کچھ لوگ زمانے میں ایسے بھی تو ہوتے ہیں محفل میں جو ہنستے ہیں تنہائی میں روتے ہیں
مطلع میں فقط، مصرعِ ثانی کی مدد سے
اک شخص ہی مانگا ہے ھُواللہُ اَحَد سے
وہ جس کو بھروسہ نہیں اشعار پہ اپنے
قد اپنا بڑھائے کسی شاعر کی سند سے
وہ پانچ ہو، بارہ ہو کہ چودہ یا بَہتّر
گننا مجھے آیا ہے کسی ایک عدد سے
دل اب بھی دھڑکتا ہے ترے نام پہ اے دوست
آباد ہے یہ دشت محبت کی رسد سے
اب آئے نیا عشق مجھے حوصلہ دینے
میں بچ کے ابھی نکلا ہوں اک ہجر کی زَد سے

عمار یاسر مگسی
مرے کمرے کو صحرا کر رہا ہے
تمہارا غم کرشمہ کر رہا ہے
مری آنکھوں کی مسجد کا مؤذن
ترے چہرے پہ سجدہ کر رہا ہے
کئی بیمار ایسے بھی ہیں جن کو
تمہارا ذکر اچھا کر رہا ہے
گہن دھبا نہیں ہے. بد دعا کا
خدا سورج پہ سایہ کر رہا ہے
طبیب خوش نوا کا وقتی مرہم
مرے زخموں کو گونگا کر رہا ہے
تعفن اٹھ رہا ہے شاعری سے
کوئی تو ہے جو چربہ کر رہا ہے
نہ جانے کیا ہوا ہے نا خدا کو
کنارے سے کنارہ کر رہا ہے
ہزاروں لوگ جس سے مر گئے ہیں
ہمیں وہ زہر اچھا کر رہا ہے
لکی فاروقی حسرت
وہ مجھ کو چومتی تو بے بسی نکلتی تھی
خوشی میں آنکھ سے میری نمی نکلتی تھی
میں سچ سمجھ کے بہت خوش مزاج رہتا تھا
کہ اس کے جھوٹ سے بھی بہتری نکلتی تھی
کچھ ایسے لوگ بظاھر جو صاف ستھرے تھے
زباں سے بولتے تو گندگی نکلتی تھی
کہیں سے کوئی بھی رستہ نہ بند ہوتا تھا
گلی میں جاؤ تو آگے گلی نکلتی تھی
کہ ماں کے سامنے ہنستا تھا وہ دکھی نہ ہو
نہ پوچھ کس طرح مشکل گھڑی نکلتی تھی
عجیب حال تھا تیرے لیے بھی دل سے دعا
کبھی نکلتی نہیں تھی کبھی نکلتی تھی
چراغ لے کے میں اُن کو تلاش کرتا ہوں
وہ جن کی بات سے بھی روشنی نکلتی تھی
میں غم کی بات پہ ہوتا تھا ان دنوں میں دکھی
ہنسی کی بات پر میری ہنسی نکلتی تھی
ہتھیلیوں پر حنا لگا کر
اگر میں بیٹھوں حضورِ والا, ,,
تو رُخ پہ اُڑتی شریر زُلفیں
اگر سنواری,
,تو میں تمہاری, ,!!!
لگائیں بازی محبتوں کی
میرا یہ دعوٰی کہ جیت میری, ,,
جو ہارنے میں لگوں, ,,
تُو بازی پلٹ دے ساری,
تو میں تمہاری, ,!!!
نہر نہ کھودو,,نہ خاک چھانو,,
نہ بانسُری کی دھنیں سناو, ,,
جو سن سکو قہقہوں میں تم میری آہ و زاری , ,
تو میں تمہاری, ,!!
قدم جو رکھوں زمیں پہ اپنے
تو پھول بکھرے ہوں رہگزر میں, ,,,
ہنسی پہ میری نہال ہو کے,
,ہو صدقہ واری, ,
تو میں تمہاری, ,,!!!
نہ لعل و گوہر, ,نہ تختِ شاہی
زمین زیور نہ صدقہ وارو, ,,
غزل کوپڑھ کے جو تم نے میری نظر اُتاری
تو میں تمہاری, ,,!!!!♥️
آ سنگ تو میرے*
*سینے سے لگا کر تجھے سر مست بناؤں*
*تو جھوم اٹھے دیکھ کر دیوانگی میری*
*آ وجد کی حالت میں تجھے رقص دکھاؤ*
🥀محفل ع عشق🖤
کچھ لوگ زمانے میں ایسے بھی تو ہوتے ہیں
محفل میں جو ہنستے ہیں تنہائی میں روتے ہیں
یہ درد کے ٹکڑے ہیں اشعار نہیں ساغر
ہم کانچ کے دھاگوں میں زخموں کو پروتے ہیں
ساغر صدیقی
تمہیں اجالوں کی کتنی ہوس ہے اور ہم سے
سیاہ بختوں کو کچھ دیر کا فسوں بھی بہت
اور اب تو ترکِ تعلق کے دن ہیں ، وحشت ہے
شروعِ عشق میں طاری ہوا جُنوں بھی بہت
کومل جوئیہ
اس لیے دکھ نہیں آتا ہے بتا کر کوئی
گھر جو اپنا ہو تو دستک نہیں دی جاتی ہے
ہجر کے واسطے دل خاص چٌنے جاتے ہیں
عام شعلوں کو ہوا تک نہیں دی جاتی ہے
ضمیر قیس
🥀بات کرلیتے ہیں شاید کوئی حل مل جائے..
آج مشکل ہے تو کہنا مجھے کل مل جائے..
عین ممکن ہے وہ اک روز مجھے کرلے قبول..
عین ممکن ہے مجھے صبر کا پھل مل جائے..
شکستہ, مضمحل رکھا ہوا ہے
محبت نے خجل رکھا ہوا ہے
تجھے تو مان رکھنا تھا ہمارا
مگر تو نے بھی دل رکھا ہوا ہے
اگر دائم نہیں ہوتا ہے کچھ بھی
تو غم کیوں مستقل رکھا ہوا ہے
احمد وقاص
ہر مرض زمانے سے ہو جاۓ اگر رخصت
دنیا میں رہیں گے پر بیمار محبت کے
تم ہاتھ چھڑاؤ گے وہ ہاتھ چھڑا لیں گے
کچھ لوگ تو ہوتے ہیں خوددار محبت کے۔
Comments
Post a Comment