بچے نے میٹرک کر لی ہے، اب سمجھ نہیں آ رہی آگے کونسے مضامین پڑھائیں

*میٹرک کے بعد کیا پڑھیں؟*
Published from Blogger Prime Android App
بچے نے میٹرک کر لی ہے، اب سمجھ نہیں آ رہی آگے کونسے مضامین پڑھائیں؟؟ 
بچی نے اچھے نمبروں سے میٹرک سائنس کے ساتھ پاس کر لی ہے مگر وہ ایف اے میں داخلے کی ضد کر رہی ہے ؟ 
بیٹے نے میٹرک میں کمپیوٹر سائنس رکھی تھی اور آگے بھی کمپیوٹر سائنس پڑھنا چاہتا ہے مگر فزکس کیمسٹری پسند نہیں؟؟ 
ایسے ہی اور بہت سارے مسائل یا تفکرات اگر آپ کو تنگ کر رہے ہیں تو بھئی آج میں اسی سنجیدہ موضوع پر گفتگو کرنے کا ارادہ کئیے ہوئے ہوں جسے سمجھنا ماں باپ اور طلباء دونوں کے لیے ناگزیر ہے. یاد رہے میٹرک تک کا عرصہ طلباء کی بنیاد ہوتا ہے، اس عرصے میں وہ بہت کچھ سیکھتا ہے اور اپنی دلچسپی کا پتا لگانے کی کوشش کرتا ہے لیکن انٹرمیڈیٹ کے دو سال اُس کے لیے بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ طے کرتے ہیں کہ آیا وہ سکول ٹیچر بنے گا یا کمپیوٹر آپریٹر، ڈاکٹر بننے کے لیے کسی اچھے میڈیکل کالج میں داخلہ لے پائے گا یا پھر کسی نامی گرامی یونیورسٹی میں انجینئرنگ میں سیٹ حاصل کرے گا وغیرہ وغیرہ. ہمارے ہاں دو طرح کے پائے جاتے ہیں، ایک تو وہ جو پڑھے لکھے نہیں ہوتے (عموماً لوئر مڈل کلاس) وہ اس چیز میں دلچسپی لیتے ہی نہیں کہ اُن کے بچے نے میٹرک میں کیا پڑھا ہے، انٹر میں کیا پڑھ رہا ہے اور کیوں پڑھ رہا ہے، انہیں بس یہ فکر ہوتی ہے کہ میٹرک کرے یا زیادہ سے زیادہ انٹر کرے اور کوئی نوکری لے کر اپنی زندگی "سنوار" لے. جبکہ دوسری طرح کے وہ ماں باپ ہوتے ہیں جو پڑھے لکھے ہوتے ہیں، اس چیز کا نقصان بچوں کو یہ ہوتا ہے کہ ماں باپ اُن پر اپنی پسند مسلط کرنے لگتے ہیں کہ جی "ناصر انکل کے بیٹے نے پری انجینئرنگ کر کے A+ گریڈ لیا تھا اب NUST سے کیمیکل انجینئرنگ کر رہا ہے ، لہٰذا تم بھی وہی کرو گے"، کسی کی امی پڑھی لکھی ہے تو کہے گی " میری کولیگ بلقیس کی بیٹی نے آخری سال 90 فیصد نمبر لئیے تھے پری میڈیکل میں سے، اب اُس کا داخلہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں ہوگیا ہے، تم بھی (Fsc (pre-medical ہی کرو گی"


سچ کہوں تو ایسے دونوں طرح کے والدین ہی بچوں کے مستقبل کے لیے "ہنی کارک" ہیں، اس کی بجائے ایسے والدین ہونے چاہیے جو بچوں کو خود رہنمائی نہیں دے سکتے تو کم از کم اُسے کسی سیانے پڑھے لکھے بندے یا استاد سے ملوائیں جو مضامین یا پروگرام کے انتخاب میں اُس کی رہنمائی کر سکے. اگر آپ پڑھے لکھے والدین ہیں تو اپنی خواہشات اپنی اولاد کے سامنے رکھیں ضرور مگر تھوپیں مت، وہ موم کے گُڈے نہیں کہ جدھر آپ موڑیں گے مُڑ جائیں گے، اس لیے انہیں لوگوں کے بچوں کی مثالیں دینا بند کریں، نہ تو تمام لوگ اتنے ذہین ہوتے ہیں نہ ہی تمام لوگوں کو ایک جیسے وسائل میسر ہوتے ہیں. اس موضوع پر کہنے کو بہت کچھ ہے، پھر کبھی سہی! فی الحال ہم میٹرک کے بعد انٹر میں پڑھائے جانے والے مختلف مضامین اور پروگرامز کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں….. 
میٹرک کے بعد پڑھائے جانے والے مشہور کورسز 5،6 ہیں میں کوشش کرتا ہوں کہ ان کی تھوڑی تھوڑی وضاحت اور تعارف کروا سکوں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ یا آپ کا بیٹا/بیٹی کسی ان میں سے کسی کورس میں داخلہ لیں تو کسی Subject Specialist سے رابطہ کیجئے ،وہ آپ کو یقیناً بہترین معلومات فراہم کرے گا، رہنمائی بھی کرے گا، اور سکوپ سے بھی آگاہ کرے گا. تو چلئیے شروع کرتے ہیں! 
1- انٹرمیڈیٹ Fsc
جن طلباء نے میٹرک میں سائنس پڑھی ہوتی ہے وہ Fsc کر سکتے ہیں، شکر ہے کہ طلباء کی سہولت کے لیے اس میں دو طرح کے پروگرامز آفر کئیے جاتے ہیں. اگر آپ کسی بھی پرائیویٹ کالج کا رُخ کرتے ہیں تو وہاں کے تقریباً 60 سے 70 فیصد طلباء Fsc کر رہے ہوتے ہیں، اُن میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو انٹرمیڈیٹ کے بعد کسی میڈیکل کالج یا انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لے پاتے ہیں ورنہ کچھ تو Fsc میں اوکھا سوکھا پاس ہو کر یا ایک دو سپلیاں لے کر ابا کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹانے لگتے یا پھر کچھ میری طرح کسی بھی جگہ داخلہ نہ مل سکنے پر کسی کم میرٹ والے آرٹس سبجیکٹ میں داخلہ لے لیتے ہیں. دراصل میں چاہتا ہوں کہ یہ Fsc فیشن اب بند ہو جائے، لوگ دیکھا دیکھی اور خود کو لائق فائق ظاہر کرنے کے لیے ایف ایس سی میں داخلہ لینا بند کریں اور آرٹس کے مضامین کے علاوہ دوسرے شعبوں میں بھی قدم رکھیں. مجھے جب بھی Fsc والا وقت یاد آتا ہے تو بہت دُکھ لگتا ہے کہ جو اتنی محنت کر ڈالی تھی مساواتوں کو رٹنے، الجبرے کو کرنے اور قوانین یاد کرنے میں اگر اس سے آدھی بھی FA میں کر لیتا تو اچھے نمبر آ جاتے، خیر ایف ایس سی کے کورسز ملاحظہ فرمائیں. 
👈 ایف ایس سی (پری میڈیکل) 
میٹرک میں بائیولوجی پڑھنے والے طلباء جو آگے چل کر ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں یا کسی بھی میڈیکل فیلڈ میں جانا چاہتے ہیں تو وہ پری میڈیکل پڑھتے ہیں. عموماً بائیولوجی پسند کرنے والے طلباء کو ریاضی پسند نہیں ہوتی اسی لیے اس کورس میں ریاضی کا نام و نشان نہیں ہوتا، بلکہ اس میں میجر مضامین بائیولوجی، کیمسٹری، اور فزکس ہوتے ہیں جبکہ جنرل مضامین اردو، انگریزی، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان ہوتے ہیں. اگر آپ نے ڈاکٹر بننے کے لیے پری میڈیکل میں داخلہ لے لیا تھا اور پھر MCAT پاس نہ ہونے کے سبب داخلہ نہیں ہوا تو خودکشی کرنے سے قبل گوگل پر چیک کر لیں اور بھی بہت ساری میڈیکل کی فیلڈز ہیں جو پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں، اُس جانب رُخ کر جائیں کوئی بات نہیں زندگی ہے ، سب چلتا ہے….. 
👈 ایف ایس سی (پری انجینئرنگ) 
میٹرک سائنس کے ساتھ کرنے والے اکثر طلباء اس پروگرام کی طرف رُخ کرتے ہیں، بدقسمتی سے میں نے بھی یہی کی تھی اور ابھی تک کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوتا ہے. اس میں تمام مضامین پری میڈیکل والے ہی ہوتے ہیں مگر فرق یہ ہوتا ہے کہ اس میں بائیو لوجی کی جگہ میتھمیٹکس (ریاضی) لے لیتی ہے. اس کے بعد انجینئرنگ کے علاوہ بھی بہت آپشن ہوتے ہیں، چونکہ آپ کیمسٹری بھی پڑھتے ہیں اس لیے کیمیکل انجینئرنگ بھی کر سکتے ہیں، یہ سہولت پری میڈیکل والوں کے لیے بھی ہے. 

