بھنس کا تعلق ونڈے سے نہیں بلکہ دریا کے ڈیلٹا سے وجود میں آئے
بھینس کا تعلق ونڈے سے نہیں بلکہ دریا کے ڈیلٹا سے وجود میں آئے نیلی بار اور ساندھل بار کے قدرتی جنگلات سے ہے جو اب ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نظر ہو کر تقریباً معدوم ہو چکے ہیں۔ رانجھے نے کبھی انہی جنگلات میں مجھیں چرائیں اور پھر دامودار کے قلم سے قرطاس پر امر ہوا۔

نیلی بار ساھیوال، پاکپتن اور اوکاڑہ وغیرہ پر مشتمل دریائے ستلج اور راوی کا درمیانی علاقہ ہے۔ بار 🍻 انگریزوں والا نہیں بلکہ بار کے معنی جنگل کے ہیں۔ نیلی بار کی بھینس بہت مشہور ہے اور نہری نظام آنے سے قبل نیلی کا سارا علاقہ گھنا جنگل ہوا کرتا تھا جسمیں یہ بھینسیں چرا کرتی تھیں۔ نیلی کی بھینس کی کھال پتلی، جسم سڈول اور کھچا ہوا جبکہ بوتھی اور سر پتلا، سینگ کڑے کی طرح گول اور ناف نہیں ہوتی۔
ساندھل بار دریائے راوی اور چناب کے درمیانی علاقے کو کہتے ہیں۔ یہ فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، تاندلیانوالہ اور جڑانوالہ وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اس بار کی بھینس کو راوی بھینس کہتے ہیں جو یہاں کے جنگلات میں چرا کرتی تھی۔
رفتہ رفتہ یہ وائلڈ فاریسٹ یعنی بار ختم ہوتے چلے گئے، پھر بریڈ یعنی نسل کو مینٹین رکھنے میں ہم ویسے ہی بڑے کوڑھ ثابت ہوے ہیں۔ تو نیلی اور راوی کی بھینسیں ایک دوسرے کے قریب آتی چلی گئیں اور آپس میں کراس ہو ہو کر نیلی راوی نامی نئی نسل وجود میں آ گئی۔
آج اس سارے علاقے میں آپکو نیلی راوی بھینس ہی مليگی۔ خالص نیلی یا خالص راوی ملنا بہت مشکل ہے۔ آپکو یہ سن کر شائد خوشگوار حیرت ہو کہ یہاں سے بھینسیں چائنہ، بھارت اور سری لنکا وغیرہ میں ایکسپورٹ بھی ہوتی ہیں۔ یہ جانور یہاں کا نیٹیو یعنی مقامی ہے اور اسنے انہی پنج دریاؤں کی سرزمین سے جنم لیا ہے۔ اگر اسے ہم سمبھال لیں، اِسکی اچھی بریڈنگ کریں تو ایک دن یورپ کی ہولسٹاآئن فریزین، یا برطانوی جرسی گائيوں کی طرح یہ بھی ہمیں بیشمار ڈالر کما کر دے سکتی ہے۔۔۔۔
ڈیری فارمنگ ۔۔۔۔
Comments
Post a Comment