وہ جانتی تھی وہ میری کمزوری بن چُکی تھی، کبھی کوئی بات نہ بھی ہوتی تھی تو وہ لڑ کر خفا ہو جاتی تھی
وہ جانتی تھی وہ میری کمزوری بن چُکی تھی، کبھی کوئی بات نہ بھی ہوتی تھی تو وہ لڑ کر خفا ہو جاتی تھی، وہ اپنی کی گئی غلطی پر بھی مجھ سے سوری بُلواتی تھی اور میں اسکو کھونے کے ڈر سے اسکے لاکھ منع کرنے پر بھی اسکو میسج کرتا رہتا تھا، کیونکہ میں جانتا تھا اسکو بس ایک بہانہ چاہیے مجھ سے دور ہونے کا اور میں وہ بہانہ بننے ہی نہیں دیتا تھا، جب وہ لڑ کر روٹھ جایا کرتی تو میں پاگل سا ہو جاتا تھا، بات بات پر رونے لگ جایا کرتا تھا، کسی بھی کام میں دِل نہیں لگتا تھا، میں کھانا پینا چھوڑ دیتا تھا صرف اسی لیے کہ وہ مجھ سے ناراض ہے، اسکی ناراضگی اس دنیا کی ہر چیز سے میرا دل بیزار کر دیتی تھی، میں اسکو بس ایک ہی بات کہتا تھا کہ تمھاری انا سر آنکھوں پر، تمھاری محبت قبول مجھے، تمھارا غُصہ بھی میں چپ چاپ سہہ لوں گا لیکن خُدارا محبت میں کسی تیسرے کو شامل نہ کرنا، لیکن وہ مجھے سمجھ ہی نہیں پائی اور اسنے سب جانتے ہوئے بھی تیسرے کو شامل کر ہی لیا، اور میری زندگی کو درد سے ہمیشہ کے لیے بھر دیا، میں اسکی محبت میں سکون پاتا تھا لیکن اسنے مجھ سے میرا سکون چھین کر مجھے بے سکون کر دیا ___

چاند آیا ہی نہیں بات تمہاری کرنے۔
رات کے پاس کوئی سرمئی آنچل ہی نہ تھا
نیند تاروں میں بھٹکتی ہی رہی
خواب ملنے ہی نہیں آئے ہمیں
چاند نکلا تو ستاروں نے اسے گھیر لیا
چاند کی سمت نگاہوں کو لگائے ہوئے ہم
دیکھتے رہ گئے اپنا ہی تماشا چپ چاپ
ہم کسی ہجر کو لکھتے رہے دیواروں پر
خوب کوسا ہمیں دیواروں نے
خوب ڈانٹا ہے ہمیں لفظوں نے
ہاتھ پچھتاتے رہے لکھ کے تری سب باتیں
اور کرتے بھی تو ہم کیا کرتے
چاند آیا ہی نہیں بات تمہاری کرنے
بنا نیند کی گولیاں کھائے
اٹھارہ گھنے سونے کے بعد
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کی آرائش سے
وحشتیں چھپاتے ہوئے
ہجر کے زخمی گیتوں سے کانوں کو لبھاتے ہوئے
خوابوں کے گرد گانٹھیں باندھی
اور تیسرے رستے سے فرار ہوگئی
(ہر تیسرا رستہ خودکشی نہیں )
اب تک ماں کئی آنسو
میرے گالوں پہ پھیلنے سے پہلے
اپنے دوپٹے کے پلو میں جذب کر چکی
مگر ان کی آنکھوں سے نکلتے اشک
میرے کپکپاتے ہاتھوں کی
انگلیوں کی پوروں سے خشک ہونے سے قبل
زمیں بوس ہو جاتے ہیں
بابا کے نام لکھے ان پرانے خطوط جیسے
جن کی سیاہی اڑ چکی
وہ لڑکیاں جو دستاریں چھلانگ کر
محبت چن لیتی ہیں
زمین کے کسی کونے پہ ان کا ٹھکانہ نہیں ،
وہ لڑکیاں جو محبتیں متروک کر کے
دستاریں چن لیتی ہیں
کبھی مسکرا نہیں پاتی
آہ ! محبت دستاروں کے ساتھ قبروں میں دفن ہو جاتی ہیں۔
سردیوں کی رات سے زیادہ
تپتی دوپہریں جان لیوا ہوتی ہیں
گرم لو سے دہکتی دوپہر ،سائیں سائیں کرتے درخت ، پیاسے پنچھی اور میں
ہم دوست ہیں
جب سب سو جاتے ہیں سائے ڈھلنے تک
ہم ناکام محبتوں کے قصے چھیڑتے ہیں
ضعیف شہتوت مسکراتا ہے
اس بار ایک قصہ اضافی ہوگا
آہ!شہتوت کی مسکراہٹ میری آنکھوں میں ابھی سے
وہ فلک کو آنکھ بھر کے دیکھے
یا چاند کو دیکھ کر شرمائے
نظم بنتی ھے !
وہ کرے بناؤ سنگھار
کاجل لگائے یا پھول سجائے زلفوں میں
اس کی انہی دلفریب اداؤں پر
نظم بنتی ھے !
وہ دھیرے سے مجھے پکارے
میں دوڑ کر اس کی جانب لپکوں
ان دو چار لمحوں پر باخدا
نظم بنتی ھے !
خوبصورت موڑ:
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں
مرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں
تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر لدھیانوی
Comments
Post a Comment