ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا
ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا

گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
مرے قاتل حساب خوں بہا ایسے نہیں ہوتا
جہان دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
یہاں پیمان تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا
ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے
مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا
رواں ہے نبض دوراں گردشوں میں آسماں سارے
جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا
جاناں پھولوں جیسی ہو تم
پیپر کیسے دیتی ہو تم
نازک انگلیاں دکھتی ہونگی
اتنا زیادہ لکھتی ہو تم
پردہ کر کے آیا کرو اب
یو ایف اے میں پڑھتی ہو تم
کلاس میں اکثر بات نہیں کرتی
اچھا سر سے ڈرتی ہو تم
میری بات تو سنتی نئی ہو
لیکچر کیسے سنتی ہو تم
سجھ دھج کر نہ آیا کر بس
شہزادی تو لگتی ہو تم
افکار , حافی, زیورن چھوڑو
مرشد جون پڑھتی ہو تم ؟؟
میں تو تیرا عاشق ہوں یار
میری فولنگ کرتی ہو تم !!
تیرے نخرے ہم دیکھیں اب
کتنی پاگل لڑکی ہو تم
ناداں لڑکی عشق نہیں کرتے
یو اے ایف میں پڑھتی ہو تم
چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے
اک موڑ پر ، تمام زمانے لگے مجھے
تنہامیں جل رہا تھا تو خوش ہو رہے تھے لوگ
ان تک گئی جو آگ ، بُجھانے لگےمجھے
آنکھوں میں جھانکنےکی ضرورت نہیں پڑی
چہروں کے خول ، آئینہ خانے لگے مجھے
اپنی طرف جو دیکھ لیا ان کو دیکھ کر
آنسو ، چراغ ، زخم ، خزانے لگے مجھے
دروازے پر جو انکے میں جا بیٹھا ایک دن
دیوار کی طرح ، وہ اٹھانے لگے مجھے
ظالم کا ہاتھ ، جب میری دستار پر پڑا
دنیا کے پاؤں ، اپنے سر آنے لگے مجھے
سچائیوں کا زہر میں پینے چلا تو ہوں
یہ زہر پی کے نیند نہ آنے لگے مجھے
آیا یہ کیسا خول چڑھا کر سِتم ظریف
اندر کے داغ بھی نظر آنے لگے مجھے
رکھا نہ میری موت کا بھی غم سنبھال کر
آنکھوں سے اپنے لوگ ، بہانے لگے مجھے
ٹپکا لہو ، تو ظلم کی تصویر بن گئی
ظالم اسے پلٹ کے دکھانے لگے مجھے
اونچا ہو میرا سر یہ کوئی چاہتا نہ تھا
سُولی پہ بھی چڑھا تو گِرانے لگے مجھے
مانگےهوئے حریر و جواہر کی سیج پر
سونے لگا تو پاؤں سرہانے لگے مجھے
مجھ سے ملے بغیر مظفر جو تھے خفا
میں ان سے مل لیا تو منانے لگےمجھے
*( مظفر وارثی )*
بہار رُت میں اجاڑ راستے ،
تکا کرو گے تو رو پڑو گے …
کسی سے ملنے کو جب بھی محسن ،
سجا کرو گے تو رو پڑو گے … .
تمھارے وعدوں نے یار مجھ کو ،
تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے …
کے زندگی میں جو پھر کسی سے ،
دغا کرو گے تو رو پڑو گے …
میں جانتا ہوں میری محبت ،
اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسی …
کے چاند راتوں میں اب کسی سے ،
ملا کرو گے تو رو پڑو گے …
برستی بارش میں یاد رکھنا ،
تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں …
کسی ولی کے مزار پر جب
دعا کرو گے تو رو پڑو گے
فلک کو چُھو لیں جو وہ نگاہیں آئی ہیں...
میرے بچوں کے حصے میں تیری دعائیں آئی ہیں
قضاء ہوئیں نہ جو سجدوں میں تھیں مانگیں تُونے....
تیرے کرم کی تیرے عفو کی ہوائیں آئی ہیں....
میں تیرے ساتھ ہوں ہر موڑ پہ ہر حال میں ..
تیرے دل کی میرے دل کو صدائیں آئی ہیں ..
محبت بندگی عاجزی عاشقی آگہی علم و ادب آئینہ سازی ...
سِمٹ کر میری رُوح میں تیری ادائیں آئی ہیں...
چراغ راہ ہے منزل ہے ہر حُسن ِ عمل حَسن....
تیرے کردار کو سمجھا تو یہ وفائیں آئی ہیں....
مبشرحسن
Comments
Post a Comment