دریا تو ھم نے مشکیزے میں اٹھا رکھا ہے اسلیے میرپوری نے یہ حال بنا رکھا ہے
*ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت*
*لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے*
*مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں*
*عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے*
*یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ*
*ایسا زخم تو دل پر کھایا جا سکتا ہے*
*پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابشؔ*
*اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے*
عباس تابش
" لوگ تو لوگ تھے جِی بٙھر کے خسارہ کرتے
کم سے کم تُم تو نا نقصان ہمارا کرتے
کر تو لینا تھا تیرے ساتھ گزارہ لیکن
" اب تیرے ساتھ بھی کرتے تو گزارہ کرتے
*دیر تک رات اندھیرے میں جو میں نے دیکھا*
*مجھ سے بچھڑے ہوئے اک شخص کا چہرہ ابھرا*
*قسمیں دے دے کے مرے ہاتھوں نے مجھ کو روکا*
*میں نے دیوار سے کل نام جب اس کا کھرچا*
*موم بتی کو گلاتا رہا دھیرے دھیرے*
*رات اندھیرے کا مرے کمرے میں بہتا لاوا*
آفتاب شمسی
*نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا*
*یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں*
منیر نیازی
اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن
اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی
پروین شاکر
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں
دلِ فسردہ میں ، پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے ، کن دِنوں کی یاد آئی
دلِ فسردہ میں ، پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے ، کن دِنوں کی یاد آئی
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا، وہ شکل تو دکھا گیا
جدائیوں کے زخم، درد زندگی نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آگئی، مجھے بھی چین آ گیا
وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دشمناں ہوئی
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
پکارتی ہیں فرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں
زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا
یہ صبح کی سفیدیاں، یہ دوپہر کی زردیاں
میں آئینے میں ڈھونڈتا ہوں، میں کہاں چلا گیا
یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی
وہ لہر کس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا
گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک
الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا
میرے حصے مِیں تو پہلے ہی بٹا ہوا آیا هے
اتنے تھوڑے سے میسر پہ کفایت کیسی
میری تصویر مِیں رہنے دو یہ ویرانی
مجھ سیاہ بخت پہ رنگوں کی عنایت کیسی
تم نے بیکار ہی تکلف کیا کہنے کا
ورنہ نفرت تو نفرت ہی هے نہایت کیسی
Comments
Post a Comment