سبھی موسم ہیں دسترس میں تری  تُو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے  تُو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر  یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے 

 ایسے   پت  جھڑ سے  وسیلے  نکلے 
سب نئے پتے      بھی    پیلے   نکلے

میں نے جب ذکر.  بہاروں     کا کیا
سارے       الفاظ    نکیلے       نکلے

کیسی حیرت کہ مرے  شجرے میں 
چند       آوارہ        قبیلے       نکلے

تم نے جو. مجھ کو بُوکے بھیجا تھا
اس کے   سب پھول    کٹیلے   نکلے

رات ایسی   تھی   ہوا   میں  تاثیر
قطرے    شبنم     کے  نشیلے   نکلے

انتخاب
Published from Blogger Prime Android App
سرِ طور ہو سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

نہ ہو ان پہ میرا جو بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی

تیرا در تو ہمکو نہ مل سکا، تیری رہگزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ نہ اٹھایئے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی



تجھ کو چھونے کے بعد کیا ہو گا 
دیر تک ہاتھ کانپتے رہیں گے 

سبھی موسم ہیں دسترس میں تری 
تُو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے 

تُو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر 
یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے 

تہذیب حافی

 پھر یوں ہوا کہ دل کو لگن لگ گئی تیری
پھر یوں ہوا کہ سکوں کا کوئ پل نہیں ملا
کھڑکیاں بے سبب نہیں ہوتیں 
تاکتے جھانکتے رہا کیجئے 

رسا چغتائی
*ہم نے چپ چاپ کھو دیا تمہیں*
*یہ ہے بچھڑنے کی انتہا جاناں..!*
 صُبح زِنداں مِیں بھی ہوتی ہوگی
پُھول مقتل مِیں بھی کِھلتے ہُوں گے
   (اداؔ جعفری)

بظاہر محفلوں کی جان ہوں میں 
لیکن حقیقتا تنہائی کا مارا ہوں
‏مجھ میں اب اور سکت باقی نہیں بٹنے کی
‏میں میّسر ہوں جسے جتنا غنیمت سمجھے

بیٹھ جاتا ہے وہ جب  محفل  میں ، آ کے سامنے
مَیں ہی بس ہوتا ہُوں اُس کی اس ادا کے سامنے 

تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سُونا کر گئی
دیر تک بیٹھا رہا مَیں اُس ہَوا کے سامنے 

رات اِک اُجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی 
گُونج اُٹھے بام و دَر ،  میری صدا کے سامنے 

وہ رنگیلا ہاتھ میرے دِل پہ اور اُس کی مہک 
شمعِ دِل بُجھ سی گئی ـــ رنگِ حنا کے سامنے 

مَیں تو اُس کو دیکھتے ہی جیسے پتھر ہو گیا 
بات تک منہ سے نہ نکلی ـــــ بے وفا کے سامنے 

یاد بھی ہیں اے مُنیرؔ ــــ اُس شام کی تنہائیاں
ایک میداں ، اِک دَرخت ، اور تُو خُدا کے سامنے 

شاعر:  ”مُنیرؔ نیــازی“
مجموعہ کلام : ”جنگل میں دَھنک“

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا