یہ لڑکی ھنیسہ وہاں گئی ، تو داماد تھوڑی دیر بعد جلد ہی نکل کر میرے پاس آگیا ۔*
*میں نے پوچھا : بڑی جلدی آگئے ۔*
*حارث بن عوف نے کہا : نہیں ، میں نے لڑکی کا ہاتھ تھامنا چاہا ، تو اس نے کہا کہ رکو ، کیا میرے باپ اور بھائیوں کے گھر میں ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔*
*پھر اس نے سفر کا ارادہ کیا ، ہم سفر پر چلتے رہے اور جہاں تک اللہ نے چاہا ہم چلے گئے ۔*
*پھر حارث نے مجھے کہا کہ تو آگے نکل !*
*میں آگے نکل گیا وہ اپنی بیوی کو لیکر دوسرے راستے پر چلا گیا ، مگر تھوڑی دیر بعد ہی واپس آملا ۔*
*میں نے پوچھا بیوی سے فارغ ہو گئے ؟*
*حارث نے کہا : نہیں اس نے مجھے روک دیا اور کہا کیا لڑائی میں کسی پکڑی جانے والی عورت قیدی باندی کی طرح مجھ سے یہ سلوک کرو گے ! نہیں واللہ ! یہ اس وقت تک نہیں ہوگا ، جب تک تم اونٹ اور بکرے ذبح کر کے عرب کی دعوت نہ کرو ، جیسا کہ تجھ جیسے لوگ مجھ جیسی لڑکی کے لئے دعوت کرتے ہیں ۔*
*یہ سن کر میں نے کہا : مجھے اس لڑکی میں بڑی ہمت جرأت اور عقل نظر آئی ہے ۔*
*حارث نے کہا کہ واقعی تو سچ کہتا ہے ، میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ یہ بڑی سمجھ دار نکلے گی ۔*
*پھر ہم اپنے شہر پہنچ گئے ، حارث بن عوف نے اونٹ بکرے لیکر ذبح کئے اور ولیمے کا اہتمام کیا اور پھر اپنی دلہن کے پاس گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی نکل آیا ۔*
*میں نے پوچھا : کیا فارغ ہو گئے ؟*
*اس نے کہا : نہیں ۔*
*میں نے پوچھا : وہ کیوں ؟*
*حارث نے کہا کہ میں اس کے پاس گیا تو اس کو کہا کہ میں نے مال حاضر کر دیا جیسا تم چاہتی تھی ۔*
*اس لڑکی نے کہا کہ مجھے تمہارا جو شرف بتایا گیا تھا ، وہ تم میں نہیں ہے ۔*
*میں نے پوچھا : وہ کس طرح ؟*
*وہ بولی کہ تم نکاح کے لئے فارغ ہو گئے ، حالانکہ عرب آپس میں لڑ رہے ہیں ( اس زمانے میں بنو قیس اور ذبیان کی آپس میں لڑائی چل رہی تھی ) ۔*
*میں نے کہا : تم کیا کہنا چاہتی ہو ؟*
*اس نے کہا : تم قوم کے پاس جاؤ اور ان کے درمیان صلح کراؤ ، پھر تم اپنی دلہن کے پاس آؤ ، وہ تمہارے ارادے سے تمہیں نہیں روکے گی ۔*
*اولیس بن حارثہ نے کہا کہ میں اسے عقل مند اور مضبوط رائے والی دیکھ رہا ہوں ۔*
*حارث بن عوف نے مجھے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو ، ہم وہاں سے نکلے قوم والوں کے پاس آئے اور ان میں صلح کی بات کی ، وہ اس بات پر راضی ہوگئے کہ مقتولین کا حساب لگا کر ان کے بدلے دیت دی جائے ، ہم نے ان سے وصیتیں وصول کیں اور یہ تقریبََا تین ہزار اونٹ تھے ، تو ہم اچھی نسل کے نر اونٹ لے کر لوٹے ۔*
*اس کے بعد حارث اپنی دلہن کے پاس گیا ، اس نے کہا : اب تم کو میں نہیں روکوں گی ۔*
*اس لڑکی نے اس کے پاس بڑی عیش و عشرت کی خوبصورت زندگی گزاری اور اس سے حارث بن عوف کو اللہ نے خوب اولاد عطا فرمائی ۔*
*مثالی فکر انگیز واقعات و لطائف ، ص : 110*
⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟
------
Comments
Post a Comment