سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے  کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو 

 ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے
پردہ بھی اٹھے رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے

دل اپنا ہی تصور سے کر لیتے ہیں روشن
موسیٰ‌کی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے

رکھتے ہیں جو اوروں کےلئے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ‌کے بکھرا نہیں‌کرتے

مغرور ہمیں کہتی ہے تو کہتی رہے دنیا
ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے

ہم لوگ تو مے نوش ہیں بدنام ہیں ساغر
پاکیزہ ہیں جو لوگ، وہ کیا کیا نہیں کرتے

 کسی بھی اتفاق سے یا پورے اعتماد سے 
ملو مجھے اگر مرے نصیب میں لکھی ہو تم 

ہم ایک دوسرے سے یہ گلہ کریں گے عمر بھر 
کسی کی زندگی ہوں میں کسی کی زندگی ہو تم 

معید مرزا
Published from Blogger Prime Android App
تمہاری تصویر دیکھتے ہوئے
تمہیں ہی ڈھونڈ رہی ہیں آنکھیں

اک ورق پے ُادھوری داستان لکھی ہیں
دیدہ نم سے جنہیں پڑھ رہی ہیں آنکھیں

سن سکوں تو میرا دل تمہیں صدا دیتا ہے
خاموش لب سہی مگر انتظار کر رہی بیں آنکھیں

کاش اب تو تمہارے ہاتھوں کی عنایت ہو
گلابی ُرخساروں پربہت اشک بار ہیں آنکھیں

تم کیوں نظریں جھکا لیتے ہو تصویر میں بھی
جب جدائی پے تم سےسوال کر رہی ہیں آنکھیں

چلو ! آج بہت دیر تک سوتے ہیں لکی
برسوں سے اک حسین خواب کی راہ تک رہی ہیں آنکھیں"💛
‏مجھ سے اس طور شناسا تھا وہ جانے والا 
میں جو ہنستا تو وہ کہتا تھا تجھے کیا دکھ ہے ؟
چند  کمزور  چراغوں  سے  عقیدت   ہے مجھے...
مجھ سے چڑھتے ہوئے سورج نہیں پوجے جاتے...

‏تُو زندگی کے بُرے تجربات میں سے ہے
‏تجھے بھُلانا تو ناممکنات میں سے ہے

‏خبر میں جن کی لکھا ہوتا ہے، "کوئی نہ بچا"
‏تمہارا ہجر اُنہی حادثات میں سے ہے
 یہ نفسیات کی مشقیں تو ذہن  نوچیں گی
مگر وہ دکھ جو بدن کی رگوں کے اندر ہے

 خدا   پناہ!   اذیت   ہے    اک   تخیل   کی
 تمھارا  لمس  کسی   اور   کو   میسر   ہے

دیکھ پگلی جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں
وقت آنے پہ درندوں کی طرح لگتے ہیں

ترک کرنے کا جو سوچوں بھی تو ڈر جاتا ہوں
یار تو فرض نمازوں کی طرح لگتے ہیں
 میں جانتا ہُوں کہ ساتھ تیرا کہاں تلک ہے؟
‏مُجھے پتہ ہے میں اس کہانی کا کیا کروں گا

‏فیصل محمود
جانا ہے واپس تو ابھی ہاتھ چھوڑ دے 
آخر پہ یہ نہ ہو تُو میرا ساتھ چھوڑ دے 
تُو خوش ہے مجھ کو چھوڑ کے بس یہ پتا ہے 
میں خوش ہوں یا نہیں ہوں میری بات چھوڑ دے 🔥
 ذہنوں میں اس کا پورا سراپا بھی آئےگا
آتا ہے جو بکھر کے وہ یکجا بھی آئے گا

سورج کے ہمسفر جو بنے ہو تو سوچ لو
اس راستے میں پیاس کا دریا بھی آئے گا

کمرہ ہی بند ہے تو ہواؤں کا کیا قصور؟
کھڑکی کوئی کھلے گی تو جھونکا بھی آئے گا

ایسا نہیں کہ خشک ملے ہر جگہ زمیں
پیاسے جو چل پڑے ہیں تو دریا بھی آئے گا

اس شہرِ بے صدا کی خطا جب ہوئی معاف
مردے بھی جی اُٹھیں گے مسیحا بھی آئے گا

یہ ہجرتوں کی شب ہے گھروں سے نکل پڑو
اُس کا کرم ہوا تو مدینہ بھی آئے گا

جو دل جلا رہے ہیں مرا خوب سوچ لیں
اس روشنی کی زد میں اندھیرا بھی آئے گا

سورج کوئی قتیل اُفق سے ہو گر طلوع
یہ رات بھی کٹے گی، سویرا بھی آئے گا!
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں 
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں 

جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے 
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں 

تھے کتنے ستارے کہ سر شام ہی ڈوبے
ہنگامہ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں 

جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور 
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں 

ایک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں 
ہم گردش  دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
 تُو چاہتا ہے کسی اور کو پتا نہ لگے
میں تیرے ساتھ پھروں اور مجھے ہوا نہ لگے
تمہارے تک میں بہت دل دکھا کے پہنچا ہوں
دعا کرو کہ مجھے کوئی بددعا نہ لگے
تجھے تو چاہیے ہے، اور ایسا چاہیے ہے
جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے
میں تیرے بعد کوئی تیرے جیسا ڈھونڈتا ہوں
جو بے وفائی کرے، اور بے وفا نہ لگے
میں اس لیے بھی اداسی میں ہنسنے لگتا ہوں
کہ مجھ میں اور کسی شخص کی فضا نہ لگے
ہزار عشق کرو، لیکن اتنا دھیان رہے
کہ تم کو پہلی محبت کی بددعا نہ لگے
بشیر بدر*

سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے
با وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے

میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں
کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے

مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا
خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے

بت بھی رکھے ہیں نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں
دل میرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

تازہ غزل

موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیں
زخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری  پٹیاں کھول دیں 

ہم مچھیروں سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ عفریت ہے 
تم نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں 

اس نے وعدوں کے پربت سے لٹکے ہوؤں کو سہارا دیا 
اس کی آواز پر کوہ پیماؤں نے رسیاں کھول دیں 

دشت ِ غربت میں ، میں اور میرا یار ِ شب زاد باہم ملے 
یار کے پاس جو کچھ بھی تھا یار نے گٹھڑیاں کھول دیں

کچھ برس تو تری یاد کی ریل دل سے گزرتی رہی 
اور پھر میں نے تھک ہار کے ایک دن پٹریاں کھول دیں

اس نے صحراؤں کی سیر کرتے ہوئے اک شجر کے تلے
اپنی آنکھوں سے عینک اتاری کہ دو ہرنیاں کھول دیں 

آج ہم کر چکے عہدِ ترک ِ سخن پر رقم دستخط
آج ہم نے نئے شاعروں کے لیے بھرتیاں کھول دیں 

تہذیب حافی

 کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو 
نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو 

دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے 
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو 

مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے 
حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو 

سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے 
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو 

دبا کے قبر میں سب چل دیئے دعا نہ سلام 
ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو 

اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا 
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو 

قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی 
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو 

قمر جلالوی

مل بیٹھتے تھے رات کو میں اور چار دوست!!
کرتے تھے خوب خامشی سے شور چار دوست!!

اب تھک گئ ہے زندگی مایوسیوں سے یار!!
اب چاہیے ہیں مجھ کو کسی طور چار دوست!!

کرتے تھے دل سے غم کو چُرانے کا کام ہم!!
مشہور تھے زمانے میں ہم چور چار دوست!!

سگرٹ پکڑتے لائیے گا عالی جان آپ!!
پھر بیھٹتے ہیں رات کو لاہور چار دوست!!

اُسامہ فراق

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں

رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں

کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں

غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

مرزا غالب....

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا