ابنِ اعرابی کا پورا نام شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی ہے
*🇵🇰تاریخ کے جھروکے🇵🇰*
*@* کاپی
*ابنِ اعرابی :*
*"*
ابنِ اعرابی کا پورا نام شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی الحاتمی الطائی الاندلسی ہے۔ آپ اندلس کے شہر مرسیہ میں ٢۷ رمضان المبارک ۵٦٠ھ مطابق ١١٦۵ء کو ایک معزز عرب خاندان میں پیدا ہوئے، جو مشہور زمانہ سخی حاتم طائی کے بھائی کی نسل سے تھا۔ ابن اعرابی دنیائے اسلام کے ممتاز صوفی، عارف، محقق، قدوہ علماء، اور علوم كا بحر بیكنار ہیں۔ اسلامی تصوف میں آپ كو شیخ اکبر کے نام سے یاد كیا جاتا ہے اور تمام مشائخ آپ كے اس مقام پر تمكین كے قائل ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ تصوفِ اسلامى میں وحدت الوجود کا تصور سب سے پہلے انھوں نے ہی پیش کیا۔

وحدت الوجود کا مطلب ہے کہ انسان عبادت و ریاضت کے ذریعے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے کائنات کی ہر چیز میں اللّٰہ نظر آنے لگتا ہے، یا وہ ہر چیز کو اللّٰہ کی ذات کا ایک جز سمجھنے لگتا ہے۔ اس عقیدے کو وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ یا اس کو فنا فی اللّٰہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے یعنی عبادت اور ریاضت میں ترقی کرنے کے بعد انسان اللّٰہ کی ہستی میں مدغم ہو جاتا ہے۔ اور اسے اللہ کے سوا کسی سے کوئی سروکار نہیں رہ جاتا۔ وہ ہمہ وقت اللہ کے جلوؤں میں گم رہتا ہے۔
بعض علماء ظاہر نے ان کے اس عقیدے کو الحاد و زندقہ سے تعبیر کیا ہے۔ مگر صوفیاء انھیں شیخ الاکبر کہتے ہیں۔ جیسا کہ حسین بن منصور حلاج کے معاملے میں ہمارے علماء کی دو رائے ہیں۔
ابن اعرابی کی تصانیف کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ جن میں فصوص الحكم اور الفتوحات المکیہ چار ہزار (۴٠٠٠) صفحات پر مشتمل ہے، بہت مشہور ہے۔ فتوحات المكيۃ ۵٦٠ ابواب پر مشتمل ہے اور کتب تصوف میں اس کا درجہ بہت بلند ہے۔
آپ کے والد مرسیہ کے ہسپانوی الاصل حاکم محمد بن سعید مرذنیش کے دربار سے متعلق تھے۔ ابن عربی ابھی آٹھ برس کے تھے کہ مرسیہ پر مؤحدون کے قبضہ کر لینے کے نتیجہ میں آپ کے خاندان کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔ چونکہ اشبیلیہ پہلے سے موحدون کے ہاتھ میں تھا، اس لئے آپ کے والد نے لشبونہ (حالیہ پرتگال کا دار الحکومت لزبن) میں پناہ لی۔ البتہ جلد ہی اشبیلیہ کے امیر ابو یعقوب یوسف کے دربار میں آپ کو ایک معزز عہدہ کی پیشکش ہوئی اور آپ اپنے خاندان سمیت اشبیلیہ منتقل ہو گئے، جہاں پر ابن عربی نے اپنی جوانی کا زمانہ گذارا۔
ابتدائی تعلیم کے مراحل آپ مرسیہ اور لشبونہ میں طے کر چکے تھے۔ اشبیلیہ میں آپ کو اپنے وقت کے نامور عالموں کے قدموں میں بیٹھنے کی سعادت ملی۔ مروجہ دینی اور دنیاوی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ آپ کا بہت سا وقت صوفیاء کی خدمت میں گذرتا تھا۔ صوفیا کی صحبت نے ہی ان کو اعلیٰ درجہ کا صوفی بننے میں مدد دی۔ اسی طرح آپ کے ماموں ابو مسلم الخولانی، جو ساری ساری رات عبادت میں گذارتے تھے۔ وہ بھی بہت بلند پایہ صوفیاء میں شمار ہوتے تھے۔
یہ صاحب کشف اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ مولانا رومؒ بھی ان سے متاثر تھے اور ان کی کتب شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ تاریخ اسلام کے واحد کردار ہیں جنہیں آج تک کوئی شخص مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا۔ آپ ان کی کتب پڑھیں یہ آپ کو ہر بار نئے معانی، نئے مفاہیم کی سوغات لگیں گی۔ یہ ٣٦ سال مغرب اور ٣٦ سال مشرق میں گھومتے رہے۔ کتب میں لکھا ہے کہ ان کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے بھی ہوئی تھی اور اللّٰـــہ تعالیٰ کی تجلیوں سے بھی بہرہ مند ہوئے۔
٦٢٠ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا۔ جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع الآخر ۶۳۸ھ مطابق ۱۲۴۰ء کو وفات پائی اور جبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے۔
انتقال سے پہلے آپ نے پیش گوئی کی ”میری قبر گم ہو جائے گی۔ یہ اس وقت دوبارہ ظاہر ہو گی جب س ش میں داخل ہو گا“۔ ان کی خبر بالکل سچ ثابت ہوئی یہاں س سے مراد سلطان سلیم تھا اور ش سے مراد شام تھا۔ حضرت ابن عربیؒ کی قبر تقریبا پونے تین سو سال تک گم رہی۔ ترک سلطان سلیم اول نے ١۵١٦ء میں شام فتح کیا۔ یہ جوں ہی دمشق میں داخل ہوا۔ ایک پرانے گھر کی دیوار گری اور حضرت ابن عربیؒ کی قبر ظاہر ہو گئی۔ جس پر آپ کے نام کا کتبہ بھی لگا ہوا تھا ۔۔۔
Comments
Post a Comment