عتبہ بن ربیعہ کون تھا ؟؟؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کون سی پیشکش لے کر آیا نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کیا جواب دیا ؟؟؟

سوال ::: 
عتبہ بن ربیعہ کون تھا ؟؟؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کون سی پیشکش لے کر آیا نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کیا جواب دیا ؟؟؟ مکمل واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کریں۔۔۔
Published from Blogger Prime Android App۔
جواب ::: 
عتبہ بن ربیعہ سردار ،، صاحب بصیرت اور صاحب رائے شخص تھا۔۔۔اس نے قریش سے کہا کہ کیا میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جاؤں تاکہ ان سے کلام کروں اور ان کو کچھ پیشکش کروں ہوسکتا ہے وہ اسے قبول کرلیں اور جو وہ چاہیں ہم انہیں دیں تاکہ وہ ہم سے رک جائیں ؟؟؟ کفار نے کہا اے ابو الولید کیوں نہیں ؟؟؟ جاؤ اور ان سے بات کرو۔۔۔۔
چنانچہ عتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا "" اے بھتیجے خاندان میں آپ کو جو عزت اور اعلیٰ نسب حاصل ہے اسے آپ جانتے ہیں ،، لیکن آپ قوم کے پاس ایک بہت بڑا معاملہ لے کر آئے ہیں اس کے ذریعے آپ نے اپنی قوم کی جماعت میں تفریق ڈال دی ہے اور قوم کے عقلمندوں کو بیوقوف کہا ہے ،، میں آپ کو کچھ پیشکش کرتا ہوں آپ اسے سنیں اور ان میں غور کریں ہوسکتا ہے آپ بعض پیشکش کو قبول کرلیں "" نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "" اے ابو ولید کہو میں سن رہا ہوں ""۔۔۔۔۔
اس نے کہا "" اے بھتیجے جو چیز آپ لے کر آئے ہیں اگر اس کے ذریعے آپ مال چاہتے ہیں تو ہم آپ کے لیے اتنا مال جمع کردیتے ہیں کہ آپ ہم میں سے سب سے زیادہ امیر ہو جائیں گے ،، اگر اس کے ذریعے آپ شرف چاہتے ہی تو ہم آپ کو اپنا سردار بنالیتے ہیں یہاں تک کہ ہم کوئی بھی کام آپ کے بغیر نہیں کریں گے ،، اگر آپ اس کے ذریعے بادشاہت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنالیتے ہیں ،، اگر آپ پہ کسی جن کا سایہ ہے اور آپ اسے دور نہیں کرسکتے تو ہم آپ کے لیے طبیب لائیں گے اور اپنا مال خرچ کریں گے تاکہ ہم آپ کو اس جن کے سایہ سے نجات دلادیں ""۔۔۔۔۔۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "" اے ابو الولید کیا تم اپنی بات سے فارغ ہوگئے ؟؟ "" اس نے کہا "" جی "" تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب تم میری بات سنو پھر آپ نے سورۃ حم سجدہ کی چند آیات کی تلاوت فرمائی ::: 
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
حٰمٓ(1)تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ(2)كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(3)بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًاۚ-فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ(4)وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ(5)قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُؕ-وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَ(6)
ترجمہ ::: 
اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔۔۔
حم،۔ (یہ قرآن) بہت مہربان، نہایت رحم فرمانے والے کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔۔۔یہ عربی قرآن ایک کتاب ہے جس کی آیتیں جاننے والوں کیلئے تفصیل سے بیان کی گئیں ہیں۔۔۔۔اورانہوں نے کہا:ہمارے دل اُس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ ہے تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کررہے ہیں۔۔۔۔تم فرماؤ : میں تمہارے جیسا ایک انسان ہی ہوں ، میری طرف یہ وحی بھیجی جاتی ہے کہ (اے لوگو!) تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو اس کی طرف سیدھے رہو اور اس سے معافی مانگو اور مشرکوں کیلئے خرابی ہے۔۔۔۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرأت فرماتے رہے اور عتبہ سنتا رہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت مبارکہ پہ پہنچے 
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ
ترجمہ ::: 
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ایک ایسی کڑ ک سے ڈراتا ہوں جیسی کڑک عاد اور ثمود پر آئی تھی۔۔۔۔

پھر عتبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآت موقوف کرنے کا حکم دیا اور رحم کی اپیل کی کیوں کہ ڈرانے والی آیات کی وجہ سے اس پہ خوف طاری ہوگیا تھا۔۔۔۔
پھر وہ اپنے کفار ساتھیوں کی طرف لوٹا اور جب ان کے درمیان بیٹھ گیا تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟؟ اس نے کہا "" میں نے ایسا کلام سنا جو اس سے پہلے کبھی نہ سنا ،، اللہ کی قسم نہ وہ شعر ہے نہ جادو ہے اور نہ کہانت ہے ،، اے قریش کے گروہ !!! تم میری بات مانو اس شخص کو اور اس کے کام کو چھوڑ دو یعنی اس کے کام کے درمیان حائل نہ ہو ،، اللہ کی قسم جو کلام میں نے ان سے سنا ہے وہ بہت بڑا امر ہے ،، اگر عرب ان پہ غالب آگئے تو تم اپنی کوششوں کے بغیر ہی انہیں کفایت کر جاؤ گے (( یعنی تمہیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ عرب اسے کافی ہوں گے )) اور اگر وہ عربوں پہ غالب آگئے تو ان کی ملکیت تمہاری ملکیت ہوگی اور ان کی عزت تمہاری عزت ہوگی۔۔۔۔
کفار نے کہا "" اے ابو ولید بے اللہ کہ قسم اس نے اپنی زبان کے ذریعے تم پہ جادو کردیا ہے "" عتبہ کہنے لگا "" یہ میری رائے تھی آگے جو تمہیں بہتر لگتا ہے کرلو""۔۔۔۔۔



🌹✒️ محمد صائم عطاری ✒️🌹

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا