مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں تُو میرا سوگ مَنا، مجھ کو سوگوار نہ کر
: نادر اشیاء کی جگہ چھانٹ کے لائے پتھر
ہم نے کس شوق سے کمرے میں سجائے پتھر
حرفِ حق، حرفِ غلط کرنے کو آئے پتھر
میں نے سچ بول کے ہر دور میں کھائے پتھر
ہم نے بے فیض چَٹانوں میں کِھلائے گٗلزار
ہم نے زرخیز زمینوں سے اُگائے پتھر
روز اُبھرتے رہے دیوارِ مُقابل بَن کر
اپنی راہوں سے بہت ہم نے ہَٹائے پتھر
کیا خبر کون سے عالَم میں اٹھی تھیں نظریں
میں نے دیکھا تو ستارے نظر آئے پتھر
یہ محبت کا جو اَنبار پڑا ہے مجھ میں
اِس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں
چھینٹ اک اُڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کُھلا
ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں
میری پیشانی پہ اُس بَل کی جگہ ہے ہی نہیں
صبر کے ساتھ جو ہَموار پڑا ہے مجھ میں
ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے
دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں ؟
میرا دامن بھی کوئی دستِ ہَوَس کھینچتا ہے
ایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں
کس نے آباد کِیا ہے مری ویرانی کو ؟
عشق نے ؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں
میرے اُکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیا
میں نہیں، میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں
مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی
ایک سے ایک سمجھ دار پڑا ہے مجھ میں
اے برابر سے گزرتے ہوئے دُکھ ! تَھم تو سہی
تجھ پہ رونے کو عِزا دار پڑا ہے مجھ میں
میرا ہونا، مرے ہونے کی گواہی تو نہیں
میرے آگے مرا انکار پڑا ہے مجھ میں

بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوں
کیسا یہ قحط لگاتار پڑا ہے مجھ میں ؟
سحر کو کھوج، چَراغوں پہ انحصار نہ کر
ہَوا سے دوستی رکھ، اُس کا اعتبار نہ کر
یقین کر او محبت ! یہی مناسب ہے
زیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر
یہ کوئی رشتہ نہیں ہے فقط نَدامت ہے
تُو مجھ سے عمر میں کم ہے سو مجھ سے پیار نہ کر
مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں
تُو میرا سوگ مَنا، مجھ کو سوگوار نہ کر
ہے کون کون مرے ساتھ اِس مصیبت میں ؟
میں اپنے ساتھ نہیں ہوں، مجھے شمار نہ کر
میں خاک ! خود تجھے لبیک کہنے والوں میں
مجھے بُلاوا نہ دے، میرا انتظار نہ کر
جان دے کر تُمہیں جینے کی دُعا دیتے ہیں
پھر بھی کہتے ہو کہ عاشِق ہمیں کیا دیتے ہیں
کُوچہٓ یار میں ساتھ اپنے سُلایا ان کو
بَختِ خُفتہ کـو مرے پانوں دُعا دیتے ہیں
بدگُمانی کی بھی کُچھ حد ہے کہ ہم قاصِد سے
قَسمَیں سو لیتے ہیں ، جب ایک پتہ دیتے ہیں
موت بازار میں بِکتی ہے، تو لا دو مُجھ کو
ہم نشِیں کس لیے جینے کی دُعا دیتے ہیں
رحم آتا ہے ہمیں قیس کی عُریانی پر
دھجّیاں، دامنِ صِحرا کی اُڑا دیتے ہیں
ایسی ذِلّت ہے مرے واسطے ،عِزت سے سِوا
خُود وہ اُٹھ کر مُجھے مِحفِل سے اُٹھا دیتے ہیں
غیر کہتے ہیں کہ یہ پُھول گیا ہے مُردہ
قبر پر میری ، جو وہ پُھول چڑھا دیتے ہیں
موت بولی ،، جو ہوا کُوچہٓ قاتِل میں گُزر
سر اسی راہ میں مَردان خُدا دیتے ہیں
اُن کو بے تاب کیا ، غیر کا گھر پھُونک دیا
ہم دُعائیں تُجھے ، اے آہِ رسا دیتے ہیں
گرم ہم پر کبھی ہوتا ہے جو وہ بُت اقبال
حضرتِ داغؔ کے اشعار سُنا دیتے ہیں
علامہ اقبال
تازہ غزل
آس کی گھاس کچلتا ہے جہاں رہتا ہے
خواب بھی درد کا پہیہ ہے رواں رہتا ہے
پھول رکھتا تھا جو ہر روز مرے رستے میں
اس کے ہاتھوں میں بھی اب تیر کماں رہتا ہے
جس کی خواہش میں حسینوں کے بدن جلتے ہیں
لمس ایسا میری پوروں میں رواں رہتا ہے
ہائے قربان کہ کس ناز سے پوچھا اس نے
عشق آباد کا شہزادہ کہاں رہتا ہے
خوف زدہ ہو کے نہ یوں دیکھ خدا کی جانب
تیرے حق میں ابھی میرا بیاں رہتا ہے
دامِ الفت ہی وہ دھوکہ ہے کہ جس میں آ کر
دلِ برباد کو خوشیوں کا گماں رہتا ہے
لوگ بہرے ہی سہی پھر بھی غنیمت جانو
کوئی تو ہے جو مصروفِ اذاں رہتا ہے
خالد ندیم شانی
Comments
Post a Comment