جـانتــا ہــے مجھـے آواز سـے ڈر لگتــا ہــے جس نے باندھا ہے مِرے پاؤں کی زنجیر سے خوف

 اِشکنہ
شاعر : آغاگل

ہائے وہ مستونگ کی رُومان پرور سرزمیں
ایسی دل کش اور حسیں جس کا کوئی ثانی نہیں
اُس کی کاریزیں ، جو ٹھنڈی بھی ہیں پُر اسرار بھی
یو نہی صدیوں سے بہے جاتی ہیں باصد دِل کشی
اشکنہ! رنگین و دل کش داستانوں کی زمیں
وہ مری دَمساز اور بچپن کی یادوں کی اَمیں
سُرخ وہ رنگیں گلابوں سے ، تو سبزے سے ہری
اُس کے تاکستان کی شاخیں، انگوروں سے بھری
وہ حسیں تالاب پانی جس کا ہے آبِ زُلال
اونٹ جس میں ڈُوب جائیں ہے یہ گہرائی کا حال 
جس کے بارے میں سناتی تھیں ہماری دادی ماں
شب کو سوتے وقت پریوں کی رنگیلی داستاں
عظمتِ در گزشتہ، چپّے چپّے سے عیاں 
ہر طرف بکھرے براہوی شان و شوکت کے نِشاں
اشکنہ میں جو بھی گزار وقت تھا وہ بے مثال
مجھ کو ہے جکڑے ہوئے اس کی حسیں یادوں کا جَال
جیب میں اپنی لیے بے نام کھوٹی پاؤلی 
چل پڑا بازارِ اُلفت کی طرف ناچیز بھی 
تاکہ یوسفؑ کو خریدے مِصر کے بازار میں
پھنس گیا زُلیخا عشق کے آزار میں
جب وہاں پہنچا تو دیکھا جا چکُے تھے قافلے
اپنے گیدانوں کو اونٹوں پر سمیٹا، چل دیے
اک سمندر کی طرف رہتی ہیں جل پریاں جہاں
اُس طرف جِس جا کہ ملتے ہیں زمین و آسماں
ساحلوں پر شہزادے، اپنے گھوڑوں پر سوار
اُڑتے پھرتے ہیں جہاں پہنے لبادے شاندار
دشتِ میں تنہا کھڑا میں ہاتھ مَلتا رہ گیا
اشک اک ٹپکا کنارِ چشم سے اور بہہ گیا
کچھ نہ تھا جُز ریگ ِ صحرا یا بگولے گرد کے 
یا نظر آتے تھے دُوری پر پہاڑی سلسلے!
گئے دنوں کی حکایت سنا رہا ہے مجھے
نجانے کون سا ڈر ہے جو کھا رہا ہے مجھے
Published from Blogger Prime Android App
میں فطرتاً ہی اذیت پسند لڑکی ہوں
تمہارا ساتھ بھی ہر طور بھا رہا ہے مجھے

کسی کے پاؤں کی ٹھوکر نے فقر سمجھایا
کسی کا عشق قلندر بنا رہا ہے مجھے

کسی کو کیسے رسائی ملی مرے دل تک
یہ کون میرے ہی اندر سے ڈھا رہا ہے مجھے

زمین تنگ ہے مجھ پر تو غم نہیں زوہا
کہ اس مقام کا مالک بلا رہا ہے مجھے

زوہا زکاء
بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی 
میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی 

جس دن سے ترے ہاتھ سے چھوٹا ہے مرا ہاتھ 
اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی 

کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل 
میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی 

الفاظ سے کاغذ پہ سجائی ہے جو دنیا 
جز اپنے کوئی چیز بھی فانی نہیں لکھی 

تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی 
سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی
عنبرین حسیب عنبر
آیتِ ہجـر سنـے کھـائـے وہ تفسیـر سـے خـوف
آنـکھ رکّھـے مگـر آئـے اُسـے تشہیـر سـے خـوف
،
جـانتــا ہــے مجھـے آواز سـے ڈر لگتــا ہــے
جس نے باندھا ہے مِرے پاؤں کی زنجیر سے خوف
،
ڈر اُتـارے گا مجھـے سـاتھ بِٹھـا لـے گا مـگر
کـیسے نکلـے گا بتـا میـری تصـاویـر سے خـوف
،
ناقِصُ الفَہ٘ـم سبھـی رحـم کی اُمّیـد میں ہیں
صاحبِ عَق٘ـل رکھیں کیا تِری تدبیـر سے خـوف
،
اک طـرف آنکھ کی دَہلِیـز پہ ہیں خـواب دَھـرے
اک طـرف دل ہـے جسے آتـا ہـے تعبیـر سے خـوف
،
ہـم سے نَخـچِیـر پہ اک تِیـر بھـی ضـائع مت کـر
ہـم نہیں کھاتے کبھی ناوَکُ و شمشیـر سے خـوف
،
کل کہـاں کـون کسـے چھـوڑ دے پھـر رَستـے میں
دوست رہتـا ہـے ہمیشہ مجھـے تقـدیـر سـے خـوف 
،
عرشم_خان_نیازی
 سُنو۔۔۔!
تم میرے کمرے میں
اپنے لَمس کی خوشبُو۔۔۔
کسی گُلدان کے ہاتھوں میں رکھ جانا۔۔۔
یا پھر تم میرے تکیے پر
جہاں یادوں کا مَدفَن ہے،
دُعا کے پُھول رکھ جانا۔۔۔

سُنا ہے ۔۔۔!
بولتے ہو تو بہاریں پُھول چُنتی ہیں،
تمہارا لَمس پا کر تو۔۔۔
ہوا بھی مغرُور رہتی ہے،
بہت خوشبُو لُٹاتی ہے۔۔۔

سُنا ہے ۔۔۔!
کہکَشاں۔۔۔
اکثر وہاں پر پائی جاتی ہے،
جہاں پر
تم قدم رکھو۔۔۔

سُنا ہے۔۔۔!
تم سَخی بھی ہو،
بِنا مانگے ہی لمحوں کو
گُلابی رنگ دیتے ہو۔۔۔
کئی بے نُور آنکھوں میں،
بہت سے خواب اور جگنُو بَساتے ہو۔۔۔

سُنو۔۔۔!
میرے لئے تم۔۔۔۔
کر سکو تو اِتنا کر دینا،
ہوا سے دوستی رکھنا،
ہوا میری دوست ہے۔۔۔
تمہیں چُھو کر جو آئے گی،
تو میں بھی سانس لے لوں گی
کُچھ دِن اور جی لوں گی۔۔۔!!!
ہے تمنا کہ مری کوئی تمنا نہ رہے 
اور مرے خواب مرے ساتھ دبائے جائیں 

پسِ پردہ ہیں حوالے تری چاہت کے مگر 
منظرِ عام پہ بھی رشتے نبھائے جائیں

کیفیت لوٹ بھی سکتی ہے کسی لمحہ کرن
مرے اشعار مرے آگے نہ گائے جائیں

کرن منتہی

 گلوں میں  رنگ  بھرے  بادِ نو  بہار چلے
چلے  بھی  آؤ کہ گلشن کا  کاروبار  چلے

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں  تو  بہرِ خدا  آج  ذکرِ  یار  چلے

کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکُل سے مشکبار چلے

بڑا ھے درد کا رشتہ ، یہ دل غریب سہی
تمھارے  نام  پہ  آئیں  گے  غمگسار  چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
 ہمارے  اشک  تری  عاقبت  سنوار  چلے

حضورِ‌ یار  ہوئی  دفترِ  جنوں کی طلب
گرہ  میں  لے کے گریباں کا  تار  تار چلے

مقام، فیضؔ، کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے  تو سوئے دار  چلے

فیض احمد فیض
 عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے 
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے 

کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا 
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے 

سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے 
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے 

مسافت شب ہجراں کے بعد بھید کھلا 
ہوا دکھی ہے چراغوں کی آبرو کر کے 

زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی 
وہ خوش ہوا تھا سمندر کو آب جو کر کے 

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا 
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے 

جلوس اہل وفا کس کے در پہ پہنچا ہے 
نشان‌ طوق وفا زینت گلو کر کے 

اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ہے 
ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے 

کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسنؔ 
ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے
 کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو 
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو 

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں 
سبک سر بن کےکیاپوچھیں،کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا 
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو 

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم 
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو 

یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ 
کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو 

غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے 
نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو 

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے 
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو 

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں 
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو

 کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی 
بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو 

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو "غالب" 
تیرے بے مہر کہنے پر وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
 وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا 

تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا 

فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس 

تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا 

وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں 

کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا 

وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا 

برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا 

وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے 

اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا 

 پروین شاکر
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے 
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے 

تُجھ سے جب مل کر بھی اُداسی کم نہیں ہوتی
تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے

کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے
ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے

یار !! ہوا سے کیسے آگ بھڑک اُٹھتی ہے
لفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے
 
کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے
درد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے

ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں
وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے

کیسے ہو سکتا ہے جو کُچھ بھی میں چاھوں
بول نا میرے یارا کیسے ہو سکتا ہے

جواد شیخ

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا