ترے دیدار سے مجھکو شفا ہوگی یا پھر میری جوانی بھی فنا ہوگ
چند اشعار
ب وجہ سڑکوں پر مرا رہنا
ہجر کے راستے سے بہتر ہے
چھوڑ دے مجھ کو تُو ابھی سے ہی
سانحہ ، حادثے سے بہتر ہے
بعدِ کرب و بلا سنو یارو!
مرثیہ، قہقہے سے بہتر ہے
کیوں نہ ذکرِ خدا مناٸیں ہم
آپ کے تذکرے سے بہتر ہے
آستیں کاٹنا مرے ہمدم!
سانپ کے مسٸلے سے بہتر ہے
مے کدہ میں مکیں مرا ہونا
شرک کے گھونسلے سے بہتر ہے
دور ہو مجھ سے تُو میں کہتا ہوں
فیصلہ ، فاصلے سے بہتر ہے
جون نقوی

ترے دیدار سے مجھکو شفا ہوگی
یا پھر میری جوانی بھی فنا ہوگی
میں کڑوا لگتا ہوں لیکن، مری الفت
زمانے کی رفاقت سے جدا ہوگی
مری قربت سے راضی ہے میں راضی تھا
کبھی سوچا نہیں تھا وہ خفا ہوگی
میں سچ گوٸی کا قاٸل ہوں زمانے میں
مرے تن سے مری گردن جدا ہوگی
زمن جو اب ردا کو دار کہتا ہے
زمانے میں بھلا کیسے حیا ہوگی
چلا جا یار بے شک تو مرے گھر سے
مگر پھر بھی ترے حق میں دعا ہوگی
جہاں پر لوگ مفلس کے بھی مخلص ہوں
کہاں ایسے زمانے میں جگہ ہوگی
کہا باغی پیمبر کے نواسوں کو
بھلا کیسے زمانے میں وفا ہوگی
زمانہ جون کی غزلیں بھی گاۓ گا
مگر ہے شرط مرنے کی، ثنا ہوگی
جون نقوی
اِس قدَر رات گئے ' کون ملاقاتی ہے ؟
ایسا لگتا ہے' کوئی یاد چلی آتی ہے
مَیں نے چاہا ' نہ کہا اور نہ خواہش کی کبھی
تیرے کُوچے میں تِری آب و ہَوا لاتی ہے
یہ ستارے تو یُونہی ساتھ چلے آئے ہیں
ورنہ یہ چاند اکیلا مِرا باراتی ہے
مَیں تو دُشمن کے بچھڑنے پہ بھی رویا ہُوں بہُت
تُو تو پھر یار ہے اُور یار بھی جذباتی ہے
کس قدَر گھاو ہیں ' معلوم نہیں ہے کہ ابھی!
جسم سے رُوح کا رشتہ تو مضافاتی ہے
سنتا ہی نہیں کوئی مری بات مکمل
کس کس کو مرے یار میں آواز لگاؤں
تو خود بھی کسی روز مری سمت نکل آ
لازم ہے کہ ہر بار میں آواز لگاؤں؟
Comments
Post a Comment