ہاتھ میں ہاتھ تک سفر ہو گا اس سے آگے تو دردِ سر ہو گا
ہاتھ میں ہاتھ تک سفر ہو گا
اس سے آگے تو دردِ سر ہو گا

ملنا ہو تو ابھی ملو ہم سے
آج سا شوق کل کدھر ہو گا
رنگ خوشبو تو اڑ گئے ہوں گے
پھول ضدی تھا ڈال پر ہو گا
وجہ کس نے کہا فقط تم ہو
کچھ نہ کچھ ہم میں بھی ہنر ہو گا
پڑھتا ہو گا وہ سب خطوط مرے
کس اذیت میں نامہ بر ہو گا
نام میرا بھی ساتھ لکھ دیجے
آپ کا نام معتبر ہو گا
دل کی باتیں ہیں اور دیواریں
ایک وحشت میں سارا گھر ہو گا
وہ جو تکتا ہے ایک ٹک مجھ کو
میری حالت سے با خبر ہو گا
میری باتوں میں حل نہ ہو شاید
اک نیا زاویہ مگر ہو گا
زندگی کیوں نہ تجھے وجد میں لاؤں واپس
چاک پر کوزہ رکھوں، خاک بناؤں واپس
دل میں اک غیر مناسب سی تمنا جاگی
تجھ کو ناراض کروں ، روز مناؤں واپس
وہ مرا نام نہ لے صرف پکارے تو سہی
کچھ بہانہ تو ملے دوڑ کے آؤں واپس
وقت کا ہاتھ پکڑنے کی شرارت کر کے
اپنے ماضی کی طرف بھاگتا جاؤں واپس
دیکھ میں گردشِ ایام اٹھا لایا ہوں
اب بتا، کون سے لمحے کو بلاؤں واپس؟
یہ زمیں گھومتی رہتی ہے فقط ایک ہی سمت
تُو جو کہہ دے تو اسے آج گھماؤں واپس
تھا ترا حکم سو جنت سے زمیں پر آیا
ہو چکا تیرا تماشا، تو میں جاؤں واپس
نذر حسین ناز۔
لہجے میں جی حضوری ہے میٹھی زبان ہے
اور یوں منافقین کی چلتی دکان ہے
مشکل سے دیکھ پائیں گے نیچے کھڑے یہ لوگ
ایسی بلندیوں پہ مری اب اڑان ہے
حالت پہ جا نہ تُو میری آنکھوں کو پڑھ کے دیکھ
یہ جیتنے کے بعد کی انتم تھکان ہے
تیرا لحاظ رکھ کے میں گر تو پڑی مگر
اب اٹھ نہ پاؤں گی؟ تیرا وہم و گمان ہے
کوئی تو بھر رہا ہے تری زندگی میں رنگ
جو سادگی سے ان دنوں تو بدگمان ہے
آتا ہے تیر جو بھی لگتا نہیں کہیں
دشمن کے ہاتھ میں بڑی گھٹیا کمان ہے
پہچانتی ہوں میں تیرے ہر ایک لفظ کو
کس نے رٹا دیا تجھے اپنا بیان ہے
رہتا ہے جیسے چاند تاروں کے بیچ میں
ایسے ہی کچھ گھروں میں اک میرا مکان ہے
کل تک تو میری جاں ترا کچھ اور تھا بیان
مٹھو تو آج بولتا کس کی زبان ہے۔۔۔
شمائلہ فاروق
Comments
Post a Comment