تھی تمہی کو ہم بسر کرتے تھے اور دن ماپتے تھے ہمارا وقت اچھا تھا گھڑی ہوتی نہیں تھی
، جب تک تو نہیں تھا
غلط ترتیب تھی اور ٹھیک بھی ہوتی نہیں تھی

گزارے جا رہے ہیں عمروں پر عمریں غضب ہے
ہم ایسے لوگ جن سے شام بھی ہوتی نہیں تھی
شاہین عباس
: گھروں سے ہو کے آتے جاتے تھے، ہم اپنے گھر میں
گلی کا پوچھتے کیا ہو، گلی ہوتی نہیں تھی
مرا اندازہ تھا بس ایک میں ہوں، ایک تم ہو!
مرے اندازے سے دنیا بڑی ہوتی نہیں تھی
تم اتنا وقت دیتے تھے ہمیں اور سچ تو یہ تھا
تمہیں دنیا بنانے کی پڑی ہوتی نہیں تھی
شاہین عباس
دیا پہنچا نہیں تھا آگ پہنچی تھی گھروں تک
اور ایسی آگ جس سے روشنی ہوتی نہیں تھی
تمہی کو ہم بسر کرتے تھے اور دن ماپتے تھے
ہمارا وقت اچھا تھا گھڑی ہوتی نہیں تھی
شاہین عبّاس
: ہم نے فریبِ یار میں سو بار اپنا آپ
برباد کر کے پھر سے سنوارا ! کہ اب نہیں ۔
: دانستہ مجھ آوارہ سے ٹکرا کے یہ دنیا
کہتی ہے کہ اندھے ہو دکھائی نہیں دیتا
: اک یقیں پرور گماں اور اک حیات آمیز خواب
جیسے کوئی آئے گا اور الجھنیں لے جائے گا
: ہمیں تلاشنے والے ، اِدھر اُدھر نہ بھٹک
یہیں کہیں پہ تِرے دل کے دائیں بائیں ہیں
: امید پرسش غم کس سے کیجیے ناصرؔ
جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے
ناصر کاظمی
*سوچ، اطوار ، سبھی ڈھنگ بدل جاتے ہیں*
*لوگ، لوگوں سے ملیں لوگ بدل جاتے ہیں*
*مجھ کو رنگوں کی طرح لگتی ہے دنیا ساری*
*رنگ ، رنگوں میں ملیں رنگ بدل جاتے ہیں*
*اتباف ابرک*
: تازہ غزل
ایسا نہیں کے عشق میں سختی نہیں ملی
پر جتنی قیس کو ملی اُتنی نہیں ملی
تُجھ کو ترے مزاج کا لڑکا نہیں ملا
مجھکو مرے مزاج کی لڑکی نہیں ملی
بدبخت مر گیا ہے اِدھر تیری آس میں
اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ چھٹی نہیں ملی
مالک وہ کہہ رہا تھا بڑی بھوک تھی مجھے
مالک وہ کہہ رہا تھا کہ روٹی نہیں ملی
جب تک ادھورا شعر مکمل نہیں ہوا
تب تک ہمارے دل کو تسلی نہیں ملی
آخر کوئی تو بات ہے کچھ مختلف تو ہے
حسام بلندی تمہیں یونہی نہیں ملی
حمزہ حسام
Comments
Post a Comment