تجربہ تھا٫ سو دعا کی۔ تاکہ نقصان نہ ہو عشق مزدور کو مزدوری کے دوران نہ ہو

تجربہ تھا٫ سو دعا کی۔ تاکہ نقصان نہ ہو
عشق مزدور کو مزدوری کے دوران نہ ہو

 میں اسے دیکھ نہ پاتا تھا "پریشانی" میں
سو دعا کرتا تھا، مر جاۓ، پریشان نہ ہو

گاؤں میں دور کی سِسکی بھی سنی جاتی ہے
سب پہنچتے ہیں، بھلے آنے کا اعلان نہ ہو

ایک رقاصہ نے اک عمر یہاں "رقص" کیا
دل کی دھک دھک میں چھنن چھن ہے تو حیران نہ ہو

اب تعوّذ کو بدل دینے میں کیا راۓ ہے؟
جہاں شیطان لکھا ہے، وہاں انسان نہ ہو؟

شکریہ! مجھ کو نہ دیکھا، مِری مشکل حل کی
میری کوشش بھی یہی تھی، مِری پہچان نہ ہو

تو مِرا حق ہے، مگر شام تو ڈھل جانے دے
میری آنکھوں پہ ترس کھا، ابھی عریان نہ ہو
Published from Blogger Prime Android App
افکار علوی
 عمر   گزرے   گی  امتحان   میں   کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

میری  ہر  بات  بے  اثر   ہی   رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی  ہوتا   ہے  خاندان  میں  کیا

اپنی  محرومیاں  چھپاتے  ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا

خود کو جانا جدا زمانے سے
آ گیا تھا مرے گمان میں کیا

شام ہی سے دکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دکان میں کیا

اے مرے صبح و شام دل کی شفق
تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے  پڑ  گئے  زبان  میں  کیا

خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ  رہا  ہے  مرے  گمان  میں  کیا

دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت
خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا

وہ  ملے  تو  یہ  پوچھنا  ہے مجھے
اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

ہے   نسیم   بہار   گرد   آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یہ  مجھے  چین  کیوں  نہیں  پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

جون ایلیاء
اس سے ہی چلتی ہے سانسوں کی روانی لوگو
مجھ سے مت چھینو مری آنکھ کا پانی لوگو

آگہی کرب کے امکان بڑھا دیتی ہے
مت بتاٶ مجھے انجامِ  کہانی لوگو

ہم بیابانوں کے عادی تھے کہیں پر نہ بسے
دشتِ تنہائی میں کی نقل مکانی لوگو

پارساٸی کی گواہی تو نہ مانگو اس سے
تنہا بیوہ نے گزاری ہے جوانی لوگو

ہم کہ سادہ رہے جدت میں نہ ڈھالا خود کو
ہم کو آٸے ہی نہیں طَور  زمانی لوگو

اس کی تصویر کو چپکے سے جلایا میں نے 
  وہ تھی کم ظرف محبت کی نشانی لوگو

 عاصمہ فراز
رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
دو دِن کی مُسرّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں
اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے

اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے
بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں
آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن
احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں
پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

ساغر صدّیقی
اور کوئی نہیں سزا دیں گے
ہم تجھے آئینہ دکھا دیں گے
۔۔۔
پاؤں ہیں جب تلک جمے اپنے
آسمانوں کو آسرا دیں گے
۔۔۔
ہجر میں جتنی رہ گئی ہے حیات
ہم ےرے درد سے نبھا دیں گے
۔۔۔
تو حقیت میں مل گیا ہم کو
خواب کا معجزہ دکھا دیں گے
۔۔۔
جان تو یوں بھی آنی جانی ہے
ہم محبت تجھے سکھا دیں گے
۔۔۔
بے ثمر تو نہیں سفر قیصر
ہم کوئی راستہ بنا دیں گے
۔۔۔
۔۔۔۔۔ زبیر قیصر
عجب سی درپیش یہ مسافتیں ہیں
 ساتھ تیرے قدموں کی آہٹیں ہیں

کہاں سے چلے تھے ہم_ کہاں ہے جانا
سفر میں نہ جانے کتنی رکاوٹیں ہیں

وہ پل جو بیتاۓ ہیں ساتھ تیرے
زیست کی وہ حسیں ساعتیں ہیں

کبھی تھے ہم بھی کسی کے پیار ے
رہ گئی بس اب کچھ مروتیں ہیں

وہ موڑ جوپیچھے میں چھوڑ آئی
دفن وہیں پر میری سب چاہتیں ہیں 

   ✍️مہنازناصر
 ‏جب دھیمے دھیمے ہنستی ہو
تم بارش جیسی لگتی ہو

تھوڑی دل کی کہتی ہو
زیادہ دل میں رکھتی ہو

کیوں جاوں رنگ ریز کے پاس
تم تو سیاہ میں جچتی ہو

کرنے دو انہیں ھار سنگھار
تم سادہ بھی سجتی ہو.
 جو دکھ کی رتوں میں بھی ہنسی اوڑھ کے رکھیں
 ہم ایسے اداکار ہیں نایاب ،  لگی شرط

جب چاہوں تجھے توڑ دوں میں کھول کے آنکھیں
 اے چشم اذیت کے برے خواب ! لگی شرط

 کومل جوئیہ
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

شور برپا ہے خانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی

یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آرہی ہے ابھی

شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی

سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی

تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
درخت جاں پر عذاب رت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے 
بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے 

نشاط منزل نہیں تو ان کو کوئی سا اجر سفر ہی دے دو 
وہ رہ نورد رہ جنوں جو پہن کے راہوں کی دھول آئے 

وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں 
ہمارے حصے میں عذر آئے جواز آئے اصول آئے 

اب ایسے قصے سے فائدہ کیا کہ کون کتنا وفا نگر تھا 
جب اس کی محفل سے آ گئے اور ساری باتیں ہی بھول آئے 

وفا کی نگری لٹی تو اس کے اثاثوں کا بھی حساب ٹھہرا 
کسی کے حصے میں زخم آئے کسی کے حصے میں پھول آئے 

بنام فصل بہار آذرؔ وہ زرد پتے ہی معتبر تھے 
جو ہنس کے رزق خزاں ہوئے ہیں جو سبز شاخوں پہ جھول آئے 

اعزاز احمد آذر

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا