لگا ھے ڈر کہ ، کہیں ھو نہ جاؤں پتھر کا پلٹ کے میں نے تُجھے ، میرے یار دیکھ لیا

 تمہارے چہرے کو رغبت کی آنکھ سے ھم  نے
نہ چاھتے ھُوئے ، بے اِختیار  دیکھ  لیا

لگا ھے ڈر کہ ، کہیں ھو نہ جاؤں پتھر کا
پلٹ کے میں نے تُجھے ، میرے یار دیکھ لیا

نظر کی بُھوک نے اوسان  تیز کر ڈالے 
بس اِک جھلک میں تجھے ، بے شمار دیکھ لیا۔
بجھتی آنکھوں میں ترے خواب کا بوسہ رکھا
رات پھر ہم نے اندھیروں میں اجالا رکھا

زخم سینہ میں تو آنکھوں میں سمندر ٹھہرا
درد کو میں نے مجھے درد نے زندہ رکھا

میرا ایماں نہ ٹکا پائیں ہزاروں شکلیں
میری آنکھوں نے ترے پیار میں روزہ رکھا

کیا قیامت ہے کہ تیری ہی طرح سے مجھ سے
زندگی نے بھی بہت دور کا رشتہ رکھا
 جانِ جاں ❤️
Published from Blogger Prime Android App
شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے
کہ وقت مِنّتیں کرتا رہا؛ "گزار مجھے" 

اب اپنا اپنا مقدّر شکایتیں کیسی
تجھے بہار نے گُل دے دیے تو خار مجھے 

میں تیرا میرا تعلّق بچاتے جاں سے گیا
تُو پھر بھی اپنوں میں کرتا نہیں شمار مجھے 

چلا میں روٹھ کر آواز تک نہ دی اس نے
میں دل میں چیخ کے کہتا رہا، "پکار مجھے" 

بچھڑ کے تجھ سے میں اک سانس تک نہیں لوں گا
خدا نے گر دیا دھڑکن پہ اختیار مجھے 

وفا کے نام پہ جو قتلِ اعتبار کریں
خدایا ایسوں کی بستی میں مت اتار مجھے 

نصیب ہوتی نہیں منزلیں یہاں پہ اسیر
رہِ وفا کا یہ کہتا رہا غبار مجھے
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

یارب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
یہ محشرِ خیال کہ دنیا کہیں جسے

پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خدا
افسونِ انتظار، تمنا کہیں جسے

سر پر ہجومِ دردِ غریبی سے ڈالیے
وہ ایک مشتِ خاک کہ صحرا کہیں جسے

غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے؟
 دل مخمور "

وہ نرگسی آنکھیں جھپکے 
یا پھر اپنی تیر مژگاں اٹھائے 
نظم بنتی ھے !

وہ زلف پرخم کھولے 
یا پھر اپنے گیسوئے مشکیں باندھے
نظم بنتی ھے !

وہ فلک کو آنکھ بھر کے دیکھے 
یا چاند کو دیکھ کر شرمائے 
نظم بنتی ھے !

غصے سے ماتھے پر بل پڑیں 
یا پھر بات بات پر وہ ہنسنے لگے 
نظم بنتی ھے !

وہ کرے بناؤ سنگھار 
کاجل لگائے یا پھول سجائے زلفوں میں
اس کی انہی دلفریب اداؤں پر 
نظم بنتی ھے !

وہ دھیرے سے مجھے پکارے
میں دوڑ کر اس کی جانب لپکوں
ان دو چار لمحوں پر باخدا 
نظم بنتی ھے !
وہ کہتی تھی تمہارے بعد میرے پاس کیا ہوگا.؟
میں کہتا تھا میری یادیں، میرے اشعار اور تحفے،،

وہ کہتی تھی کہ میرے بعد بھی اشعار لکھو گے.؟
میں کہتا تھا کہ اچھی شاعری تنہا ہی لکھتے ہیں،،

وہ کہتی تھی تمہاری آنکھ میں آنسو نہیں آتے.؟
میں کہتا تھا کہ رونے سے بھلا قسمت بدلتی ہے..؟؟

وہ کہتی تھی کہ میرے بعد بھی سگریٹ پیو گے تُم.؟
میں کہتا تھا تمہارے بعد اب اس کو ہی چاہونگا

وہ کہتی تھی میری آنکھیں تمہیں بےحد پکاریں گی
میں کہتا تھا  کہ اتنی دور تک آواز جائیگی..؟؟

وہ کہتی تھی کہ کوئی الوداعی بات کہنی ہے.؟
میں کہتا تھا کہ "ہاں! دیکھو ، دوبارہ عشق مت کرنا

وہ کہتی تھی خدا حافظ .! ہمیشہ خوش رہا کرنا،،
میں اس کے بعد کے لمحے یہاں لکھنے سے قاصر ہوں.
یقیں بھی ہو تو گماں کے قریب ہوتی ہیں
تمہاری باتیں بھی اتنی عجیب ہوتی ہیں 

غمِ حیات کی سختی پہ رنج مت کرنا
دکھوں کے بعد ہی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں

تھکا دیا ہے مجھے ہجر کی مسافت نے 
شبِ وصال میں نیندیں رقیب ہوتی ہیں 

لٹائیں پیار کے دو بول پر متاعِ دل
یہ لڑکیاں بھی عجیب و غریب ہوتی ہیں

دور ہو تو قریب ہوتی ہیں
 اور مجھ کو بھائی پکارنے والی 

کس قدر بد نصیب ہوتی ہے
 
 ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے

حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے

لمہحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے

تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنّا
مقدور نہیں صبح ، چلو شام ہی آئے

کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس راہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنّا
کام آئے تو پھر جذبئہِ نام ہی آئے

باقی نہ رہے ساکھ ادا دشتِ جنوں کی
دل میں اگر اندیشہ انجام ہی آئے

ادا جعفری

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا