وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا

 ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

کس قدر ہوگا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

جوہری بند کئے جاتے ہیں بازار سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمت زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں گے

شاید اپنا بھی کوئی بیت حدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

فیضؔ آتے ہیں رہ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
Published from Blogger Prime Android App
فیض احمد فیض
مرے تن کے زخم نہ گِن ابھی
مری آنکھ میں ابھی نور ہے
مرے بازوؤں پہ نگاہ کر
جو غرور تھا، وہ غرور ہے

ابھی تازہ دم ہے مرا فرس
نئے معرکوں پہ تُلا ہوا
ابھی رزم گاہ کے درمیاں
ہے مرا نشان کھلا ہوا

تری چشمِ بد سے رہیں نہاں
وہ تہیں جو ہیں مری ذات کی
مجھے دیکھ قبضۂ تیغ پر
ہے گرفت ابھی مرے ہاتھ کی

وہ جو دشتِ جاں کو چمن کرے
یہ شرف تو میرے لہو کا ہے
مجھے زندگی سے عزیز تر
یہ جو کھیل تیغ و گلو کا ہے

تجھے مان جوشن و گُرز پر
مرا حرفِ حق مری ڈھال ہے
ترا جور و ظلم بلا سہی
مرا حوصلہ بھی کمال ہے

میں اسی قبیلے کا فرد ہوں
جسے ناز صدق و یقیں پہ ہے
یہی نامہ بر ہے بہار کا
جو گلاب میری جبیں پہ ہے

احمد فراز 
(حسابِ جاں) سے انتخاب
 کلام شاعر بزبان شاعر 
شاعر دلاور فگار مرحوم

(خصوصی رکارڈنگ براے آواز خزانہ لُطُف اللہ خان)

عشق کا پرچہ
محو حیرت ہوں کہ وہ سینٹر تھا کتنا با کمال

عشق کے بارے میں پوچھا جس نے پرچہ میں سوال

ایسے ہی سینٹر اگر دو چار پیدا ہو گئے

دیکھنا اس ملک میں فن کار پیدا ہو گئے

عام ہوگی عاشقی کالج کے عرض و طول میں

لیلیٰ و مجنوں نظر آئیں گے اب اسکول میں

عشق کے آداب لڑکوں کو سکھائے جائیں گے

غیر عاشق جو ہیں وہ عاشق بنائے جائیں گے

عاشقوں کو علم میں پرفیکٹ سمجھا جائے گا

عشق اک کمپلسری سبجیکٹ سمجھا جائے گا

امتحاں ہوگا تو پوچھے جائیں گے ایسے سوال

اپنی محبوبہ کے بارے میں کچھ اظہار خیال

عشق اک سائنس ہے یا آرٹ سمجھا کر لکھو

یا یہ دونوں عشق کا ہیں پارٹ سمجھا کر لکھو

آج اپنے ملک میں عاشق ہیں کتنے فیصدی

منتہی ان میں ہیں کتنے اور کتنے مبتدی

کیا تعلق طب یونانی کو ہے رومان سے

کمپیئر فرہاد و مجنوں کو کرو لقمان سے

عشق کتنے قسم کا ہوتا ہے لکھو با وثوق

فی زمانہ کیا ہیں عاشق کے فرائض اور حقوق

ایک تحقیقی مقالہ لکھ کے سمجھاؤ یہ بات

شاخ آہو پر ہی کیوں رہتی ہے عاشق کی برات

کچھ مثالیں دے کے سمجھاؤ یہ قول مستند

عشق اول در دل معشوق پیدا می شود

سر کو کیا نسبت ہے سنگ آستان یار سے

تم نے سر پھوڑا کبھی معشوق کی دیوار سے

کیا سکوں ملتا ہے دل کو آہ شعلہ بار سے

گرم نالے عرش پر جاتے ہیں کس رفتار سے

اپنے اندازے سے طول شام تنہائی بتاؤ

صرف تخمیناً شب ہجراں کی لمبائی بتاؤ

انڈیا کا ایک نقشہ اپنی کاپی پر بناؤ

اور پھر اس میں حدود کوچۂ جاناں دکھاؤ

وصل کی درخواست پر کس کی سفارش چاہئے

عشق کے پودے کو کتنے انچ بارش چاہئے

اپنی محبوبہ کو اک درخواست انگلش میں لکھو

اس سے یہ پوچھو جواب آرزو یس ہے کہ نو

کون سے آلے سے دیکھیں حسن جانانہ لکھو

حسن کی مقدار جو ناپے وہ پیمانہ لکھو

مادر لیلیٰ نے تو لیلیٰ نہ بیاہی قیس کو

تم اگر لیلیٰ کی ماں ہوتے تو کیا کرتے لکھو

ایک عاشق تین دن میں چلتا ہے انیس میل

تین عاشق کتنے دن میں جائیں گے اڑتیس میل

آپ کر سکتے ہیں ان میں سے کوئی بارہ سوال

بد خطی کے پانچ نمبر ہیں رہے یہ بھی خیال

شاعر دلاور فگار  (1929  -  1998)

 وہ میری آنکھ سے نکلا ہوا ہجرت زدہ شخص
ایسی محفوظ پناہوں کو ترستا ہو گا۔۔۔

اس طرح چھوڑ کے تنہا مجھے جانے والے
تو نے سوچا ہے کوئ کیسے سنبھلتا ہو گا ۔۔
 ساتھ اس کے ہر قدم چلنے کی عادت کس لیے
چھوڑ کر وہ چل دیا تو کیا کرو گے سوچ لو

شور باہر ہے ابھی اس واسطے خاموش ہو
شور اندر سے اٹھا تو کیا کرو گے سوچ لو
خود  کو  آزاد کیا  دل سے  اتاری  دنیا 
منہ پہ دنیا کے بڑے زور سے ماری دنیا
 یہ بات بڑھ ہی نہ جائے کہیں  بتانے سے
چھپا چھپا کے رکھو زخمِ دل زمانے سے

وہ دوست ہے تو سدا اس کا اعتبار کرو
کہیں بچھڑ ہی نہ جائے وہ آزمانے سے

سدا رہیں یونہی روشن محبتوں کے چراغ
کہ ہر طرف ہے اجالا انہیں جلانے سے
 
وہ آشنا ہی نہیں درد کی اذیت سے
وہ زخم دیتا ہے ہر پل نئے بہانے سے

چھپانا آ ہی گیا ہم کو دردِ دل آخر
کہ اب چھلکتے نہیں اشک مسکرانے سے

وہ لوٹ آئے گا دل کو یقین ہے میرے
ملی ہے مجھ کو خبر گُل کے مسکرانے سے

اب آ کے بیٹھ گئے تیرے در پہ یا مولا
ہر اک مراد ملے گی اسی ٹھکانے سے

فرزانہ ساجد
یوں بھی یہ تیری آنکھ تو خونریز کم نہ تھی
سُرمہ  لگا کے  اور اُسے قاتل بنا دیا ۔۔۔۔!!
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا

نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا

تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا

گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا

اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا

وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا

انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا

ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا