یونہی نہیں اُداس میں رہتا ہوں دوستو!! میری اداسیوں کا سبب ایک شخص ہے!!

 خود سے دُعا سلام ہوئ تو پتہ چلا!!
مجھ میں مکین شخص بڑا نیک شخص ہے!!

 یونہی نہیں اُداس میں رہتا ہوں دوستو!!
میری اداسیوں کا سبب ایک شخص ہے!!
Published from Blogger Prime Android App
اُسامہ فراق
 قتیل شفائی 

چارہ گر اے دلٍ بیتاب کہاں آتے ہیں
مجھ کو خوش رہنےکے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یَک مُشت سونپ دوں اُسے سب کچھ
لیکن! ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں 

مدتوں بعد اُسے دیکھ کے دل بھر آیا 
ورنہ صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

میری بےدرد نگاہوں میں اگر بھولے سے
نیند آ بھی جائے تو خواب کہاں آتے ہیں

  تنہا رہتا ہوں میں دن بھر بھری دنیا میں قتیل
دن بُرے ہوں تو پھر احباب کہاں آتے ہیں !!!!!
کبھی سکوں  تو کبھی خیر و شر دیا ہے مجھے
مرے جنوں نے الگ سمت کر دیا ہے مجھے

میں اپنے آپ کو اکثر نظر نہیں آتی
کسی نے ایسے فراموش کردیا ہے مجھے

میں سوچتی تھی کہ کرنا ہے بس تمہی کو بسر
بساطِ عشق نے عجلت میں دھر دیا ہے مجھے

سفر کے واسطے مہلت ہے چار دن کی فقط
خدا نے وقت بہت مختصر دیا ہے مجھے

یہ ہاتھ پاؤں کی خیرات بٹتی ہے سب میں
سخن وری نے الگ جسم و سر دیا ہے مجھے 

 میں جیسے چاہوں بدل سکتی ہوں فسانہِ دل
یہی تو شعر نے واحد ہنر دیا ہے مجھے

کرن اک ایسے علاقہ میں چل رہی تھی میں
کہ میرے سائے نے بے کار کر دیا ہے مجھے

کرن منتہٰی
 جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے

یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ
وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زباں  پر آگئے

وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے

وہ چراغ ِجاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی
تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے

وہ تھا چاند شام ِوصال کا کہ تھا روپ تیرے جمال کا
میری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گئے

یہ جو بندگان ِنیاز ہے یہ تمام ہیں وہ لشکری
جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے

تیری بے رخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہَوا ہوا
تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گئے

تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرار ِرنگ اجڑ گیا
میری خواہشوں کے غبار میں میرے ماہ و سال ِوفا گئے

میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے
تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے,

امجد اسلام امجد
 ہم نے دیکھی ہے، اُن آنکھوں کی مَہکتی خُوشبُو 
ہاتھ  سے چُھو  کے  اِسے ، رِشتوں  کا الزام نہ  دو

صرف  اَحساس  ہے یہ ، رُوح  سے محسُوس  کرو 
 پیار  کو  پیار  ہی   رہنے   دو ، کوئی  نام  نہ  دو
🖤

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا