آج بھی انتظار کا وقت حنوط ہو گیا ایسے لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے
میرے ساقی یہ تماشا تیرے مے خانے کا
ساری محفل کو نشہ ایک ہی پیمانے کا
اب کسی طور سے قابو میں نہیں آنے کا
خلق دیکھے گی تماشا تیرے دیوانے کا
بات کہتا ہے کچھ ایسی کہ نہ سمجھے کوئی
یہ بھی اک غور طلب رنگ ہے دیوانے کا
چشم ساقی ہے اُدھر اور میرا دل ہے اِدھر
آج ٹکراؤ ہے پیمانے سے پیمانے کا
بات پہ بات اٹھا دیتا ہے اک چھیڑ نئی
پڑ گیا ہے اسے چسکا مجھے تڑپانے کا
وہ بہار آئی نصیر اور وہ اٹھے بادل
بات ساغر کی چلے ذکر ہو میخانے کا
حضرت سید نصیرالدین نصیر گیلانی رحمتہ اللّہ علیہ

جھونکا ہوا کا تھا جو آیا گزر گیا
کشتی میری ڈبو کے دریا اتر گیا
صدیوں کی آہ وزاری دامن میں ڈال کر
لمحوں کا ہمسفر تھا جانے کدھر گیا
وہ خواب سی حقیقت میرا روگ بن گئی
ایک دل لگی کی قیمت خون جگر گیا
پھولوں کی مسکراہٹ کیا کام کر گئی
میرے سکوں کا گلشن کانٹوں سے بھر گیا
میرے پیار پہ جو صدقہ میرے پیار نے دیا
دیکھا جو غور سے تو میرا ہی سر گیا
بنتی ہیں نیازیں روز اس کے مزار پر
جو کچھ روز پہلے فاقے سے مر گیا
مجھے قتل کر کے شاکر رویا بے پناہ وہ
کتنی ہی سادگی سے قاتل مکر گیا🖤🖤🖤
شاکر شجاع آ بادی
اچھا تو وہ تسخیر نہیں ہوتا کسی سے
یہ بات ہے تو آج سے احباب، لگی شرط
پھر ایک اسے فون میں رو رو کے کروں گی
پھر چھوڑ کے آجائے گا وہ جاب، لگی شرط
اس شخص پہ بس اور ذرا کام کرونگی
سیکھے گا محبت کے وہ آداب، لگی شرط
جو دکھ کی رتوں میں بھی ہنسی اوڑھ کے رکھیں
ہم ایسے اداکار ہیں نایاب ، لگی شرط
جب چاہوں تجھے توڑ دوں میں کھول کے آنکھیں
اے چشم اذیت کے برے خواب ! لگی شرط
کومل جوئیہ
بینگن جیسی رَنگت پر اِتراتی ھے ، یہ زیادتی ھے
پاؤڈر کے دو ڈبے روز لگاتی ھے ، یہ زیادتی ھے
چھ من کی وہ ھو کر بھی وہ شرماتی ھے ، یہ زیادتی ھے
اِس پر پوشاکیں بھی فِٹ بنواتی ھے ، یہ زیادتی ھے
کار پر ھو تو ، کار یہ خود فرماتی ھے ، یہ زیادتی ھے
بس پر ھو تو، بس کی بس ھو جاتی ھے ، یہ زیادتی ھے
چائنہ کے موبائل پر اِتراتی ھے ، یہ زیادتی ھے
لوڈ ھمارا ، کال تمہیں کَھڑکاتی ھے ، یہ زیادتی ھے
اُس کا ابا ویسے ھی جذباتی ھے ، یہ زیادتی ھے
حالانکہ یہ مسئلہ میرا ذاتی ھے ، یہ زیادتی ھے.
چلو ، وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
پر کیا کریں ہمیں اک دوسرے کی عادت ہے
تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوںمجھے ٹوٹنے کی عادت ہے
میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے
تیرے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے
وصال میں بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے
یہ مشکلیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں
میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے
یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے
نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے
(احمد فراز)
( سفر )
یہ مانا چند لمحوں کی رفاقت بھی
بہت ہے آج کل لیکن
مرے اندر کا سناٹا
کبھی دیکھو تو جانو گے
کہ میں کیوں
نیند کی خاموش تاریکی سے ڈرتا ہوں
کئی دن سے تو میں نے خواب بھی
ڈر ڈر کے دیکھے ہیں
جو سناٹے کا عادی ہو گیا ہو
اُس کے کانوں کو
خَزاں میں پیڑ سے ٹوٹے ہوئے
پتّوں کے گرتے وقت ہلکی سی
تڑپنے کی صدا بھی اچھی لگتی ہے
یہ مانا میں اکیلا پَن تو اپنا
بانٹ ہی لوں گا
مگر کوئی ادھورا پَن مرا بانٹے
تو میں جانوں
سفر میں زندگی کے
میں نے دیکھا ہے
اگر ملتا بھی ہے کوئی
تو چُپکے سے کسی اک موڑ پر
وہ چھوڑ جاتا ہے
ابھی تو خیر سے
منزل بڑھاپے کی نہیں آئی
ابھی تو اور بھی کچھ موڑ آئیں گے
بڑھاپے میں سہارے کی
ضرورت ہونے لگتی ہے
یہ ملنے اور بچھڑنے کی خلش ہی
اک سہارا ہے !!!
پرائی نیند میں ، سونے کا تجربہ کر کے
میں خوش نہیں ہوں تجھےخود میں مبتلا کر کے
اصولی طور پہ مَر جانا چاہیئے تھا ، مگر
مجھے سکون ملا ھے ، تجھے جدا کر کے
یہ کیوں کہا کہ تجھےمجھ سے پیار ہو جائے
تڑپ اٹھا ھوں تیرے حق میں بددُعا کر کے
میں چاھتا ھوں خریدار پر یہ کھل جائے
نیا نہیں ھوں ، رکھا ھوں یہاں نیا کر کے
میں جوتیوں میں بھی بیٹھاھوں پورےمان کےساتھ
کسی نے مجھ کو بلایا ھے ، التجا کر کے !
بشر سمجھ کے ، کیا تھا نہ یُوں نظر انداز
لےمیں بھی چھوڑ رہا ہوں تجھےخدا کر کے
پھر وہ روتے ھوئے منتیں بھی مانتے ہیں
جو انتہا نہیں کرتے ہیں ، ابتداء کر کے
بدل چکا ھے ، میرا لمس نفسیات اس کی
کہ رکھ دیا هےاُسےمیں نے اَن چُھوا کر کے
منا بھی لوں گا گلے بھی لگاؤں گا میں ندیم
ابھی تو دیکھ رها هوں ، اُسے خفا کر کے
چارہ گر اے دلٍ بیتاب کہاں آتے ہیں
مجھ کو خوش رہنےکے آداب کہاں آتے ہیں
میں تو یَک مُشت سونپ دوں اُسے سب کچھ
لیکن! ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں
مدتوں بعد اُسے دیکھ کے دل بھر آیا
ورنہ صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں
میری بےدرد نگاہوں میں اگر بھولے سے
نیند آ بھی جائے تو خواب کہاں آتے ہیں
تنہا رہتا ہوں میں دن بھر بھری دنیا میں قتیل
دن بُرے ہوں تو پھر احباب کہاں آتے ہیں !!!!!
قتیل شفائی
پھسلا تو میاں! طے ہے کہ غرقاب تو ہو گا
آنکھوں میں سمندر نہ سہی ، خواب تو ہو گا
گم صم سا جو اک شخص ہے دالان میں بیٹھا
اس کا بھی۔۔۔۔ کوئی حلقہِ احباب تو ہو گا!
مت مجھ سے الجھ یار، بس اتنا سا سمجھ لے
جو خود کو میسر نہیں۔۔۔۔ نایاب تو ہو گا!
راز احتشام
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے
تیرے لئے چلے تھے ہم تیرے لئے ٹھہر گئے
تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے
وقت ہی کچھ جدائی کا اتنا طویل ہو گیا
دل میں تیرے وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے
ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیاس کا
صحرا امڈ امڈ پڑے دریا بپھر بپھر گئے
آج بھی انتظار کا وقت حنوط ہو گیا
ایسے لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے
بارش وصل وہ ہوئی سارا غبار دھل گیا
وہ بھی نکھر نکھر گیا ہم بھی نکھر نکھر گئے
آب محیط عشق کا بحر عجیب بحر ہے
تیرے تو غرق ہو گئے ڈوبے تو پار اتر گئے۔۔۔
عدیم ہاشمی
Comments
Post a Comment