جومیرے نام کے سارے حروف چومتا تھا اسی نے مجھ سے کہا ہے دکھائی مت دینا
جو میرے نام کے سارے حروف چومتا تھا
اسی نے مجھ سے کہا ہے دکھائی مت دینا
خالد ندیم شانی

صحرا کوں آباد تاں کیتی بیٹھے ہاسے
ہونڑیں تیکوں یاد تاں کیتی بیٹھے ہاسے
کجھ مجبوریں ساکوں مرنڑ توں ہَٹکیے ورنہ
فیصلہ تیڈے بعد تاں کیتی بیٹھے ہاسے
تیڈا مِلنڑ مُستقبِل دے چِنتے ڈے گئے
ماضی کوں برباد تاں کیتی بیٹھے ہاسے
ول کیوں ساکوں حصے دی خیرات نئیں ملی
اساں وی فریاد تاں کیتی بیٹھے ہاسے
کئی بندیں کوں ڈکھ توں کڈھ کے اساں عارض
اللہ دی امداد تاں کیتی بیٹھے ہاسے
سجاد عارض
خمیرِ حضرتِ آدمؑ کو گوندھنے والے
تمہاری موت یتیمی ہے آدمی کے لیے
اصغر مودّتی
سانس لینا بھی مدد گار نہیں ہوتا ہے
ہجر ورنہ کوئی آزار نہیں ہوتا ہے
لوگ آتے ہیں کئی دل میں ، چلے جاتے ہیں
اس زمیں کا کوئی حق دار نہیں ہوتا ہے
یہ تو عادت ہے فقیروں کو دعا کرنے کی
دینے والوں سے ہمیں پیار نہیں ہوتا ہے
ہر نئے لمس کی تاثیر الگ ہوتی ہے
دل کسی زخم سے بے زار نہیں ہوتا ہے
چاہتا ہوں کوئی الزام تراشی نہ کرے
مسکرانا مجھے دشوار نہیں ہوتا ہے
لوگ مفلوج کو بے جان سمجھ لیتے ہیں
ورنہ گریہ کوئی اظہار نہیں ہوتا ہے
جو بھی ملتا ہے اسے درد سنا دیتا ہوں
مفلسی کا تو یہ معیار نہیں ہوتا ہے
ہم غریبوں کے مسائل میں اضافے کے لیے
عید جیسا کوئی تہوار نہیں ہوتا ہے
نی٘ت ِ عشق ذرا سوچ کے ہی باندھ ضمیر
یہ وہ روزہ ہے جو افطار نہیں ہوتا ہے
ضمیر قیس
ترا اصرار سر آنکھوں پہ تجھ کو بھول جانے کی
میں کوشش کر کے دیکھوں گا مگر وعدہ نہیں کرتا
جمال احسانی🩷
: یہ کس مقام پہ ہم ایک دوسرے سے ملے
مجھے یقیں بھی گماں سا دکھائی دیتا ہے
ستم تو یہ کہ ہزاروں کی بھیڑ میں مجھ کو
کہیں کہیں کوئی اپنا دکھائی دیتا ہے
میں اپنی ذات کی اُلجھن بھی آئنے سے کہوں !
سُخن کا ایک ہی رستا دکھائی دیتا ہے
مبشر سعید
Comments
Post a Comment