2- انٹرمیڈیٹ ICS
یہ پروگرام بھی بہت مقبول ہوتا جا رہا ہے کیونکہ آنے والا زمانہ ٹیکنالوجی کا ہے اور کمپیوٹر پڑھنے والے تمام طلباء ICS میں ہی داخلہ لیتے ہیں. اگر آپ نے شوخی مارنے کے لیے ہی سائنس پڑھنی ہے تو ایف ایس سی کی بجائے یہ زیادہ بہتر رہے گی، کیونکہ اس پروگرام میں کیمسٹری جیسے بلا سے چھٹکارہ مل جاتا ہے اور آپ کو وہ منحوس مساواتیں اور قوانین پڑھنے سے چھٹکارہ مل جاتا ہے. کہا جاتا ہے کہ کمپیوٹر اور ریاضی کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اس لیے آئی سی ایس کے دونوں سال میں ریاضی ہوتی ہے اور بالکل وہی ریاضی پڑھائی جاتی ہے جو ایف ایس سی والوں کو پڑھائی جاتی ہے. اس میں بھی دو طرح کے پروگرامز ہوتے ہیں. 
👈 آئی سی ایس (فزکس) 
اس پروگرام میں تمام مضامین ایف ایس سی پری انجینئرنگ والے ہوتے ہیں سوائے ایک مضمون کے، یعنی کیمسٹری کی جگہ کمپیوٹر ہوتی ہے باقی سارے وہی مضامین ہوتے ہیں. اس کی بجائے ICS کا دوسرا پروگرام مجھے نسبتاً آسان معلوم ہوتا ہے، اس کی وجہ وہیں ملاحظہ فرمائیں. 
👈 آئی سی ایس (شماریات) 
یہ کورس بہت دلچسپ ہوتا ہے، کیمسٹری تو ویسے بھی نہیں ہوتی، اور اس میں آپ فزکس کو بھی کِک مار دیتے ہیں اور اس کی بجائے شماریات یعنی Statistics پڑھتے ہیں. چونکہ stat بھی ریاضی کی طرح ہی ہوتی ہے اور کمپیوٹر میں دلچسپی رکھنے والوں کو ریاضی پہلے سے پسند ہوتی ہے اس لیے یہ پروگرام ان کے لیے بالکل دلچسپی کے مطابق ہوتا ہے. 

3- انٹرمیڈیٹ FA
میٹرک چاہے سائنس کے ساتھ کی ہو یا آرٹس کے ساتھ، آپ کو FA میں داخلہ مل سکتا ہے. بہت سارے طلباء و طالبات صرف اس لیے ایف اے میں داخلہ لینے سے کتراتے ہیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں یہ تو نالائق سٹوڈنٹس کے لیے ہے جن کے میٹرک میں 5،6 سو نمبر ہوتے ہیں. جبکہ ایسا نہیں ہے، یہ ایک بہترین پروگرام ہے اور دوسرے پروگرامز کی نسبت آسان بھی ہے جسے پڑھ کر آپ نہ صرف نارمل محنت سے اچھے نمبر لے سکتے ہیں بلکہ اس کے بعد اچھی اچھی یونیورسٹیوں میں آپ کو آرٹس پروگرام میں داخلہ بھی مل سکتا ہے. اس میں بھی جنرل مضامین وہی Fsc والے ہی ہوتے ہیں مگر دوسرے مضامین میں انتخاب کے لیے کافی چوائس ہوتی ہے، مثلاً آپ چاہیں تو سائیکالوجی، انگریزی لٹریچر، اور اکنامکس وغیرہ کو چُننے کا اختیار رکھتے ہیں. آپ کو ایک فیکٹ بتاتا چلوں کہ سرگودھا یونیورسٹی میں BS English کا میرٹ کچھ اس طرح بنتا ہے :
انٹرمیڈیٹ میں حاصل کردہ نمبر + دونوں سالوں میں انگریزی (Compulsory) میں حاصل کردہ نمبر = ٹوٹل نمبر
جبکہ اگر آپ نے ایف اے میں انگریزی (Compulsory) کے علاوہ انگریزی لٹریچر (اختیاری) بھی پڑھتے ہیں تو BS English کے لیے سرگودھا یونیورسٹی میں آپ کا میرٹ کچھ یوں بنے گا :
انٹرمیڈیٹ میں حاصل کردہ نمبر + دونوں سالوں میں انگریزی (Compulsory) میں حاصل کردہ نمبر + دونوں سالوں میں انگریزی لٹریچر (اختیاری) میں حاصل کردہ نمبر = ٹوٹل نمبر
تو ہے نا زبردست بات؟ اس کے علاوہ اار بھی بہت فائدے ہیں، میری مانیں آپ FA کر کے تو دیکھیں…… 

4- انٹرمیڈیٹ I. Com & D. Com
اگر آپ کو بینکنگ اور بزنس وغیرہ وغیرہ میں دلچسپی ہے یا آپ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سوٹ اور ٹائی لگا کر افیسر بابو بن کر بیٹھنا چاہتے ہیں تو یہ فیلڈ آپ کے لیے ہے، اس میں طلباء کو معاشیات، تجارت اور بزنس وغیرہ کے متعلق پڑھایا جاتا ہے. مجھے اس کے متعلق زیادہ علم نہیں ہے اس لیے میں یہی مشورہ دوں گا کہ اگر آپ کو اس فیلڈ سے دلچسپی ہے تو کسی ماہرِ مضمون سے مشورہ کیجئے اور داخلہ لیجیے… 

اس کے علاوہ کچھ ڈپلومے بھی کروائے جاتے ہیں مگر میرا علم اس کے متعلق نہ ہونے کے برابر ہے. اس آرٹیکل میں یہی کچھ تھا، اگر پسند آئے تو رائے ضرور دیجئے گا. میں نے اپنے محدود علم کو استعمال کر کے یہ آرٹیکل لکھا ہے اس میں اگر کوئی غلطی ہو یا کچھ فیکٹ رہ گیا ہو تو اس کا ازالہ کمینٹ میں کر دیجئے تا کہ کوئی طالب علم Misguide نہ ہو، بہت شکریہ….
*گروپ میں پوسٹ کم کی جاتی ہے تاکہ تمام ممبران غور سے پڑھ اور اس پر عمل کر سکیں*
*ہر گروپ کا اپنا حساب ہوتا ہے
*ہر ایڈمنز کا اپنا ٹائم ہوتا ہے*

ہر ایڈمنز کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے

*یہ ایک اسلامی  اصلاحی و معلوماتی گروپ ہے اور اس کا آغاز اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرنے کی نیت کی گئی ہے*
*اگر بے حیائی اور گناہوں بھرے گروپ میں چار چار ہفتے بھی کوئی پوسٹ سینڈ نہ کی جائے تو ایک تعداد ہے جو لیفٹ نہیں کرتی کیونکہ وہاں اس چیز کی طلب ہوتی ہے جس کا نقصان ہی نقصان ہے فائدہ نہیں*
*اگر اسلامی گروپ میں ایک بھی اچھی پوسٹ گروپ میں بھیجی جائے تو سمجھدار اور دین کی قدر کرنے والوں کو کافی یے
اور اگر 50 بھی پوسٹیں بھیجی جائیں تو جو ایک اچھے اور گناہوں سے پاک گروپ کی قدر نہیں کرتا وہ کبھی بھی
علم دین حاصل نہیں کر پائے گا
تو آپ سب سے گزارش ہے کہ جب *آپ گروپ میں ایڈ ہوتی ہیں تو سوچ سمجھ کر ہوا کریں یہ
*آپ نہیں جانتی کہ نیکی کی دعوت دے کر کہاں کہاں سے  ممبرز ایڈ کرتی ہیں*
صرف اسی لیے کہ گناہوں سے بچتی رہیں

*اب بھی کچھ نہ سمجھیں تو آپ کی مرضی نہیں تو کوئی ذور نہیں مجبوری نہیں
بس یہ یاد رکھنا

*ہم اسلام کی محتاج ہیں اسلام ہمارا محتاج نہیں

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا