دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں تو کیا ہوا، وہ شکل تو دکھا گیا

 دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا، وہ شکل تو دکھا گیا

جدائیوں کے زخم، درد زندگی نے بھر دیئے
تجھے بھی نیند آگئی، مجھے بھی چین آ گیا

وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دشمناں ہوئی
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا

پکارتی ہیں فرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں
زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا

یہ صبح کی سفیدیاں، یہ دوپہر کی زردیاں
میں آئینے میں ڈھونڈتا ہوں، میں کہاں چلا گیا

یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی
وہ لہر کس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا

گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک 
الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا
*دیر تک رات اندھیرے میں جو میں نے دیکھا*
*مجھ سے بچھڑے ہوئے اک شخص کا چہرہ ابھرا*

*قسمیں دے دے کے مرے ہاتھوں نے مجھ کو روکا*
*میں نے دیوار سے کل نام جب اس کا کھرچا*

*موم بتی کو گلاتا رہا دھیرے دھیرے*
*رات اندھیرے کا مرے کمرے میں بہتا لاوا*

آفتاب شمسی

Published from Blogger Prime Android App
*ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت*
*لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے*

*مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں*
*عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے*

*یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ*
*ایسا زخم تو دل پر کھایا جا سکتا ہے*

*پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابشؔ*
*اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے*

عباس تابش
میں اکیلا اور سفر کی شام رنگوں میں ڈھلی 
پھر یہ منظر میری نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا 

اب کہاں ہوگا وہ اور ہوگا بھی تو ویسا کہاں 
سوچ کر یہ بات جی کچھ اور بوجھل ہو گیا

منیر نیازی
حسن و جمال خود پہ بہت اعتماد اور
آنکھوں میں اک خوشی تھی مگر اب نہیں رہی

زیادہ نہیں تو سال سے پہلے کی بات ہے
اس وقت دلکشی تھی مگر اب نہیں رہی

ذریت لاریب توقیر 🖤
 کچھ تو میرے یقین کی وسعت قلیل تھی
کچھ وہ میرے گمان سے آگے نکل گیا

میں نے تو صرف ہائے کہا لوگ رو پڑے
لہجہ میرے بیان سے آگے نکل گیا

تو بھی گلی کے سامنے کھڑکی نہ رکھ سکا
میں بھی تیرے مکان سے آگے نکل گیا

میں نے علی ع کا نام اٹھا کر بھری اڑان
یکلخت آسمان سے آگے نکل گیا

اس درجہِ کمال پہ پہنچی تھی جستجو
رکیے کے ہر نشان سے آگے نکل گیا

ذریت لاریب توقیر 🖤
اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے
وہ ایک بار ملے تھے تو پھر ملا کرتے

کواڑ گرچہ مقفل تھے اس حویلی کے
مگر فقیر گزرتے رہے صدا کرتے

ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے
ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے

تری جفا کا فلک سے نہ تذکرہ چھیڑا
ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے

تجھے نہیں ہے ابھی فرصت کرم نہ سہی
تھکے نہیں ہیں مرے ہاتھ بھی دعا کرتے

انہیں شکایت بے ربطی سخن تھی مگر
جھجک رہا تھا میں اظہار مدعا کرتے

چقیں گری تھیں دریچوں پہ چار سو انورؔ
نظر جھکا کے نہ چلتے تو اور کیا کرتے

انور مسعود
: بڑے تحمّل سے ، رَفتہ رَفتہ نکالنا ھے 
بچا ھے جو تُجھ میں ، میرا حصہ نکالنا ھے 

یہ رُوح برسوں سے دَفن ھے ، تم مدد کرو گے ؟
بدن کے مَلبے سے ، اُس کو زِندہ نکالنا ھے

عمیر نجمی
 اپنا بھی کسی حال میں اب دِل نہیں لگتا، 
اُسکا بھی یہی حال ہے میں دیکھ رہا ہوں، 

دِن رات اِسی آس میں ہوں، فون بجے گا، 
میسج ہے نہ مس کال ہے میں دیکھ رہا ہوں
فیصل شہزاد
اک ذرا  سُن تو  سہی  مہکتے  گیسو  والی
راہ میں کوئی دکاں پڑتی  ہے  خوشبو  والی

پھر یہ کیوں ہے کہ مجھے دیکھ کے رم خوردہ ہے
تیری آنکھوں میں تو وحشت نہیں آہو  والی

دیکھنے میں تو ہیں سادہ سے خدوخال مگر
لوگ کہتے ہیں  کوئی  بات  ہے  جادو  والی
کیا ہوا ہے میری حالت کو بتائے کوئی ؟
چشمِ جاناں مجھے دیکھتے ہی تر ہو گئے 

چاہے پانی میں گھر تھا مگر گھر تو تھا 
ہم اُسکی آنکھ سے نِکلے تو دربدر ہو گئے ! 

وقاص نزیر
'کوئی بھی ایسی عورت نہیں جس کا نعم البدل کوئی دوسری عورت ہو، 
ایک ایسی عورت جسے آپ چھوڑ دیں یا اُسے کھو دیں آپ ویسی کوئی دوسری ڈھونڈھ ہی نہیں سکتے، 
آپ اُس کی ذات کو ہزاروں عورتوں میں تلاش کرتے اپنی زندگی گزار دیں گے لیکن پھر بھی اُس ایک کی غیر موجودگی کو پورا نہیں کر پائیں گے"
عجب اک پردہ حائل ہے جو سرکایا نہیں جاتا
بہت سیدھی سی باتوں کو بھی سمجھایا نہیں جاتا

کبھی تھا فخر یہ خود پہ کہ میرِ کارواں ہم ہیں
لُٹے پھر  قافلے ایسے کہ اترایا نہیں جاتا

بہت وعدے ہوئے ہم سے، مداوا لازمی ہو گا 
مگر ہے وقت ایسا قرض لوٹایا نہیں جاتا

بہاریں جب نہیں اپنی تو پھر کیا آرزو رکھنا
یہ گلشن مانگے کی خوشبو سے مہکایا نہیں جاتا

نجانے کیوں سبھی رشتے ہوئے جاتے ہیں اب لاغر
کہ دوری دو قدم کی ہو مگر آیا نہیں جاتا

کسی سے مشورہ کیسا کسی سے پوچھنا کیا اب
ہنر ایسا محبت جو کہ بتلایا نہیں جاتا

مرے صیاد سے کہہ دو نہیں اب لوٹنا ممکن
سمندر میں گرے قطرے کو پھر پایا نہیں جاتا

اب آگے ڈھونڈتے ہو کیا مجھے تم اس کہانی میں
میں وہ کردار جو انجام تک لایا نہیں جاتا
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے ؟
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے ؟

تُجھ سے جب مل کر بھی اُداسی کم نہیں ہوتی
تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے؟

کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے؟
ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے؟

یار ! ہوا سے کیسے آگ بھڑک اُٹھتی ہے؟
لفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے ؟

کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے؟
درد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے؟؟

ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کےرہ جائیں!
وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے؟

کیسے ہو سکتا ہے جو کُچھ بھی میں چاہوں؟
بول نہ میرے یارا !کیسے ہو سکتا ہے؟؟

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا