ہر شخص ـــــ محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں
ہماری آنکھ سے اک روز نم نکل آیا
جسے زیادہ سمجھتے تھے، کم نکل آیا
تمام عمر بھی خرچہ کریں تو کم نہ پڑے
ہماری جیب سے اتنا الم نکل آیا
بدن پہ اگ رہا تھا کوئی ہجر کا کانٹا
کسی کے نرم لبوں کا کرم ... نکل آیا
کمال کی میں اداکار بن کے پھرتی تھی
ملا وہ یار پرانا ، بھرم نکل آیا
مجھے لگا کہیں راگوں کو چھیڑتا ہے کوئی
تمہاری سانسوں کا وہ زیروبم نکل آیا۔۔۔۔۔
بڑے عروج پہ تھی یہ فضا عنایت کی
کہاں سے جانے یہ عہد ستم نکل آیا
مجھے بتایا گیا تھا خوشی ملے گی یہاں
مگر تمام درازوں سے غم نکل آیا
یہ کیا ہوا کہ ہوا حبس میں چلی رفعت
ہماری سمت کوئی محترم نکل آیا؟
زندگی پاؤں نہ دھر جانبِ انجام ابھی
میرے ذمّے ہیں ادھورے سے کئ کام ابھی
ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تیری یاد سرِ شام ابھی
اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے..
تیرے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی...!!
رات آئ ہے تو کیا تْم تو نہیں آۓ ہو
میری قسمت میں کہاں لکھا ہے آرام ابھی
جان دینے میں کروں دیر یہ ممکن ہے کہاں
مْجھ تک آیا ہے میری جان تیرا پیغام ابھی
توڑ سکتا ہے میرا دل یہ زمانہ کیسے..
میرے سینے دھڑکتا ہے تیرا نام ابھی...!

میری نظریں کریں کیسے تیرے چہرے کا طواف
میری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی
یاد کے آبر سے آنکھیں میری بھیگی ہیں " عدیم"
اِک دْھندلکا سا ہے بھیگی تو نہیں شام ابھی
: حالتِ حال میں کیا رو کے سناؤں تجھ کو ۔۔
تو نظر آئے تو پلکوں پہ بٹھاؤں تجھ کو۔۔
خود کو اس ہوش میں مدہوش بنانے کے لئے،
آیتِ حسن پڑھوں دیکھتا جاؤں تجھ کو۔۔
تو نہیں مانتا مٹی کا دھواں ہو جانا،
تو ابھی رقص کروں ہو کے دکھاؤں تجھ کو۔۔
کر لیا ایک محبت پہ گزارا میں نے،
چاھتا تھا کہ میں پورا بھی تو آؤں تجھ کو۔۔
اب میرا عشق دھمالوں سے کہیں آگے ھے،
اب ضروری ھے کہ میں وجد میں لاؤں تجھ کو۔۔
کیوں کسی اور کی آنکھ کا قصیدہ لکھوں،
کیوں کسی اور کی مدحت سے جلاؤں تجھ کو۔۔
عین ممکن ھے تیرے عشق میں ضم ہو جاؤں،
اور پھر دھیان کی جنت میں نہ لاؤں تجھ کو۔۔
اس نے اِک بار مجھے پیار سے بولا تھا
میرا دل ھے کبھی سینے سے لگاؤں تجھ کو۔۔
۔۔۔۔
الفاظ کےــــــ جھوٹے بندھن میں
آغاز کےــــــ گہرے پردوں میں
ہر شخص ـــــ محبت کرتا ہے
حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں
سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں
کب کون کسی کا ہوتا ہے؟؟؟
سب اصلی روپ چھپاتے ہیں
احساس سے خالی لوگ یہاں
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں
اک بار نظر میں آ کے وہ
پھر ساری عمر رلاتے ہیں
خلوص و محبت مہر و وفا
سب رسمی رسمی باتیں ہیں
ہر شخص خودی کی مستی میں
بس ـــــ اپنی خاطر جیتا ہے
کون کسی کے لیے مرتا ہے .......!!!
🖤🖤
Comments
Post a Comment