تمہارا حسن تمہارے خیال کا چہرہ شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو
عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو
اک اور زخم کھا لوںاگراجازت ہو

تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں
میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا حسن تمہارے خیال کا چہرہ
شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو
تمہیں سے ہے مرے ہر خوابِ شوق کا رشتہ
اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو
تھکا دیا ہے تمہارے فراق نے مجھ کو
کہیں میں خود کو گرا لوں اگر اجازت ہو
برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں
شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا
شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی
ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی
ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں
رقص و نوا تھے بے طرف محفلِ شب بپا بھی تھی
سامعۂ صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا
ایک گماں کی داستاں بر لبِ نیم وا بھی تھی
کیا مہ و سالِ ماجرا، ایک پلک تھی جو میاں
بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی
ایک سرودِ روشنی خیمۂ شب کا خواب تھا
ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی
دل تیرا پیشۂ گلہ کام خراب کر گیا
ورنہ تو ایک رنج کی حالتِ بے گلہ بھی تھی
دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے
اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی
بال و پرِ خیال کو اب نہیں سمت وسُو نصیب
پہلے تھی ایک عجب فضا اور جو پُر فضا بھی تھی
خشک ہے چشمۂ سارِ جاں زرد ہے سبزہ زارِ دل
اب تو یہ سوچیے کہ یاں پہلے کبھی ہوا بھی تھی
جون ایلیا
تشنگی نے سراب ہی لکھا
خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا
ہم نے لکھا نصابِ تیرہ شبی
اور بہ صد آب و تاب ہی لکھا
مُنشیانِ شہود نے تا حال
ذکرِ غیب و حجاب ہی لکھا
نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال
شوق کو بے حساب ہی لکھا
دوستو، ہم نے اپنا حال اُسے
جب بھی لکھا خراب ہی لکھا
نہ لکھا اس نے کوئی بھی مکتوب
پھر بھی ہم نے جواب ہی لکھا
ہم نے اس شہرِ دین و دولت میں
مسخروں کو جناب ہی لکھا
جون ایلیا
کم سخن لوگ ہیں اس واسطے کم بولتے ہیں
پر جہاں کوئی نہیں بولتا ہم بولتے ہیں
اپنی فطرت میں ہے صدیوں کی اداسی شامل
یہ تخیل تو نہیں رنج و الم بولتے ہیں
اک طوائف کی طرح ناچ رہی ہے قسمت
اشک آنکھوں سے تبھی چھم چھما چھم بولتے ہیں
بوتلیں صف میں کھڑی رہتی ہیں ساقی ہے امام
ہم سے میخار میکدے کو حرم بولتے ہیں
شیخ سے کیسی شکایت کی وہ تو ہے ہی خراب
ہمیں کافر تو اپنے اہلِ قلم بولتے ہیں
ان پر مت جانا میرے اچھے مسیحا سن لے
قہقہوں میں تو سبھی دل کے زخم بولتے ہیں
آج بھی حکم عدولی نہیں کرتا پانی
اشک تھم جاتے ہیں وہ ایک ہی زَم بولتے ہیں
تو ہمیں غیر سمجھتی ہے ادھر یار میرے
بات منوانی ہو تو تیری قسم بولتے ہیں
حال جب محسنِ حزیں کا پوچھ لے کوئی
اک بلند قہقہہ پھر رب کا کرم بولتے ہیں
محمود مغل ✍️
گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بھُلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
جون ایلیاء صاحب
کر لیا خود کو جو تنہا میں نے
یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے
وہ جو تھا اس کو مِلا کیا مجھ سے
اس کو تو خواب ہی سمجھا میں نے
دل جلانا کوئی حاصل تو نہ تھا
آخرِ کار کیا کیا میں نے
دیکھ کر اس کو ہُوا مست ایسا
پھر کبھی اسکو نہ دیکھا میں نے
شوقِ منزل تھا بُلاتا مجھ کو
راستہ تک نہیں ڈھونڈا میں نے
اک پلک تجھ سے گزر کر ، تا عمر
خود ترا وقت گزارا میں نے
اب کھڑا سوچ رہا ہوں لوگو!
کیوں کیا تم کو اِکھٹا میں نے
جون ایلیاء
مر مِٹا ہُوں خیال پراپنے
وجد آتا ہے حال پر اپنے
ابھی مت دِیجیو جواب، کہ میں
جُھوم تو لوُں سوال پر اپنے
عُمر بھر اپنی آرزُو کی ہے
مر نہ جاؤں وصال پر اپنے
اِک عطا ہے مِری ہوس نِگہی
ناز کر خدّ و خال پر اپنے
اپنا شوق ایک حیلہ ساز، سو اب
شک ہے اُس کو جمال پر اپنے
جانے اُس دَم، وہ کِس کا مُمکن ہو
بحث مت کر مُحال پر اپنے
تو بھی آخر کمال کو پہنچا
مست ہوں میں زوال پر اپنے
بس یُونہی میرا گال رکھنے دے
میری جان آج گال پر اپنے
کوئی حالت تو اعتبار میں ہے
خوش ہُوا ہُوں ملال پر اپنے
خود پہ نادم ہُوں جون، یعنی میں
اِن دِنوں، ہُوں کمال پر اپنے
جون ایلیاء صاحب
ہر اعتبار حالتِ حالت گزر میں ہے
فرصت کسے نصیب کہ فرصت گزر میں ہے
کیا طور اب گِلے کا کریں اختیار ہم
اک طور بے طرح ہے کہ فرقت گزر میں ہے
کیا تم وہی ہو جو تھے مری جان، میری جان!
دکھ یہ ہے ہر گمان کی ساعت گزر میں ہے
کیا جبر و اختیار میاں جی! سو چپ رہو
منشا مرا یہ ہے کہ مشیت گزر میں ہے
میں رقص میں ہوں محمل خلوت کے پیش و پس
موج شمیم محمل خلوت گزر میں ہے
میں تم سے کیا کہوں، جو رکوں تو سخن کروں
یعنی شکستہ پائی حسرت گزر میں ہے
حال میان حیرتیاں، پوچھیو نہ تو
برپا ہے ایک حشرکہ حیرت گزر میں ہے
کیا ہے نصیب وعدہ و پیمان جان و دل
فریاد میری اور تری صورت گزر میں ہے
ہوتا اگر کچھ اور تو مارا گیا تھا تو
ہر لمحہ شکر کر کہ شکایت گزر میں ہے
جون ایلیاء صاحب
Comments
Post a Comment