ویسے کیا گھٹیا سی شے ہے یہ تمنا کا فریب آپ جیسوں کو بھی ہم جیسے ترس جاتے ہیں

اور کیا ہو گا بھلا سینے میں دل کا مصرف؟ 
بس اِسی واسطے رکھا ہے کہ دُکھایا جائے!
Published from Blogger Prime Android App
عبدالحمید عدم!
ویسے کیا گھٹیا سی شے ہے یہ تمنا کا فریب
آپ جیسوں کو بھی ہم جیسے ترس جاتے ہیں

~شبیر حسن 🩶

Shabbir Hassan
عجیب طرزِ اداسی ہے سوگواری ہے
کہ جیسے یار ملے اور مل کے مر جائے 

طاہر تنولی
مجھے جتنے بھی لوگوں نے دھوکہ دیا، 
کسی نے مجھ سے اتنا جھوٹ نہیں بولا 
جتنا میں نے خود سے بولا ......  
جب سے میں نے خود کو جانا ہے، 
میں خود کو یہی کہتا آیا ہوں کہ 
میں بدل جاؤں گا .......
جب میں جاگوں گا ........
میں بےشمار بار جاگا، مگر میں کبھی نہیں بدلا .....
 کیا اس ایک کی طلب چھوڑنا آسان ہے؟ 
جس کو آپ نے بخشش کی راتوں میں بھی مانگا ہو 💜
 فدا ھے یہ دل اسی بات پہ کے وہ!!! 
چھڑکتے نہیں 'جان' پر کہتے تو ہیں.

 عجیب کرب میں گزری، جہاں جہاں گزری
اگر چہ  چاہنے  والوں  کے   درمیاں  گزری 

تمام    عمر    جلاتے    رہے   چراغِ    امید
تمام   عمر   امیدوں   کے   درمیاں   گزری

گزر گئی جو  ترے   ساتھ  یادگار  رہی
ترے  بغیر  جو  گزری ، وبالِ  جاں  گزری

مجھے   سکون میّسر  نہیں تو کیا غم  ہے
گلوں کی عمر تو کانٹوں کے درمیاں گزری

عجیب  چیز ہے محسن  یہ گردشِ  حالات
کبھی زمِیں  تو کبھی  مثلِ  آسماں  گزری

محسن نقوی
ہم سے تھوڑی دیر یُونہی بس ہاتھ پکڑ کر بات کرو 
ہم کو تھوڑی دیر خدارا خوش فہمی میں رہنے دو
 عجیب دکھ ہے ہواؤں کے تازیانوں میں 
چراغ بجھنے لگے شہر کے مکانوں میں

مری صداؤں پہ پہرہ لگانے والے سن 
مرا سکوت بھی چیخے گا تیرے کانوں میں 

کرے گا کون محبت پہ گفتگو ان سے 
 ہیں زہر ذائقے احباب  کی  زبانوں  میں

افق پہ میری اداسی کے رنگ پھیلتے  دیکھ 
بکھر گئے ہیں  مرے زخم   آسمانوں میں 

تمام شہر جسے آنکھ میں لیے ہوئے ہے 
وہ شخص بھی تھا کبھی میرے میزبانوں میں 

کٹے پروں سے اڑی ہوں تو انگلیاں نہ اٹھا 
تمہارا ہاتھ نہیں ہے مری اڑانوں میں 

کسی میں کیسے کھلے میری شاعری کا فسوں 
مری غزل ہے مری ذات کے جہانوں میں

مرے وجود سے انکار کرنے والے شخص 
میں مانگتی رہی ہو تجھ کو آستانوں میں 

سعدیہ صفدر سعدی
حسین شخص !
تمہاری خوشبو نے کتنی تتلیوں کو گمراہ
کر رکھا ہے
کتنے گلاب تمہارے عشق میں
محوِ رقصاں ہیں
خدارا !
ان گلستانوں سے اب
ہماری بستی کو سدھارو
عین ممکن ہے کہ یہاں
کئ بوسیدہ روحیں تمہاری خوشبو سے
جی اٹھیں..!!
وُہ  تو خُوشبُو  ہے  میں بِکھر  جائے گا
مسئلہ   پُھول   کا   ہے   پُھول  کِدھر  جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے بَھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ  رگِ  جاں  میں  اُتر  جائے  گا

وُہ  ہَواؤں  کی  طرح  خانہ  بجاں  پِھرتا  ہے
ایک  جھونکا  ہے،  جو  آئے  گا،  گُزر جائے گا

وُہ جب آئے گا تو پِھر اُس کی رفاقت کے لئے
موسمِ  گُل  مِرے  آنگن  میں  ٹھہر  جائے  گا

آخرش وُہ بھی کہِیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا  یہ  پیار  بھی  دَریا  ہے ،  اُتر  جائے  گا

مُجھکو  تہذیب  کے  بَرزخ   کا   بنایا  وارث
جُرم  یہ  بھی  مِرے  اجداد کے سَر جائے گا

شاعرہ : پروین شاکر
مجموعہ کلام : (خُوشبُو)
میں نے اسے فون کیا تھا
میں نے اسے فون کیا تھا

میں کراچی ا رہا ہوں
کیا پھر ہم وہیں ملیں گے

جہاں اخری بار ملے تھے
اس نے کہا ہاں

سمندر کنارہ ؟چاندنی رات۔ تیز ہوا
ہم دونوں وہیں ملیں گے پھر ہوا بھی یوں

کہ ہم دونوں سمندر کنارے
گیلی ریت پہ ننگے پاؤں چل رہے تھے

میں نے پوچھا
اے گیلی ریت پہ ننگے پاؤں چلنا کیسا لگتا ہے ہاتھ تھام کے بولی ایسا لگتا ہے

بس اب کچھ اگے نکل گئے تھے
پانی کی ایک لہر سی ائی

پیروں تلے سے ریت سرکی
ڈر کے مارے میرے بازو سے
لپٹ گئی تھی

میں نے پوچھا گیلے ریت پہ ننگے پاؤں چلنا کیسا لگتا ہے

اس نے میرے دل پہ ہاتھ رکھا
اور ہلکی سی دستک دے کے بولی
ایسا لگتا ہے

اور ہم اس سمندر کنارے
تیز ہوا چاندی رات

چاند کو دونوں دیکھ رہے تھے
پھر ایک بڑی پانی کی لہرائی

جس میں دونوں بھیگ گئے تھے
ڈر کے مارے اس نے پکڑا مجھے

اور کچھ لمحے بعد
میری انکھوں میں دیکھ کے بولی

محسن رضا اب تو ہی بتا
میرے ساتھ گیلی ریت پہ چلنا کیسا لگتا ہے

میں نے پہلے چاند کو دیکھا
پھر اس کو دیکھا
اور کہا میرا چاند میرے بس میں ہے
کچھ ایسا لگتا ہے
 مجھے وہم تھا تِرے سامنے ، نہیں کھل سکے گی زباں مِری
سو حقیقتاً بھی وہی ہُوا ، مِری بات بیچ میں رہ گئی
میں چاہتا ہوں تمہاری کی گئ زیادتی کہ بارے لکھوں مگر ہر بار دل میں درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں یہ تیرے خلاف غداری نہیں کرتا".
شُعورِ غَم ھے , مَگر شِکوہ سِتم تو نَہیں !
وہ اور ھوگا کوئی بَیقرار , ھَم تو نَہیں۔۔

جُدا ھُـوا ھے تو , پِھر جان کی امان نہ دے !
تِرے بَغیر جِیئیں , ھَم میں اِتنا دَم تو نَہیں۔۔

پیر نصیر الدین نصیر
خاص لوگوں پہ عنایت ہے,مجھے وہ بھی نہیں؟
وہ جوہراک کی ضرورت ہے مجھےوہ بھی نہیں؟
 
کوئی وابستگی  رکھوں ہی کسی سے کیونکر
 مجھ سے دنیا کو شکایت ہے مجھے وہ بھی نہیں

وہ گلے تجھ کو لگائیں تری آنکھیں چومیں 
یعنی اوروں کو اجازت ہے, مجھے وہ بھی نہیں ؟

 کوئی بھی فیصلہ لے سکتے ہو اپنے بارے
 تم کو اتنی تو سہولت ہے  مجھے وہ بھی نہیں 

جیسی اب ہو گئی ہوں ,  ایسی نہیں  تھی پہلے 
مجھ پہ ہر شخص کو حیرت ہے مجھے وہ بھی نہیں 

وہ جو یک طرفہ محبت تھی,  میاں خواب ہوئی
اب تمھیں مجھ سے محبت ہے,  مجھے وہ بھی نہیں 

پہلے حیرت تھی کہ یہ لوگ جئیں گے کیونکر 
پھر جو مر جانے میں عجلت  ہے مجھے وہ بھی نہیں
 
 فرح گوندل
آخر  کار  ترا دُکھ  مِرے سینے سے  لگا
آرزو تھی مِرے شانے پہ کوئی سر رکھّے

سعید شارق 🩶
 یہاں خواب راحت فریب یقیں ہے
نہ تم سو رہے ہو نہ ہم سو رہے ہیں

ساغر صدیقی
میں روزہ دار, نو عمر رمضانِ اولیں
تو آخری عشرے کی کوئی دلنشیں دعا

رزبؔ تبریز
 دل دے بارے ولا سچیندے ہیں..
کجھ نکھیڑے دی دھوڑ بہہ آوے 

سلیم طاہر قیصرانی🤎
ستارے دیکھنے والے ہمیں بتاتے ہیں
ہمارے ہونٹ تمہاری جبیں کو ترسیں گے !

حسیب الحسن ❤️
ہر ایک گھر کو یونہی گھور کر گزرتے ہیں
برا نہ مان کہ ہم بے گھروں کی عادت ہے 

لاریب کاظمی
 وہ زمانہ بھی تمہیں یاد ہے تم کہتے تھے
دوست دنیا میں نہیں داغؔ سے بہتر اپنا

*داغؔ دہلوی*
تمام لوگ بہت خوب، اپنی مستی میں ہیں
میں کس سے بولوں مِرے لوگ مَر گئے افکار

وہ مجھ پہ غور کرے گا تو مجھ سے پوچھے گا
کہ آدھے آدھے ہو آدھے کِدھر گئے افکار

افکار علوی
AFkar ALvi
 پوری آواز سے اک روز پکاروں تجھ کو
اور پھر میری زباں پر ترا تالا لگ جائے

ظفر اقبال
یہ مِرا کام ہے ، میری فطرت سمجھ ! مجھ پہ غصہ نہ ہو
عیب کیسے چُھپاؤں تِرے ؟ آئینہ ہوں ، سمندر نہیں 

افکار علوی
AFkar ALvi

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا